یوکرین میں مارشل لا نافذ، روس کا محاذ آرائی سے گریز کرنے کا انتباہ

28 نومبر 2018

ای میل

یوکرین کی پارلیمنٹ نے صدر کی درخواست پر روسی جارحیت کے خلاف مارشل لا کے حق میں ووٹ دیا—فائل فوٹو
یوکرین کی پارلیمنٹ نے صدر کی درخواست پر روسی جارحیت کے خلاف مارشل لا کے حق میں ووٹ دیا—فائل فوٹو

ماسکو: یوکرین نے روس کی جانب سے اپنے 3 بحری جہازوں کو ضبط کیے جانے پر ملک میں مارشل لا نافذ کردیا جس پر رد عمل دیتے ہوئے روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کسی بھی ’غافلانہ اقدام‘ کے حوالے سے تنبیہ کردی۔

یوکرین کی پارلیمنٹ نے پیر کو صدر پیٹرو پروشینکو کی درخواست پر سرحدی علاقوں میں 30 روز کے لیے مارشل لا کے نفاذ کی حمایت میں ووٹ دیا۔

واضح رہے کہ اتوار کے روز روسی افواج نے سرحد پر فائرنگ کر کے یوکرین کے 3 بحری جہاز قبضے میں لے لیے تھے جس کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان حالیہ سالوں کی بدترین کشیدگی نے جنم لیا۔

یہ بھی پڑھیں: بحری جہازوں پر قبضہ: روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی

خیال رہے کہ روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں اور ماسکو کے خلاف یوکرین کے جاری تنازع میں یہ واقعہ اب تک کی سب سے بڑی محاذ آرائی ہے۔

حالیہ واقعے نے پہلے سے جاری تنازع کی شدت میں اضافے کا خدشہ پیدا کردیا ہے جس کی وجہ سے بین الاقومی سطح پر اس کے پر امن حل کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے، جس میں 2014 کے بعد سے اب تک 10 ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔

مارشل لا کے نفاذ کے بعد یوکرین حکام کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ جنگی تربیت رکھنے والے شہریوں کو بلا سکے، ذرائع ابلاغ کو کنٹرول اور متاثرہ علاقوں میں عوامی اجتماعات پر پابندی لگا سکے۔

دوسری جانب ماسکو ابھی تک ضبط کیے گئے بحری جہازوں اور 24 افراد پر مشتمل عملے کو رہا کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کررہا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا، یوکرین کو ہتھیار دینے سے باز رہے: روس

اس بارے میں انسانی حقوق کے ایک کارکن کا کہنا تھا کہ عملے کے کچھ افراد سمفرپول میں مقدمے کا سامنا کریں گے جو کریمیا کی روسی حدود میں سب سے بڑا شہر ہے۔

بقیہ عملہ کو بدھ کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا جس میں سے 3 جھڑپ کے نتیجے میں زخمی ہونے کی وجہ سے ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

حالیہ تنازع میں مغربی ممالک، یوکرین کی حمایت کررہے ہیں اور ان کی جانب سے روس پر بغیر کسی وجہ کے بحرِ ایزوز کا راستہ بند کرنے اور فوجی کارروائی کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

اس سلسلے میں برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اور دیگر ممالک نے بھی یوکرین کی حمایت کا اعلان کیا جبکہ یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے روس سے بحری عملے کو واپس یوکرین کے حوالے کرنے اور مزید کسی اشتعال انگیزی سے باز رہنے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: یوکرین تنازع: روس پر پابندیوں میں اضافہ

اس بارے میں آسٹریا کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس اشتعال انگیزی پر یورپی یونین آئندہ ماہ ماسکو پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کرے گا۔

موجودہ صورتحال پر اقوامِ متحدہ کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا جس میں امریکی سفیر نکی ہیلے نے بحری جہازوں کو ضبط کیا جانا یوکرین کی سلامتی کی شدید خلاف ورزی قرار دیا۔


یہ خبر 28 نومبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔