کراچی: نوماہ کی بچی کو انجیکشن لگانے کا کیس، ڈاکٹر سمیت 3 افراد گرفتار

اپ ڈیٹ 22 اپريل 2019

ای میل

پولیس نے بچی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
پولیس نے بچی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

کراچی پولیس نے گلستان جوہر کے نجی ہسپتال میں 9 ماہ کی بچی کو غلط انجیکشن کے ذریعے مبینہ طور پر قتل کرنے کی کوشش کے الزام میں ڈیوٹی پر موجود خاتون ڈاکٹر سمیت تین عہدیداروں کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کردیا۔

شاہراہ فیصل پولیس کے اسٹیشن انوسٹی گیشن افسر (ایس آئی او) اسلم مغل کاکہنا تھا کہ گرفتار خاتون ڈاکٹر اس وقت دارالصحت ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجود تھیں جب 9 ماہ کی بچی کو طبی امداد کے لیے لایا گیا تھا اور انہیں مبینہ طور پر انجیکشن کی زیادتی کے باعث دماغ کو نقصان پہنچا تھا۔

اسلم مغل نے کہا کہ گرفتار عہدیداروں میں ڈاکٹر ثوبیہ، نرسنگ انچارج عاطف جاوید اور ایڈمنسٹریٹر احمد شہزاد شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گرفتار تمام افراد کو عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں ان کا مزید جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا جائے گا۔

ایس ایچ او صفدر مشوانی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 'ڈاکٹر ثوبیہ کو شاہراہ فیصل پولیس نے 9 ماہ کی بچی کے دماغ کو نقصان پہنچانے کے کیس میں گرفتار کرلیا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ثوبیہ کو ویمن پولیس اسٹیشن کے حوالے کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:کراچی: ’ہسپتال انتطامیہ کی غفلت سے 9 ماہ کی بچی کے دماغ کو نقصان پہنچا‘

خیال رہے کہ شاہراہ فیصل تھانے میں نومولود بچی کے والد کی شکایت پر گلستان جوہر کے علاقے میں قائم ہسپتال کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیا تھا۔

پولیس نے مقدمہ پاکستان پینل کوڈ 324، 337 اور 34 کے تحت درج کیا تھا۔

کیس کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب قیصر علی نے 6 اپریل کو اپنی 9 ماہ کی بیٹی نشوا کو دست کے علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کرایا۔

7 اپریل کی صبح ہسپتال کے اسٹاف نے نشوا کو پوٹیشیئم کلورائیڈ کا اوور ڈوز دیا۔

مومولود بچی کے والد نے اپنی شکایت میں کہا کہ انجیکشن ڈرپ کے ذریعے دیا جانا تھا تاہم ہسپتال نے غفلت برتتے ہوئے اسے انجیکشن سے دیا۔

انجیکشن لگنے کے چند منٹ بعد ہی بچی کے ہونٹ نیلے ہوگئے اور اسے سانس لینے میں مشکلات ہونے لگیں جس کے بعد اسے آئی سی یو منتقل کیا گیا جہاں 45 منٹ تک اسے سی پی آر دیا گیا جس کے بعد اس کی سانسیں بحال ہوئیں اور اس کے بعد اسے وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا۔

قیصر علی کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی کو 12 اپریل کو وینٹی لیٹر سے ہٹایا گیا اور ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ 45 منٹ تک بچی کو دیے گئے سی پی آر سے اس کے دماغ کو نقصان پہنچا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق نشوا کے سی ٹی اسکین سے انکشاف ہوا کہ اس کے دماغ کو آکسیجن کے نہ ملنے کی وجہ سے بچی کے ہاتھ پیر اور منہ کو فالج ہوگیا ہے۔