اورماڑہ میں فوجی جوانوں کی شہادت، مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل

اپ ڈیٹ 20 اپريل 2019

ای میل

واقعے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے — فائل فوٹو/وکی میڈیا کامنز
واقعے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے — فائل فوٹو/وکی میڈیا کامنز

کوئٹہ: صوبہ بلوچستان میں لیویز فورسز نے سانحہ اورماڑہ میں شہید ہونے والے پاک فوج کے جوانوں کا مقدمہ درج کرلیا۔

لیویز افسر نے معاملے کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان نیوز کو بتایا کہ نے لیویز نے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) سرکار کی مدعیت میں درج کی۔

مزید پڑھیں: اورماڑہ واقعے میں ملوث دہشتگردوں کے ٹھکانے ایران میں ہیں، وزیر خارجہ

انہوں نے بتایا کہ نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمے میں قتل، اقدام قتل سمیت دیگر دفعاعت بھی شامل کی گئی۔

واضح رہے کہ دہشت گردوں نے 18 اپریل کو مکران کوسٹل ہائی وے کے قریب 14 مسافروں کو بسوں سے اتار کر فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

ڈان نیوز ٹی وی کے مطابق ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں پیش آیا تھا۔

لیویز حکام کا کہنا تھا کہ سانحہ اورماڑہ کے بعد لیویز علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کردی اور مسافر بردار بسوں کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔

دریں اثنا بلوچستان کے انسپیکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) محسن حسن بٹ کا کہنا تھا کہ تحقیقات کو محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) منتقل کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: مکران کوسٹل ہائی وے پر 14 مسافروں کو بسوں سے اتار کر قتل کردیا گیا

بعد ازاں ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بسوں سے اتار کر شناخت کرکے شہید کیے گئے 14 افراد میں 11 نیوی، ایئر فورس اور کوسٹ گارڈز کے اہلکار تھے۔

فائرنگ کے واقعے میں کُل 16 مسافروں میں سے 14 کو شہید کیا گیا جبکہ 2 مسافر بھاگنے میں کامیاب ہوئے اور قریبی لیویز چیک پوسٹ پہنچے، جنہیں اورماڑہ کے ہسپتال لے جایا گیا تھا۔

2 روز بعد آج وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ علی الصبح بزی ٹاپ کے پاس پیش آیا، جہاں بسوں کو روکا اور لوگوں کی نشاندہی کے بعد 14 پاکستانیوں کو شہید کیا گیا، جس میں 10 پاکستان نیوی، 3 پاک فضائیہ اور ایک پاکستان کوسٹ گارڈ کا جوان تھا۔