مسلم لیگ (ق) کا اختلافات وزیراعظم کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2019

ای میل

مسلم لیگ (ق) وفاق اور پنجاب میں تحریک انصاف کی اتحادی ہے — فوٹو: ڈان اخبار
مسلم لیگ (ق) وفاق اور پنجاب میں تحریک انصاف کی اتحادی ہے — فوٹو: ڈان اخبار

لاہور: حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) نے دونوں جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کو وزیرِاعظم عمران خان کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیرِاعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے دونوں جماعتوں کے درمیان معاملات کو بہتر کرنے اور چوہدری برادران کو منانے کی کوشش کی تاہم وہ ناکام ہوگئے۔

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سیکریٹری اطلاعات کامل علی آغا نے ڈان سے بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مسلم لیگ (ق) اور تحریک انصاف کے درمیان اختلافات موجود ہیں، جن میں بدستور اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

انہوں نے اپنی بات کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ اختلافات اس لیے بڑھ رہے ہیں کیونکہ ان کی جماعت کو حکومتی معاملات کے دوران مشاورتی عمل سے دور کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: چیئرمین نیب نے چوہدری برادران کے خلاف ریفرنس بند کرنے کی منظوری دے دی

کامل علی آغا کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی پارٹی نے اپنے اختلافات کو وزیرِاعظم عمران خان کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور مسلم لیگ (ق) کے وفد کی وزیرِ اعظم سے ملاقات کے بعد ہی دونوں جماعتوں کے اتحاد کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جمعہ کو اسپیکر پنجاب اسمبلی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی کی رہائش گاہ کا دورہ کیا تھا۔

اس سے قبل پنجاب کابینہ کے مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے رکن حافظ عمار یاسر نے ان کے سرکاری کام میں تحریک انصاف کے وزرا کی بے جا مداخلت پر اپنی پارٹی کو استعفیٰ پیش کردیا تھا۔

اس معاملے میں وزیرِاعلیٰ عثمان بزدار نے چوہدری پرویز الٰہی سے بات چیت کی تھی اور ان کی جماعت کے رکن کو استعفیٰ واپس لینے کی درخواست کی، تاہم وزیراعلیٰ اپنے حلیف کو منانے میں ناکام رہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'بلاول کو سیاست کیلئے زرداری کے بجائے بھٹو بننا پڑے گا'

کامل علی آغا نے بتایا کہ انہوں نے ملکی مفاد میں تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ الحاق کیا تھا، لیکن ہمیں فیصلہ سازی کے دوران اعتماد میں نہیں لیا جارہا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے قانون سازوں کو اپنے حلقے کے لوگوں کے مسائل حل کرنے میں بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مسلم لیگ (ق) کے رہنما نے شکوہ کیا کہ تحریک انصاف کی جانب سے وعدہ کیا گیا تھا کہ وہ ہمیں پنجاب اور مرکز میں ایک ایک وزارت دیں گے، تاہم ان کی جانب سے وعدہ وفا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اتحادی کی حیثیت سے عزت و اہمیت نہیں دی جارہی، ہم نے ماضی میں بھی اتحاد کیے تھے لیکن اس وقت بھی ایسا امتیازی سلوک دیکھنے کو نہیں ملا جیسا کہ اس حکومت کے دوران مل رہا ہے۔