وزیر اعظم نے نئی اقتصادی ٹیم کیلئے ذمہ داریوں اور اہداف کا تعین کردیا

اپ ڈیٹ 21 اپريل 2019

ای میل

وزیر اعظم سے ملاقات میں تحریک انصاف کے اہم رہنما شریک نہیں تھے — فوٹو: ڈان
وزیر اعظم سے ملاقات میں تحریک انصاف کے اہم رہنما شریک نہیں تھے — فوٹو: ڈان

اسلام آباد: وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں کے 2 روز بعد وزیراعظم عمران خان نے تحریک انصاف کے سینئر اراکین، اتحادی جماعتوں اور کابینہ میں آنے والے نئے اراکین سے بنی گالا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کی جس میں انہیں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی ہدایت دی گئی۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اجلاس کے بعد رپورٹرز کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعظم کی نومنتخب معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم نے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر سربراہی قائم نئی معاشی ٹیم کو اہداف اور ذمہ داریاں دی ہیں تاکہ ملک کو مشکلات سے نکالا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے نومنتخب مشیر خزانہ اور ان کی معاشی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ لوگوں کی مشکلات کو کم کر کے ان کی توقعات پر پورا اتریں۔

اس اجلاس میں مشیر خزانہ موجود نہیں تھے تاہم وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے اجلاس میں شرکت کی، ذرائع نے بتایا کہ عبدالحفیظ شیخ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ وزیر اعظم سے علیحدہ سے ملاقات کی۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ معاشی ماہرین کے لیے اہداف کے تعین کے ساتھ ساتھ دیگر وزارتوں کو بھی حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ خصوصی طور پر رمضان میں عوام کو ریلیف فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے وزرا کو کہا کہ وہ رمضان میں صوبوں سے رابطے کر کے قیمتوں میں اضافے پر نظر رکھنے کے لیے بھی منصوبہ بندی کریں۔

فردوس عاشق اعوان نے عبدالحفیظ شیخ کو حکومتی ٹیم کے اہم کھلاڑی اور اوپننگ بلے باز قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف اور وزیر اعظم کے نظریے کو دیکھتے ہوئے نئے مشیر خزانہ کو ملکی معیشت میں بہتری کے لیے اقدامات کرنے کے اختیارات دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر توانائی عمر ایوب خان کو وزارت پیٹرولیم کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے جو اس سے قبل غلام سرور خان کے پاس تھا۔

اجلاس میں تحریک انصاف کے اہم رہنما، حال ہی فارغ کیے گئے وزرا یا وہ وزرا بھی موجود نہ تھے، جن کے قلمدان تبدیل کیے گئے ہیں لیکن فردوس عاشق اعوان نے اسے ایک معمولی بات قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وفاقی کابینہ کا اجلاس نہیں تھا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ فواد چوہدری نے پارٹی قیادت کو بتا دیا تھا کہ وہ لاہور جا رہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری بھی موجود نہیں تھیں۔