مختلف مقدمات میں مفتاح اسمٰعیل اور فریال تالپور کی عبوری ضمانت منظور

اپ ڈیٹ 16 اپريل 2019

ای میل

مفتح اسمٰعیل کے مطابق میرا اس معاہدے سے کوئی تعلق نہیں — فائل فوٹو/ ڈان نیوز
مفتح اسمٰعیل کے مطابق میرا اس معاہدے سے کوئی تعلق نہیں — فائل فوٹو/ ڈان نیوز

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مختلف مقدمات میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سمن جاری کیے جانے پر سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما فریال تالپور اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کی عبوری ضمانتیں منظور کرلیں۔

خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے زرداری گروپ اور بحریہ ٹاؤن کے مشترکہ منصوبے میں رشوت لینے کے الزامات کے تحت تفتیش کے سلسلے میں فریال تالپور کو سمن جاری کر رکھا ہے۔

مزید پڑھیں: مسلم لیگ (ن) کا ’معاشی بحران‘ پر حکومت مخالف مظاہروں میں شامل ہونے کا اعلان

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 رکنی ڈویژن بینچ نے فریال تالپور کو 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض 29 اپریل تک عبوری ضمانت دیتے ہوئے ان کی درخواست کو جعلی اکاؤنٹ کیس میں انہی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی زیر التوا درخواست کے ساتھ منسلک کردیا۔

فریال تالپور نے اپنی درخواست میں عدالت کو بتایا تھا کہ یہ معاملہ 2 کمپنیوں کے درمیان شراکت داری سے متعلق ہے اور اس کا جعلی اکاؤنٹ کیس سے کوئی تعلق نہیں۔

نیب نے انہیں بیان ریکارڈ کروانے کے لیے سمن جاری کر رکھا ہے اور ان پر 1.2 ارب روپے کی رشوت لینے کا الزام ہے۔

مفتاح اسمٰعیل کی ضمانت منظور

علاوہ ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بینچ نے سابق وزیر خزانہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما مفتاح اسمٰعیل کی 5 لاکھ روپے کے مچلکے کے عوض 7 مئی تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔

مفتاح اسمٰعیل، جن کے خلاف نیب میں ایل این جی منصوبے کے حوالے سے تفتیش جاری ہے، نے اپنی درخواست میں کہا کہ 'معاہدے میں ان کا کوئی کردار نہیں اور انہوں نے اس معاملے میں رشوت نہیں لی'۔

انہوں نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ نیب نے یکم جنوری 2019 کو انہیں طلبی کا نوٹس بھیجا تھا اور وہ اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے اس وقت تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے انہیں دوبارہ سمن جاری کیے ہیں جبکہ درخواست گزار نے سندھ ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت حاصل کی تھی جو 18 اپریل کو ختم ہورہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایل این جی اسکینڈل: سابق وزیر اعظم کے خلاف تحقیقات آخری مراحل میں داخل

اپنی درخواست میں سابق وزیر خزانہ نے الزام لگایا کہ 'نیب کا عمل انتقامی مہم کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی وجہ سے ملک کے پیشہ ورانہ دانشوروں کے درمیان خوف کی فضا پائی جاتی ہے جبکہ ملک کی بیوروکریسی خوف کاشکار ہے'۔

واضح رہے کہ نیب سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی اسکینڈل کی تحقیقات کررہا ہے اور اس میں سابق وزیر اعظم نیب میں پیش بھی ہوچکے ہیں۔

سابق وزیر اعظم کے خلاف اس اسکینڈل کی انکوائری کی منظوری 6 جون 2018 میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے دی تھی، نیب کے مطابق سابق وزیر اعظم پر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قواعد و ضوابط کے خلاف من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ دینے کا الزام ہے اور اسی سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں۔