نیوزی لینڈ کی فضائیں اللہُ اکبر کی صدا سے گونج اٹھیں

اپ ڈیٹ 22 مارچ 2019

ای میل

دہشت گردی کاشکار ہونے والی مسجد النور کے سامنے جمعے کا اجتماع ہوا—فوٹو:نیوزی لینڈ ہیرالڈ
دہشت گردی کاشکار ہونے والی مسجد النور کے سامنے جمعے کا اجتماع ہوا—فوٹو:نیوزی لینڈ ہیرالڈ

نیوزی لینڈ کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی کے ایک ہفتے بعد نہ صرف سرکاری طور پر اذان نشر کی گئی بلکہ مسجد النور کے سامنے ہیگلے پارک میں نمازِ جمعہ کے اجتماع میں وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے علاوہ ہزاروں غیر مسلم افراد نے بھی شرکت کی۔

غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق اس موقع پر وزیراعظم کے اعلان کے مطابق دوپہر ایک بج کر 32 منٹ پر 2 منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی انتظامیہ کے مطابق صرف ہیگلے پارک کے اجتماع میں 15 ہزار افراد نے شرکت کی۔

مزید پڑھیں: 'ہمیں مساجد میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا'

سفید ٹوپی اور سیاہ لباس میں ملبوس موذن نے جیسے ہی اللہ اکبر کی صدا بلند کی تو پورے نیوزی لینڈ میں اس کی گونج سنائی دی گئی۔

اذان کے فوراْ بعد جہاں نیوزی لینڈ کے مختلف شہروں میں نمازِ جمعہ کے اجتماعات میں خاموشی اختیار کی گئی وہیں پڑوسی ملک آسٹریلیا میں بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے جو جہاں تھا 2 منٹ کے لیے وہیں ساکن ہوگیا۔

نمازِ جمعہ کے بعد دہشت گرد حملے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی نماز جنازہ بھی ادا کی گئی جس کے بعد تدفین کا عمل ایک بار پھر شروع ہوگیا جس میں ایک اندازے کے مطابق 5 ہزار افراد نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ گزشتہ جمعے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد میں ہونے والے حملے میں 50 افراد جاں بحق اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے تھے جس کے اظہارِ یکجہتی کے طور پر وزیراعظم نیوزی لینڈ نے جمعے کو سرکاری ذرائع ابلاغ سے اذان نشر کرنے اور خودکار ہتھیاروں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

باحجاب غیر مسلم خواتین

بدترین دہشت گردی کاشکار مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ہزاروں غیر مسلم خواتین نے اپنے سروں کو اسکارف سے ڈھانپ رکھا۔

اس موقع پر وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن بھی سیاہ لباس میں حجاب اوڑھ کر اجتماع میں شریک ہوئیں۔

ہزاروں خواتین نے مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کے حجاب اوڑھا—فوٹو: رائٹرز
ہزاروں خواتین نے مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کے حجاب اوڑھا—فوٹو: رائٹرز

اس کے ساتھ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ہیڈ اسکارف ہارمنی اور اسکاروز اِن سولِڈیرٹی کے ہیش ٹیگ کے ساتھ سیکڑوں خواتین نے حجاب اوڑھ کر اپنی تصاویر بھی شیئر کیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ میں خودکار ہتھیاروں پر پابندی کا اعلان

اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایک خاتون کرسٹی ولکنسن کا کہنا تھا کہ ’اگر میں خوف محسوس کروں تو اپنا اسکارف اتار سکتی ہوں لیکن وہ (مسلمان خواتین) نہیں اتارسکتیں‘۔

کرسٹی نمازِ جمعہ کے اجتماع میں شرکت کے لیے اپنے 2 دوستوں کے ہمراہ ہیگلے پارک آئی تھیں اور تینوں نے حجاب اوڑھے ہوئے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ نفرت نہیں جیت سکتی‘۔

ہم ایک ہیں

اذان سے قبل جیسنڈا آرڈرن نے ملسمانوں کے نام ایک مختصر خطاب کیا جس میں انہوں نے نبی صلی اللہ و علیہ وسلم پر درود پڑھتے ہوئے حدیث بھی سنائی جس کا مفہوم ہے کہ مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں جس کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم اس در کو محسوس کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں قرآن کی تلاوت، وزیرِاعظم کا 'السلامُ علیکم' سے خطاب کا آغاز

انہوں نے ایک بار پھر مسلمانوں کے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ آپ کے ساتھ سوگوار ہے، ہم ایک ہی ہیں۔

دل شکستہ ہیں لیکن حوصلے بلند ہیں

اس موقع پر مسجد النور کے امام جمال فودا نے خطاب کیا جس میں انہوں نے مساجد پر دہشت گردی کے حملے کے بعد نیوزی لینڈ کی جانب سے بے پناہ محبت اور یکجہتی کا اظہار کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم دل شکستہ ضرور ہیں لیکن ہمارے حوصلے ٹوٹے نہیں۔

مسجد النور کے امام نے نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا—فوٹو:رائٹرز
مسجد النور کے امام نے نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا—فوٹو:رائٹرز

امام کا کہنا تھا کہ دہشت گرد وہی نفرت پھیلا کر ہمیں تقسیم کرنا چاہتا تھا جس سے دنیا تقسیم ہوچکی ہے لیکن اس کے بجائے نیوزی لینڈ نے پیغام دیا کہ ہم متحد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ کے بعد لندن میں مسجد کے باہر نمازی پر 'ہتھوڑے' سے حملہ

انہوں نے کہا اسلامو فوبیا ایک قاتل حقیقت ہے جس کا درد مسلمان کئی برسوں سے محسوس کررہے ہیں۔

امام مسجد النور نے مزید کہا کہ یہ ایک سوچھی سمجھی مہم ہے تاکہ لوگوں پر اثرانداز ہو کر مسلمانوں کے خلاف خوف پیدا کیا جائے، اس بات کا خوف کہ ہم کیا کھاتے ہیں، ہم کیا پہنتے ہیں، ہم کس طرح عبادت کرتے ہیں اور ہم کس طرح اپنے عقائد پر عمل کرتے ہیں۔

امامِ مسجد کا مزید کہنا تھا کہ 50 بے گناہ لوگوں کی شہادت اور 42 افراد کا زخمی ہونا رات رات ہونے والا واقعہ نہیں بلکہ یہ کچھ سیاسی رہنماؤں، کچھ ذرائع ابلاغ کے اداروں اور دیگر کی جانب سے مسلمان مخالف بیان بازی کا نتیجہ ہے۔