ایبٹ آباد: کوہستان ویڈیو اسکینڈل کو منظر عام پر لانے والا شخص قتل

اپ ڈیٹ 07 مارچ 2019

ای میل

افضل نے کوہستان ویڈیو اسکینڈل کو پہلے میڈیا اور بعد ازاں عدالت میں منظر عام پر لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا — فوٹو: عمر باچا
افضل نے کوہستان ویڈیو اسکینڈل کو پہلے میڈیا اور بعد ازاں عدالت میں منظر عام پر لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا — فوٹو: عمر باچا

کوہستان ویڈیو اسکینڈل کو منظر عام پر لانے والے مرکزی کردار کو ایبٹ آباد میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔

افضل کوہستانی کو گزشتہ رات 8 بجکر 10 منٹ پر ابیٹ آباد کے سربان چوک پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کیا۔

عینی شاہدین کے مطابق افضل کوہستانی کو متعدد گولیاں لگیں، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

واقعے میں 3 راہ گیر زخمی بھی ہوئے جنہیں علاج کے لیے ایوب میڈیکل کمپلیکس ہسپتال منتقل کیا گیا، جن کی شناخت کلیم اللہ، سعید کرم اور صابر کے ناموں سے ہوئی۔

مزید پڑھیں: کوہستان ویڈیو اسکینڈل: قتل کے 6 ملزمان کو رہا کرنے کا حکم

واقعے کے بعد افضل کوہستانی کی لاش کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال (ڈی ایچ کیو) منتقل کیا گیا جہاں ان کا پوسٹ مارٹم ہوا۔

ایبٹ آباد کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر عباس مجید مروت اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) انویسٹی گیشن عزیز آفریدی نے جائے وقوع پر پہنچ کر تفتیش کا آغاز کیا۔

کینٹ تھانے کے ایس ایچ او غفور کا کہنا تھا کہ واقعے کے وقت افضل اپنے بھتیجے کے ساتھ موجود تھے اور ان کے بھتیجے نے ملزمان پر جوابی فائرنگ کی تھی جبکہ وہ حملے میں محفوظ رہے۔

علاوہ ازیں آئی جی خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد نعیم خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مکمل رپورٹ طلب کرلی۔

کوہستان ویڈیو کیس

خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان کے ایک نوجوان نے 2012 میں میڈیا پر آکر یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان کے 2 چھوٹے بھائیوں نے شادی کی ایک تقریب میں رقص کیا تھا اور وہاں موجود خواتین نے تالیاں بجائی تھیں۔

تقریب کے دوران موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو بعد میں مقامی افراد کے ہاتھ لگ گئی، جس پر مقامی جرگے نے ویڈیو میں نظر آنے والی پانچوں لڑکیوں کے قتل کا حکم جاری کیا اور بعد میں ان لڑکیوں کے قتل کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

یہ بھی پڑھیں: کوہستان ویڈیو کیس: لڑکیوں کو قتل کردیا گیا تھا، سپریم کورٹ میں رپورٹ

قبائلی افراد کی جانب سے ویڈیو میں موجود لڑکوں اور لڑکیوں کو قتل کرنے کے احکامات جاری ہونے کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ نے 2012 میں معاملے پر ازخود نوٹس لیا تھا۔

اس وقت کی وفاقی اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے واقعے کی تردید کی تھی، جبکہ سپریم کورٹ کے حکم پر کوہستان جانے والی ٹیم کے ارکان نے بھی لڑکیوں کے زندہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔

بعد ازاں سپریم کورٹ میں زیر سماعت کوہستان ویڈیو اسکینڈل کے معاملے پر سماجی رضاکار فرزانہ باری نے لڑکیوں کے قتل سے متعلق شواہد پر مبنی دستاویزات اور ویڈیو عدالت میں جمع کرائی تھیں، جس کے مطابق جو لڑکیاں کمیشن کے سامنے پیش کی گئی تھیں وہ ویڈیو میں نہیں تھیں۔

ویڈیو میں دکھائی دینے والے لڑکوں میں سے ایک لڑکے کے بھائی محمد افضل کوہستانی نے قتل سے قبل بذریعہ میڈیا اپنے بھائی کی جان بچانے کی درخواست بھی کی تھی۔

مزید پڑھیں: کوہستان ویڈیو اسکینڈل: 'پانچوں لڑکیوں کو قتل کیا جاچکا ہے'

پشاور ہائی کورٹ نے 28 مارچ 2017 کو کوہستان سیش کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 3 لڑکوں کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث گرفتار ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

خیال رہے کہ کوہستان کی سیشن عدالت نے مکمل ٹرائل کے بعد گرفتار 6 ملزمان میں سے ایک کو سزائے موت اور 5 کو عمر قید کی سزا سنائی تھی اور ملزمان کو 2،2 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

رواں سال 2 جنوری کو کوہستان ویڈیو کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں خیبر پختونخوا (کے پی) کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے انکشاف کیا تھا کہ پولیس نے اپنی تفتیش میں کہا ہے کہ 2011 میں کوہستان میں سامنے آنے والی ویڈیو میں رقص کرنے والی پانچوں لڑکیوں کو قتل کردیا گیا تھا۔

جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ عدالت نے اس وقت تین کمیشن مقرر کیے تھے ان کی کیا رپورٹ تھی، جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ کمیشن کے سامنے جعلی لڑکیاں پیش کرکے کہا گیا تھا کہ کسی کو قتل نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ایک کمیشن میں فرزانہ باری کو بھی شامل کیا گیا تھا، ان کی کیا رائے تھی، جس پر انہیں بتایا گیا کہ فرزانہ باری نے اس رپورٹ سے اختلاف کیا تھا اور اب ثابت ہوگیا ہے کہ ان کا اختلاف درست تھا اور لڑکیاں قتل ہوئی تھیں۔

عدالت عظمیٰ نے ملزمان کے خلاف 10 روز میں چالان پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا تھا کہ مقتولین کے لواحقین اگر چاہیں تو مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں چلانے کی درخواست ہائی کورٹ میں دے سکتے ہے۔