ہراساں کرنے کا الزام، گوگل نے سابق ایگزیکٹو کو ساڑھے 3 کروڑ ڈالر ادا کیے

اپ ڈیٹ 12 مارچ 2019

ای میل

گوگل نے سابق ایگزیکٹو کو 3 کروڑ ڈالر سے زائد ادا کیے — فوٹو : اے ایف پی
گوگل نے سابق ایگزیکٹو کو 3 کروڑ ڈالر سے زائد ادا کیے — فوٹو : اے ایف پی

عدالت کی جانب سے جاری کی گئی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گوگل نے سابق سرچ ایگزیکٹو امیت سینگھال سے استعفیٰ لینے کے بعد انہیں ایگزٹ پیکج کے تحت 3 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کیے۔

خیال رہے کہ ہراساں کرنے کے الزام کی تحقیقات کے بعد گوگل نے سرچ ایگزیکٹو امیت سینگھال سے استعفیٰ لیا تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق گوگل کے خلاف شیئر ہولڈر کی جانب سے کیے گئے مقدمے کے حصے کے طور پر ایگزٹ پیکج کی تفصیلات جاری کی گئی تھیں۔

یہ مقدمہ شیئر ہولڈر جیمز مارٹن نے گوگل کی جانب سے جنسی ہراساں کرنے کے الزامات میں ملوث ایگزیکٹو کو رقم ادا کرنے کے انکشافات سامنے آنے کے بعد کیا تھا۔

مقدمے میں گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کے بورڈ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا گیا کہ اس کے اراکین پر کمپنی کی حفاظت اور اس کے شیئر ہولڈرز کو خطرات اور ان کی شہرت کو نقصان سے بچانے کی ذمہ داری عائد تھی۔

مزید پڑھیں: گوگل کا کروم صارفین کو براؤزر کو فوری اپ ڈیٹ کرنے کا مشورہ

مزید براں مقدمے میں یہ بھی کہا گیا کہ بورڈ نے معاوضہ اداکرنے اور دیگر صورت میں بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنے والے مرد ایگزیکٹوز کا ساتھ دینے کی منظوری دی تھی اور یہ اقدام کمپنی کی شہرت کو اور اسے مالی نقصان جیسے خطرات میں دھکیلنے کے برابر تھا۔

اس سے قبل مقدمے کے حذف کیے گئے حصے گزشتہ روز جاری کیے گئے تھے جس میں الفابیٹ کی بورڈ کمیٹی کی میٹنگ کا حوالہ بھی شامل تھا۔

ایک حصے کے مطابق سرچ کے سینئر وائس پریذیڈنٹ امیت سینگھال جنہوں نے 2016 میں کمپنی چھوڑ دی تھی،انہوں نے ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی دو ادائیگیاں وصول کی تھیں اور علیحدگی کے معاہدے کے تحت 50 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کے درمیان ایک ادائیگی وصول کی تھی۔

اس طرح امیت سینگھال کو ادا کی گئی رقم 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے زائد ہوسکتی ہے۔

امیت سینگھال گزشتہ برس نیو یارک ٹائمز کی جانب سے کی گئی تحقیقات کا ایک موضوع تھے جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ گوگل نے اینڈرائیڈ سافٹ ویئر بنانے پر مامور اینڈی روبن کو کمپنی سے علیحدگی کے معاوضے کے تحت خلاف جنسی حملے کے سنگین الزامات پر 9 کروڑ ڈالر ادا کیے تھے۔

تاہم اینڈی روبن نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

امیت سینگھال نے بھی خود پر عائد الزامات مسترد کیے ہیں، 2017 میں اے پی کو دیے گئے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ ان پر جنسی ہراساں کرنے کے الزامات عائد نہیں کیے گئے تھے اور انہوں نے اپنی شرائط پرگوگل سے علیحدگی اختیار کی تھی۔

گزشتہ روز بھی امیت سینگھال نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔

دی ٹائمز کے مطابق نیویارک ٹائمز نے 3 افراد کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا تھا کہ ایک خاتون ملازم نے دعویٰ کیا تھا کہ کیمپس سے باہر ایک تقریب میں امیت سینگھال نے ان سے بدتمیزی کی تھی۔

بعدا زاں گوگل کی تحقیقات میں خاتون ملازم کے الزام کو قابلِ یقین قرار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل کا اپنا سوشل میڈیا نیٹ ورک بند کرنے کا اعلان

اس سے قبل دی ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ امیت سینگھال کو الوداعی پیکج کے تحت کروڑوں ادا کیے تھے۔

خیال رہے کہ انہوں نے بعدازاں آن لائن ٹیکسی کمپنی گوگل میں ملازمت اختیار کی تھی لیکن صرف 5ہفتے بعد چھوڑ دی تھی۔

اس وقت جاری ہونے والی رپورٹس کے مطابق امیت سینگھال اوبر کمپنی کو یہ بتانے میں ناکام ہوگئے تھے کہ انہوں نے جنسی ہراساں کرنے کے الزامات کی وجہ سے گوگل چھوڑا تھا۔

گوگل نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ گوگل میں نامناسب رویہ رکھنے والے کسی بھی شخص کے خلاف سنگین کارروائی کی جاتی ہے‘۔

کمپنی نے ای میل کیے ایک بیان میں کہا کہ ’ حالیہ چند سالوں میں ہم نے بہت سی تبدیلیاں کی ہیں اور اعلیٰ عہدوں پر براجمان افراد کی جانب سے غلط رویے پر سخت انداز اپنایا ہے‘۔

جیمز مارٹن نے مقدمے میں بورڈ میٹنگز اور ای میلز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ روبن کو کمپنی چھوڑنے سے قبل معاوضے کے میں 15 کروڑ ڈالر دیے گئے تھے۔

مقدمے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ الفابیٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے یہ گرانٹ جاری کیے تھے اور بعد ازاں انہوں نے بورڈ کی منظوری لی تھی۔