پی آئی اے افسرپر خاتون افسر کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام

18 اپريل 2019

ای میل

ملازمہ نے تحریری شکایت سی ای او کو ارسال کردی — فائل فوٹو/اے پی پی
ملازمہ نے تحریری شکایت سی ای او کو ارسال کردی — فائل فوٹو/اے پی پی

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی خاتون افسر نے ساتھی ملازم پر جنسی طور پر ہراساں اور بلیک میل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اپنی تحریری شکایت پی آئی اے کے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی ای او) کو ارسال کر دی۔

خاتون نے اپنی شکایت میں بتایا کہ سی ای او کے قریبی کام کرنے والے ملازم نے پی آئی اے کے اسلام آباد آفس میں مجھے بلیک میل کیا

ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے موبائل پر موصول ہونے والے پیغامات کا ریکارڈ بھی ان کے پاس ہے‘۔

مزید پڑھیں: مہوش حیات کا شوبز انڈسٹری میں جنسی ہراساں کیے جانے پر اہم بیان

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے حکام کو مختلف مقامات پر شکایت کرنے کی کوشش کی تاہم کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

انہوں نے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ان کی شکایت پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو وہ وزیر اعظم، چیف جسٹس، چیف آف ایئر اسٹاف کو اس کی شکایت کریں گی‘۔

پی آئی اے کے سی ای او نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے خاتون کی شکایت خواتین تحفظ کمیٹی کو ارسال کیا اور ان سے انکوائری کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیں: فلم ہدایت کار نے جنسی طور پر ہراساں کیا، سوارا بھاسکر

پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کی تحقیقات کے بعد ہی کامران انجم کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایئرلائن کے سخت انتظامی اقدامات، جن میں ٹرانسفر پر پابندی اور اسٹاف کو وقت پر آنے کے لیے زبردستی کرنا شامل ہیں، کے بعد سے ہراساں کرنے کے الزامات میں واضح اضافہ ہوا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ جس جگہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کا جو الزام لگا ہے وہ جگہ ایک بڑا اور کھلا ہال تھا جہاں دھیمی سی بھی آواز نظر انداز نہیں ہوسکتی ہے۔