اسلام آباد ہائیکورٹ: نیب ریفرنس میں زرداری کی بریت سے متعلق ریکارڈ طلب

اپ ڈیٹ 19 اپريل 2019

ای میل

اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے آصف زرداری کے خلاف کیس کی سماعت کی—فائل فوٹو: ڈان نیوز ٹی وی
اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے آصف زرداری کے خلاف کیس کی سماعت کی—فائل فوٹو: ڈان نیوز ٹی وی

اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کے اے آر وائی گولڈ اور ارسس ٹریکٹرز ریفرنسز کی سماعتوں سے متعلق ریکارڈ طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بینچ نے نیب کی جانب سے ان دونوں ریفرنسز میں آصف زرداری کی بریت کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر نیب کے ایڈیشنل پروسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانا نے بتایا کہ عدالت کے 21 اپریل 2016 کے احتساب عدالت سے ریکارڈ طلبی کے حکم کے باوجود رجسٹرار آفس نے اب تک انہیں حاصل نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: آصف علی زرداری کی 'خفیہ جائیداد' سے متعلق علی زیدی کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ ' میں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی متعلقہ برانچ سے اسے چیک کیا لیکن ریکارڈ اب تک حاصل نہیں کیا گیا'، اس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ان سے استفسار کیا کہ عدالت کو الزمات سے متعلق بتایا جائے اور واضح کیا جائے کہ کیوں نیب نے اس بریت کو چیلنج کیا۔

عدالتی استفسار پر ایڈیشنل پروسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانا نے جواب دیا کہ احتساب کمیشن کی جانب سے آصف علی زرداری کے خلاف کیس رجسٹرڈ کیا گیا اور 1999 میں قومی احتساب آرڈیننس کے نفاذ کے بعد اسے احتساب عدالت کے احتساب بینچ کو منتقل کردیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ 2007 میں اس وقت کی حکومت نے قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) متعارف کروایا اور نیب نے احتساب عدالت سے مقدمات واپس لے لیے، تاہم 2009 میں سپریم کورٹ نے این آر او کو کالعدم قرار دیا گیا اور مقدمات واپس بحال ہوگئے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس وقت آصف علی زرداری صدر پاکستان کا عہدہ رکھتے تھے اور وہ صدارتی استثنیٰ سے فائدہ اٹھا رہے تھے، لہٰذا احتساب عدالت نے اے آر وائی اور ارسس ریفرنسز میں آصف زرداری اور دیگر ملزمان کو بری کردیا، جس کے بعد آصف زرداری نے بطور صدر اپنی مدت پوری کی جبکہ نیب کی سماعتیں بھی ان کے خلاف پوری ہوئیں۔

بعد ازاں 2011 میں ٹرائل کورٹ نے اے آر وائی گولڈ ریفرنس میں سابق سیکریٹری تجارت بریگیڈیئر (ر) اسلم حیات قریشی، اس وقت کے صدر کے پرنسپل سیکریٹری سلمان فاروقی، اے آر وائی گولڈ کمپنی کے مالک حاجی عبدالرزاق، حاجی عبدالرؤف اور جان محمد کو بری کردیا لیکن سابق وفاقی سیکریٹری خزانہ جاوید طلعت اور سوئس کمپنی ایس جی ایس کے ڈائریکٹر جین شلےگیل مچ کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

اس ریفرنس میں آصف علی زرداری کے ساتھ محترمہ بینظیر بھٹو مرکزی ملزم تھی لیکن 27 دسمبر 2007 کو ان کی شہادت کے بعد ان کا نام نکال دیا گیا۔

ریفرنس کے مطابق اس وقت کی وزیر اعظم بینظیر بھٹو، بریگیڈیئر (ر) اسلم حیات قریشی اور سلمان فاروقی نے مبینہ طور پر اے آئی گولڈ کے مالک حاجی عبدالوہاب کو مبینہ طور پر 1995 اور 1997 کے درمیان بغیر ڈیوٹی کے سونے اور چاندی کی درآمدات کی اجازت دی تھی، جس سے قومی خزانے کے کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا تھا۔

بعد ازاں 2013 کے عام انتخابات کے بعد آصف علی زرداری پر یہ ریفرنسز چلائے گئے اور وہ اگلے برس اس میں بری ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے نیب کے سامنے بیانات قلمبند کرادیے

دوسری جانب ارسس ٹریکٹرز ریفرنس میں 5ہزار 900 روسی اور پولش ٹریکٹرز کی خریداری میں مبینہ خوربرد کا الزام یہ ہے کہ عوامی ٹریکٹر اسکیم کے لیے فی ٹریکٹر کی لاگت ڈیڑھ لاکھ روپے آئی، اس معاملے میں بینظیر بھٹو کے ساتھ آصف علیز رداری مرکزی ملزمان میں سے ایک تھے، تاہم بعد ازاں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کا نام اس سے نکال دیا گیا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے کیس میں شریک ملزم سابق وزیر زرارت اور پیپلز پارٹی کے موجودہ رکن اسمبلی نواب یوسف تالپور کو بھی بری کردیا تھا۔

ان ٹریکٹرز کی خریداری کا معاہدہ مبینہ طور پر زرعی ترقیاتی بینک پاکستان کے لیے 26 کروڑ83 لاکھ روپے اور اسٹیٹ بینک پاکستان کے لیے ایک ارب 67 کروڑ روپے نقصان کا باعث بنا تھا۔

علاوہ ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے بینچ نے رجسٹرار آفس کو ہدایت کی کہ ٹرائل کورٹ سے ریکارڈ کے حصول کے بعد کیس کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔


یہ خبر 19 اپریل 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی