اہم صنعتی شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

اپ ڈیٹ 21 اپريل 2019

ای میل

رپورٹ کے مطابق ٹیکسٹائل، کیمیکلز، فارماسیوٹیکل اور الیکٹریکل مشینری کے شعبے میں سرمایہ کاری ہوئی — فائل فوٹو: اے ایف پی
رپورٹ کے مطابق ٹیکسٹائل، کیمیکلز، فارماسیوٹیکل اور الیکٹریکل مشینری کے شعبے میں سرمایہ کاری ہوئی — فائل فوٹو: اے ایف پی

رواں مالی سال کے دوران پاکستان کے 11 صنعتی شعبوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے مستقبل میں پاکستان کی صنعتی ترقی کے روشن مستقبل کے امکانات نظر آرہے ہیں۔

پاکستان کے جن شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری دیکھنے میں آئی ہے ان میں ٹیکسٹائل، کیمیکلز، فارماسیوٹیکل اور الیکٹریکل مشینری شامل ہیں جن کے حجم میں 50 سے 800 فیصد تک تبدیلی دیکھنے میں آئی۔

رواں مالی سال 19-2018 کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 51 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی جس کی سب سے بڑی وجہ پاور سیکٹر میں چینی سرمایہ کاری کی ادائیگی تھی جس نے دیگر صنعتی شعبوں پر مرتب ہونے والے مثبت اثرات کو بھی ختم کردیا۔

چینی سرمایہ کاری کی ادائیگی کا حجم 29 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران اس نے 92 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔

مزید پڑھیں: ایک ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 196 فیصد تک اضافہ

جن شعبوں میں رواں مالی سال کے دوران سرمایہ کاری کی گئی ان میں برقی آلات کی صنعت تھی جس میں تقریباً 813 فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ مالی سال کے ایک کروڑ 38 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 12 کروڑ 66 لاکھ ڈالر ہوگیا۔

دوسرے نمبر پر جس شعبے میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہوئی وہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ تھا، جس میں رواں مالی سال کے دوران 8 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 663 فیصد زیادہ ہے۔

اسی طرح کیمیکل کے شعبے میں سرماریہ کاری کا حجم 11 کروڑ 39 لاکھ ڈالر رہا، جو گزشتہ مالی سال کے 2 کروڑ 76 لاکھ ڈالر سے 332 فیصد زیادہ ہے۔

فارماسیوٹیکل سیکٹر میں رواں مالی سال 247 فیصد زائد سرمایہ کاری دیکھنے میں آئی جو پہلے ایک کروڑ 47 لاکھ ڈلر تھی تاہم اب 5 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی معیشت خطے کی معاشی ترقی پر بوجھ بن جائے گی، آئی ایم ایف

ٹیکسٹائل سیکٹر میں گزشتہ مالی سال کے دوران 3 کروڑ 36 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری دیکھنے میں آئی تاہم رواں برس اس میں 50 فیصد اضافہ ہوا جو اب بڑھ کر 5 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہوگئی۔

خیال رہے کہ گزشتہ 2 برس کے دوران پاور سیکٹر اور تعمیراتی شعبے میں سرماریہ کاروں کے لیے مرکز نگاہ رہا ہے، تاہم اس کے مقابلے میں دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری معمول سے بھی کم رہی تھی۔

تاہم اگر موجودہ اعداد و شمار کو سرمایہ کاری میں تبدیلی کے طور پر دیکھا جائے تو یہ مقامی صنعت کے دیگر شعبوں کے لیے حوصلہ افزا ہوسکتا ہے۔

پاور سیکٹر میں چینی سرمایہ کاری کی ادائیگی کے بعد تعمیراتی شعبے میں بھی سرمایہ کاری میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔


یہ خبر 21 اپریل 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی