فلم ہدایت کار نے جنسی طور پر ہراساں کیا، سوارا بھاسکر

ای میل

شعور نہ ہونے کی و جہ سے سمجھنے میں وقت لگا، اداکارہ—فوٹو: ڈی این اے انڈیا
شعور نہ ہونے کی و جہ سے سمجھنے میں وقت لگا، اداکارہ—فوٹو: ڈی این اے انڈیا

اگرچہ بھارت میں ‘می ٹو مہم’ سال 2018 کے آخر میں زوروں پر رہی، تاہم گزشتہ چند ہفتوں سے یہ تحریک مدھم پڑتی دکھائی دے رہی تھی۔

تاہم گزشتہ ہفتے ایک خاتون کی جانب سے فلم ساز راج کمار ہرانی پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد یہ مہم ایک بار پھر متحرک ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

جہاں راج کمار ہرانی پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات سے بولی وڈ میں نئی بحث چھڑ گئی اور کئی لوگ فلم ساز کی حمایت میں سامنے آئے۔

راج کمار ہرانی کے بعد پروڈکشن کمپنی ٹی سیریز کے مالک بشن کمار پر بھی ایک خاتون نے کام کے بدلے جنسی تعلقات استوار کرنے کے مطالبے کا الزام عائد کیا تھا۔

اور خاتون نے بشن کمار کے خلاف مقدمہ بھی درج کروادیا تھا، تاہم چند گھنٹوں بعد ہی خاتون نے اپنا مقدمہ واپس لے کر اعتراف کیا کہ انہوں نے ڈپریشن میں ٹی سیریز کے مالک پر جھوٹے الزامات لگائے۔

راج کمار ہرانی اور بشن کمار کے بعد اب اداکارہ سوارا بھاسکر نے بھی اعتراف کیا ہے کہ انہیں بھی ایک فلم ہدایت کار نے جنسی طور پر ہراساں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’حد سے زیادہ ذہین ہونے پر فلم میں کام دینے سے منع کیا گیا‘

’تنو ویڈس منو، اورنگزیب، رانجھنا، پریم رتن دھن پایو، سب کی بجے گی بینڈ اور ویرے دی ویڈنگ‘ جیسی فلموں میں اداکاری دکھانے والی 30 سالہ سوارا بھاسکر کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہیں بھی جنسی طور پر ہراساں کیا گیا، تاہم انہیں یہ سمجھنے میں کئی سال لگے کہ انہیں بھی جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔

خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی تعلیم دینے کی ضرورت ہے، اداکارہ—فوٹو: انسٹاگرام
خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی تعلیم دینے کی ضرورت ہے، اداکارہ—فوٹو: انسٹاگرام

ہندوستان ٹائمز کے مطابق سوارا بھاسکر نے اداکارہ دیا مرزا سمیت دیگر اداکاروں کے ساتھ خواتین کو کام کی جگہوں پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے منعقد ایک پروگرام میں اعتراف کیا کہ انہیں چند سال قبل جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔

ویرے دی ویڈنگ میں بولڈ کردار ادا کرنے والی اداکارہ نے کسی بھی ہدایت کار کا نام لیے بغیر یا ان پر سنگین الزام عائد کیے بغیر ہی کہا کہ انہیں یہ سمجھنے میں چند سال لگے کہ انہیں بھی جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔

اداکارہ نے اعتراف کیا کہ چوں کہ فلم ہدایت کار نے انہیں چھوا تک نہیں تھا، اس لیے انہیں یہ سمجھنے میں وقت لگا کہ انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔

اداکارہ نے نشانہ بنانے والے ہدایت کار کا نام نہیں لیا—فوٹو: انڈیا ٹی وی
اداکارہ نے نشانہ بنانے والے ہدایت کار کا نام نہیں لیا—فوٹو: انڈیا ٹی وی

سوارا بھاسکر نے یہ بھی کہا کہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں اور نہ ہی انہیں تربیت دی جاتی ہے کہ کون سے نامناسب عمل اور رویے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے زمرے میں آتے ہیں، اس لیے کچھ خواتین کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ انہیں بھی جنسی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔

اداکارہ نے اعتراف کیا کہ انہیں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے اس وقت باتیں سمجھ آنے لگیں، جب دیگر خواتین نے اس پر بات کرنا شروع کی اور تب انہیں احساس ہوا کہ کس طرح فلم ہدایت کار نے بھی انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو’ناکام ریاست‘ کہنے پر سوارا بھاسکر کا یوٹرن

سوارا بھاسکر کا کہنا تھا کہ جس وقت انہیں فلمی ہدایت کار نے جنسی طور پر ہراساں کیا، اس وقت وہ ان کے نامناسب رویے پر خود کو یہ کہ کر مطمئن کرتی رہیں کہ وہ ہدایت کار ہیں، اس لیے ایسا کر رہے ہیں۔

اداکارہ کے مطابق وہ خود کو فریب میں رکھ کر تسلی دیتی رہیں، جب کہ درحقیقت ہدایت کار ایک شکاری تھا۔

اداکارہ نے 2009 میں کیریئر کا آغاز کیا—فوٹو: انسٹاگرام
اداکارہ نے 2009 میں کیریئر کا آغاز کیا—فوٹو: انسٹاگرام

سوارا بھاسکر نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو افراد کے رویوں اور انداز کو سمجھانے کی ضرورت ہے، جب تک وہ کسی کے رویے اور پیش آنے کے طرز عمل کو نہیں سمجھیں گی، تب تک وہ ٹھیک طرح جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے بھی معلومات حاصل نہیں کر سکیں گی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ سوارا بھاسکر نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں بھی جنسی طور پر ہراساں کیا گیا، تاہم انہوں نے نشانہ بنانے والے ہدایت کار پر مزید کوئی الزامات لگانے یا ان کا نام لینے سے گریز کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سوارا بھاسکر اداکارہ کرینہ کپور کی دیوانی نکلیں

اس سے قبل وہ یہ انکشاف کر چکی ہیں کہ انہیں کیریئر کے آغاز میں شکل و صورت سے زیادہ ذہین نظر آنے کی وجہ سے کام دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔

اکتوبر 2017 میں اداکارہ نے کہا تھا کہ انہیں کیریئر کے آغاز میں ایک فلم ہدایت کار نے محض اس لیے فلم میں کاسٹ کرنے سے منع کردیا، کیوں کہ وہ حد سے زیادہ ذہین نظر آ رہی تھیں۔

سوارا بھاسکر نے اداکاری کی شروعات 2009 میں فلم ’مدھو لال کیپ واکنگ’ سے کی، انہوں نے 2 درجن سے زائد فلموں میں کام کیا ہے۔

ان کی مشہور فلموں میں ’پریم رتن دھن پایو، تنو ویڈز منو، ’ویرے دی ویڈنگ‘ سب کی بجے گی بینڈ، چلر پارٹی، رنجانا اور مچھلی جال کی رانی ہے‘ شامل ہیں۔

انہوں نے متعدد ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کیا، انہیں شاندار اداکاری پر متعدد ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔

کیریئر کے آغاز میں ذہین ہونے کی وجہ سے کام نہیں دیا گیا، اداکارہ—فوٹو: انسٹاگرام
کیریئر کے آغاز میں ذہین ہونے کی وجہ سے کام نہیں دیا گیا، اداکارہ—فوٹو: انسٹاگرام