بھارت نے پاکستان سے سیمنٹ کی خریداری روک دی

اپ ڈیٹ 19 فروری 2019

ای میل

بھارت نے مختلف مصنوعات پر 200 فیصد ڈیوٹی عائد کردی ہے — اے ایف پی/فائل فوٹو
بھارت نے مختلف مصنوعات پر 200 فیصد ڈیوٹی عائد کردی ہے — اے ایف پی/فائل فوٹو

کراچی: بھارتی درآمدکنندگان نے پاکستانی برآمد کنندگان سے بھارت جانے والے کنٹینرز کو مختلف مصنوعات پر 200 فیصد ٹیکس لگنے اور پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر واپس بلانے کا کہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سیمنٹ برآمد کنندہ جنہوں نے اپنے نام نہ ظاہر کرنے کی گزارش کی، کا کہنا تھا کہ ’ہماری صنعت کو بھارتی خریداروں کی جانب سے کنٹینرز واپس بلانے کے پیغامات ملے ہیں جس کے بعد چند برآمد کنندگان نے شپمنٹ واپس بلانے کا آغاز کردیا ہے‘۔

برآمد کنندگان کا کہنا تھا کہ سیمنٹ سے بھرے 600 سے 800 کنٹینر کراچی پورٹ، گہرے سمندر، کولمبو اور دبئی میں موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹیکسٹائل کے علاوہ دیگر مصنوعات کی برآمدات میں 19 فیصد اضافہ

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے سیلاب سے تباہ ہونے والے کیرالا کی بحالی کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے جانے کے بعد سیمنٹ کی برآمد میں مزید اضافہ ہونا تھا جس کی وجہ سے قیمتوں اور مانگ میں اضافہ ہوا تھا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’پلوامہ حملے کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی اور ہماری برآمد بھارت میں اگلی حکومت کے آنے تک خطرے کا شکار ہوگئی ہے‘،

ان کے مطابق پاکستان بھارت کو سالانہ 7 سے 8 کروڑ ڈالر کی سیمنٹ بر آمد کرتا ہے۔

برآمد کنندگان کا کہنا تھا کہ 75 فیصد پاکستانی سیمنٹ کی بھارت بر آمد واہگہ بارڈر کے ذریعے ہوتی ہے جبکہ دیگر سمندری راستے سے کی جاتی ہے، رواں مالی سال کے جولائی سے جنوری کے مہینے کے دوران بھارت کو بر آمدات 6 لاکھ 48 ہزار 108 ٹن رہی جبکہ مالی سال 18-2017 کے درمیان یہ تعداد 10 لاکھ 21 ہزار 200 ٹن تھی۔

آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اے پی سی ایم اے) کے مطابق سیمنٹ کی برآمدات کا آغاز 2008-2007 میں 7 لاکھ 86 ہزار 672 ٹن سے ہوا تھا اور اس کے بعد سے اس میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’رواں سال ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ برآمدات کا ہدف حاصل کرلیں گے‘

پاکستان کی جانب سے بھارت کو سب سے زیادہ برآمدات 2016 سے 2017 کے درمیان سامنے آئی تھیں جس میں 10 لاکھ 25 ہزار 300 ٹن سیمنٹ برآمد کی گئی تھی۔

شجر کیپیٹل (ایس سی) کے مطابق دونوں ممالک میں تجارتی توازن ایک ارب 36 کروڑ ڈالر ہے جو بھارت کے ہی حق میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان نے جوابی رد عمل دیا (ڈیوٹی میں اضافے کی شکل میں) تو اس سے بھارت کا ہی نقصان ہوگا۔

مالی سال 2018 میں پاکستان کی بھارت کو بر آمدات تقریباً 48 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھی جبکہ درآمدات ایک ارب 80 کروڑ ڈالر رہی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان کی 6 سے زائد کمپنیاں بھارت کو سیمنٹ برآمد کرتی ہیں جن میں سب سے زیادہ حصہ ڈی جی خان سیمنٹ اور میپل لیف سیمنٹ کا ہے کیونکہ ان کی سڑکوں کی وجہ سے ٹرانسپورٹیشن کی لاگت کم ہے۔