یوکرین کے مزاحیہ اداکار ملک کے صدر منتخب ہوگئے

22 اپريل 2019

ای میل

زیلنسکی میں پہلے مرحلے میں 13 فیصد اور دوسرے میں 73 فیصد ووٹ حاصل کیے—فوٹو:اےا یف پی
زیلنسکی میں پہلے مرحلے میں 13 فیصد اور دوسرے میں 73 فیصد ووٹ حاصل کیے—فوٹو:اےا یف پی

یوکرین کے مزاحیہ اداکار ویلودومیر زیلنسکی نے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں بھی بڑی کامیابی حاصل کرکے موجودہ صدر کو شکست دے دی اور اب وہ ملک کے صدر کی حیثیت سے منصب سنبھال لیں گے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق زیلنسکی کا سیاست میں کوئی پس منظر نہیں ہیں اور انہیں صرف ٹی وی کے ایک شو میں صدر کا کردار ادا کرنے کا تجربہ ہے تاہم انہوں نے صدر پیٹرو پورشینکو کو 73 فیصد ووٹ حاصل کرکے شکست دی ہے۔

صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد کئی تھنک ٹینکس کی جانب سے ووٹوں کی گنتی کی گئی جس زیلنسکی کو واضح کامیابی حاصل ہوئی۔

مزید پڑھیں:یوکرین: مزاحیہ اداکار نے موجودہ صدر کو صدارتی انتخاب میں شکست دے دی

رپورٹ کے مطابق مذاق کے طور پر شروع ہونے والی انتخابی مہم اب حقیقت کا روپ دھار چکی ہے جہاں ووٹرز نے غربت، کرپشن مشرقی سرحد میں جاری پانچ سالہ جنگ کے نتیجے میں 13 ہزار جانوں کے ضیاع کے بعد تنگ آکر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔

زیلنسکی نے دوسرے مرحلے میں 73 فیصد ووٹ حاصل کیے—فوٹو:اے ایف پی
زیلنسکی نے دوسرے مرحلے میں 73 فیصد ووٹ حاصل کیے—فوٹو:اے ایف پی

سرونٹ آف دی پیپل کے نام سے ٹی وی سیریز میں اداکاری کے جوہر دکھانے والے 41 سالہ زیلنسکی اب 4 کروڑ 50 آباد کے حامل ملک کے صدر کی حیثیت حکومت سنبھال لیں گے جہاں ان کے لیے کئی امتحان اور گمبھیر ترین سیاسی حالات کا سامنا ہوگا۔

کامیابی کے بعد زیلنسکی کے حامیوں نے ان کی مہم کے مرکز میں جشن منایا اور اپنےخطاب میں زیلنسکی کا کہنا تھا کہ 'میں آپ لوگوں کو مایوس نہیں کروں گا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اب تک میں باقاعدہ طور پر صدر نہیں ہوں لیکن یوکرین کے شہری کے طور پر سویت یونین سے نکلنے والے تمام ممالک کو کہہ سکتا ہوں کہ ہماری طرف دیکھیے! سب کچھ ممکن ہے'۔

انتخابی نتائج کے مطابق زیلنسکی نے ملک کے تمام ریجنز میں کامیابی حاصل کی اور صدر پوروشینکو کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ انہیں ملک کے مغربی علاقوں میں زبردست حمایت حاصل تھی۔

یہ بھی پڑھیں:یوکرین میں مارشل لا نافذ، روس کا محاذ آرائی سے گریز کرنے کا انتباہ

پوروشینکو نے شکست کے بعد اپنے مرکز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'نتائج واضح ہیں جس کے مطابق اپنے مخالف کو مبارک باد نہ دینے کی کوئی وجہ نہیں اس لیے میرے مخالف کو مبارک دیجیے'۔

شکست تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'میں دفتر چھوڑ دوں گا لیکن میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں میں سیاست سے الگ نہیں ہورہا'۔

یاد رہے کہ یکم اپریل کو صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں زیلنسکی نے 30 فیصد ووٹ کے ذریعے برتری حاصل کرلی تھی لیکن دوسرے مرحلے میں پوزیشن مزید بہتر بناتے ہوئے واضح کامیابی حاصل کی۔

پہلے مرحلے میں پوروشینکو نے 16 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے اور سابق وزیراعظم یولیا ٹیموشینکو نے 13 فیصد ووٹ لیے تھے۔

انتخابات میں کُل 39امیدواروں نے حصہ لیا لیکن کوئی بھی امیدوار 50فیصد ووٹ حاصل نہیں کر سکا تھا اور دوسرے مرحلے میں حتمی نتائج کا انتظار تھا تاہم اب زیلنسکی کی کامیابی کے بعد وہ صدر منتخب ہوگئے ہیں۔