بحرین کے بادشاہ نے 550 افراد کی شہریت بحال کردی

اپ ڈیٹ 22 اپريل 2019

ای میل

شاہ حماد کے پاس عدالتی احکامات منسوخ کرنے کے اختیارات موجود ہیں — تصویر: اے ایف پی/فائل
شاہ حماد کے پاس عدالتی احکامات منسوخ کرنے کے اختیارات موجود ہیں — تصویر: اے ایف پی/فائل

دبئی: اقوامِ متحدہ اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کی جانب سے شہریت منسوخ کرنے پر شدید تنقید کے بعد بحرین کے بادشاہ نے 551 بحرینی باشندوں کی شہریت بحال کرنے کے احکامات دے دیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بحرین کی سرکاری خبررساں ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’شاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ نے عدالتی احکامات کے تحت منسوخ کی جانے والی 551 سزا یافتہ افراد کی شہریت بحال کرنے کے احکامات دے دیے‘۔

امریکی اتحادی ملک بحرین میں سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کے خلاف حکام کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں سال 2011 سے بد امنی کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بحرین حزب اللہ‘ تنظیم بنانے کی سازش میں 138 افراد کو سزائے قید

اس وقت سے اب تک سیکڑوں مظاہرین کو جیل بھیجا جاچکا ہے اور جو افراد دہشت گردی کے معاملات میں ملوث پائے گئے ان سے شہریت چھین لی گئی۔

بحرین کی جانب سے ان افراد کو تربیت دینے اور حکومت گرانے کے لیے کیے جانے والے مظاہروں کے پیچھے ایران کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے تاہم ایران نے ان الزامات کی ہمیشہ تردید کی۔

بحرین نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ شاہ حماد، جن کے پاس عدالتی احکامات منسوخ کرنے کے اختیارات موجود ہیں، نے درخواست کی ہے کہ مجاز حکام کو جرائم کی نوعیت کے اعتبار سے اعتماد میں لیا جائے۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کا بحرین میں 138 افراد کی شہریت منسوخ کرنے پر تحفظات کا اظہار

اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزارت داخلہ کو بھی ہدایت کی کہ ہر مقدمے کی چھان بین کر کے ان افراد کی فہرست تیار کی جائے جن کی شہریت بحال کی جاسکتی ہے۔

انسانی حقوق کے گروہوں کا کہنا تھا کہ 2012 میں مظاہرین کے خلاف عدالتی کارروائی کے آغاز کے بعد سے اب تک تقریباً 9 سو افراد، جن میں اکثریت اہلِ تشیع مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہے، کی شہریت منسوخ کی جاچکی ہے۔

خیال رہے کہ شیعہ اکثریتی آبادی والے ملک بحرین پر تقریباً 2 صدیوں سے زائد عرصے سے سنی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والا شاہی خاندان الخلیفہ حکمرانی کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی وفد کا دورہ بحرین سیکیورٹی خدشات پر منسوخ

شاہ حماد کا فیصلہ بحرین کی عدالت کی جانب سے ایک طویل مقدمہ بازی کے بعد 138 افراد کو قید کی سزا سنانے اور ان کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے پر سامنے آیا جس کی انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مذمت کی۔

عدالتی ذرائع کے مطابق یہ سزا یافتہ افراد اہلِ تشیع مکتبہ فکر سے تھے اور ان کا تعلق 169 افراد کے ایسے گروہ سے تھا جن پر ایران کی پاسداران انقلاب سے تعلق میں مبینہ طور پر دہشت گردی کا گروہ بنانے کا الزام تھا۔

بحرین کے حقوق اور جمہوریت سے متعلق ادارے کے مطابق یہ اب تک کا لوگوں کا سب سے بڑا گروہ تھا جسے 2012 سے چلنے والے ایک مقدمے کے نتیجے میں سزا سنائی گئی اور شہریت واپس لے لی گئی۔

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ 2011 سے بحرین میں تمام اپوزیشن گروہوں پر پابندی لگادی گئی تھی یا انہیں تحلیل کردیا گیا تھا۔