کرائسٹ چرچ حملہ: عدالت کا دہشتگرد کے دماغی معائنے کا حکم

اپ ڈیٹ 06 اپريل 2019

ای میل

برینٹن ٹیرنٹ کرائسٹ چرچ ہائی کورٹ میں بذریعہ ویڈیو لنک پیش ہوا— فوٹو: اے پی
برینٹن ٹیرنٹ کرائسٹ چرچ ہائی کورٹ میں بذریعہ ویڈیو لنک پیش ہوا— فوٹو: اے پی

نیوزی لینڈ کی عدالت کے جج نے کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد کے خلاف ٹرائل سے قبل اس کی دماغی حالت کے 2 معائنوں کا حکم دے دیا۔

امریکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق کرائسٹ چرچ ہائی کورٹ کے جج کیمروں مینڈر نے سیاہ فام انتہا پسند کے خلاف سماعت کےدوران حکم جاری کیا تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جاسکے کہ وہ قتل کے مقدمے کا سامنا کرسکتا ہے یا نہیں۔

برینٹن ٹیرنٹ آک لینڈ کی انتہائی حفاظتی جیل کے ایک چھوٹے کمرے سے بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش ہوا۔

مزید پڑھیں: کرائسٹ چرچ حملہ: دہشتگرد پر 50 افراد کے قتل کی فرد جرم عائد کی جائے گی

جج کیمرون مینڈر کا کہنا تھا کہ دماغی حالت کا معائنہ ایسے کیس میں ایک عام سی بات ہے۔

اس حوالے سے وکلا کا کہنا تھا کہ دماغی معائنے کا عمل مکمل ہونے میں 2 سے 3 ماہ کا وقت لگے گا۔

سماعت کے موقع پر جج نے کہا کہ برینٹن ٹیرنٹ پر 50 افراد کے قتل اور 39 افراد کے اقدام قتل کی فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ کرائسٹ چرچ پولیس نے رواں ہفتے مزید الزامات عائد کرنے سے قبل ابتدائی طور پر دہشت گرد کے خلاف ایک قتل کی فرد جرم عائد کی تھی۔

دہشت گرد جب کرائسٹ چرچ کے کمرہ عدالت میں موجود بڑی اسکرین پر نمودار ہوا تو اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگی ہوئی تھی اور اس نے سرمئی رنگ کا سوئٹر پہنا ہوا تھا۔

کرائسٹ چرچ حملے کی دوسری سماعت میں کمرہ عدالت دہشت گرد حملے کے متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا جبکہ حملے میں زخمی یونے والے کچھ لوگ ہسپتال کے لباس میں وہیل چیئر پر بھی موجود تھے۔

برینٹن ٹیرنٹ نے سماعت کے دوران کسی جذبات کا مظاہرہ نہیں کیا، وہ کمرہ عدالت کو دیکھتا رہا یا سر ہلاتا رہا جیسے جو کچھ کہا جارہا ہے اور وہ اسے سن رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ کی فضائیں اللہُ اکبر کی صدا سے گونج اٹھیں

جج نے بتایا کہ برینٹن ٹیرنٹ جج اور وکلا کو دیکھ سکتا ہے لیکن پبلک گیلری میں بیٹھے افراد کو نہیں دیکھ سکتا۔

دہشت گرد نے سماعت میں صرف ایک مرتبہ بات کی جس میں اس نے جج کو تصدیق کی کہ وہ بیٹھ گیا ہے تاہم اس کی آواز سنائی نہیں دی کیونکہ آواز بند تھی۔

ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ برینٹن ٹیرنٹ کے ویڈیو لنک کی آواز دانستہ طور پر بند کی گئی تھی یا غلطی سے ہوئی۔

سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں 2 درجن سے زائد رپورٹرز اور تقریباً 60 افراد موجود تھے، سماعت سے قبل کورٹ رجسٹرار نے لوگوں کو عربی اور انگریزی میں خوش آمدید کہا، اس دوران وہاں موجود بعض افراد جذباتی ہوکر رو پڑے۔

خیال رہے کہ برینٹن ٹیرنٹ نے اپنے وکیل کو برطرف کردیا تھا کہ وہ بذات خود اپنی نمائندگی کرنا چاہتا ہے،لیکن اب اس نے اپنی نمائندگی کے لیے آک لینڈ کے 2 وکلا شین ٹیٹ اور جوناتھن ہڈسن کو منتخب کیا ہے۔

برینٹن ٹیرنٹ کے خلاف آئندہ سماعت 14 جون کو ہوگی جس میں اس کی ذہنی حالت کی تشخیص کے نتائج کا جائزہ لیا جائے گا کہ اسے اپیل دائر کرنےکی ضرورت ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں قرآن کی تلاوت، وزیرِاعظم کا 'السلامُ علیکم' سے خطاب کا آغاز

کمرہ عدالت کے باہر یاما نبی نے کہا کہ وہ یہ سب دیکھتے ہوئے خود کو بے بس محسوس کررہے تھے، ان کے والد حملوں میں جاں بحق ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’ ہمیں صرف عدالت میں بیٹھنا ہےاور سننا ہے، ہم کیا کرسکتے ہیں؟ہم کچھ نہیں کرسکتے، اس معاملے کو نیوزی لینڈ کے نظام انصاف اور وزیر اعظم پر چھوڑ دیں‘۔

تفضل عالم نے کہا کہ جب دہشت گرد نے لین ووڈ مسجد پر حملہ کیا وہ اس وقت عبادت میں مصروف تھے، انہوں نے کہا کہ سماعت میں شرکت اہم تھی کیونکہ ان کے بہت سے دوست جاں بحق ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ دہشت گرد کو دیکھ کر بہت پریشان ہوگئے تھے۔

تفضل عالم نے کہا کہ ’ ایسا محسوس ہوا کہ اسے کوئی فکر نہیں کہ وہ کیا کرچکا ہے، اس میں جذبات نام کی کوئی چیز نہیں، وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ مجھے افسوس ہے،اپنے لیے، اپنے دوستوں کے لیے اور جو اس حملے میں جاں بحق ہوگئے‘۔

نیوزی لینڈ مساجد پر حملہ

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 15 مارچ کو 2 مساجد النور مسجد اور لین ووڈ میں دہشت گرد نے اس وقت داخل ہوکر فائرنگ کی تھی جب بڑی تعداد میں نمازی، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس افسوسناک واقعے میں 50 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے، انہوں نے حملے کو دہشت گردی قرار دیا تھا۔

فائرنگ کے وقت بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بھی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچی تھی تاہم فائرنگ کی آواز سن کر بچ نکلنے میں کامیاب رہی اور واپس ہوٹل پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ: کابینہ نے بندوق قوانین میں ترامیم کی منظوری دے دی

مذکورہ واقعے کے بعد کرائسٹ چرچ میں بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہفتے کو ہونے والا تیسرا ٹیسٹ منسوخ کردیا گیا اور بعد ازاں بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم نے فوری طور پر نیوزی لینڈ کا دورہ ختم کرنے کا اعلان کیا۔

مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ: مشکوک پیکٹ برآمد ہونے پر ڈیونیڈن ایئرپورٹ بند

مسجد میں فائرنگ کرنے والے ایک دہشت گرد نے حملے کی لائیو ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر نشر کی، جسے بعد میں نیوزی لینڈ حکام کی درخواست پر دل دہلا دینے والی قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا سے ہٹادیا گیا۔

بعد ازاں نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

22 مارچ کو نیوزی لینڈ کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی کے ایک ہفتے بعد نہ صرف سرکاری طور پر اذان نشر کی گئی بلکہ مسجد النور کے سامنے ہیگلے پارک میں نمازِ جمعہ کے اجتماع میں وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے علاوہ ہزاروں غیر مسلم افراد نے بھی شرکت کی تھی۔

علاوہ ازیں 2 اپریل کو نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے فوجی طرز کے نیم خودکار (سیمی آٹومیٹک) بندوقوں اور رائفلز پر پابندی کے بل کو منظور کرلیا تھا۔

مجموعی طور پر 120 قانون سازوں نے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ صرف ایک قانون ساز کی جانب سے بل کی مخالفت سامنے آئی تھی۔