امریکی امداد کی بندش، غزہ میں غذائی بحران کا خطرہ

اپ ڈیٹ 15 مئ 2019

ای میل

اقوام متحدہ کے ادارے نے 6 کروڑ ڈالر امداد نہ ملنے پر غزہ میں آئندہ ماہ غذائی بحران کا عندیہ دے دیا — فائل فوٹو/اے ایف پی
اقوام متحدہ کے ادارے نے 6 کروڑ ڈالر امداد نہ ملنے پر غزہ میں آئندہ ماہ غذائی بحران کا عندیہ دے دیا — فائل فوٹو/اے ایف پی

اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ غزہ میں آئندہ ماہ غذائی قلت کا خطرہ ہے جس کے لیے عالمی برادری 6 کروڑ ڈالر امداد دے تاکہ امریکا کی جانب سے فلسطینی پناہ گزینوں کو دی جانے والی امداد کی بندش کے بعد اس خلا کو پورا کیا جاسکے۔

اقوام متحدہ کے امدادی ادارہ برائے فلسطین پناہ گزین (یو این آر ڈبلیو اے) جو غزہ پٹی میں 10 لاکھ افراد کو غذا فراہم کرتا ہے، نے یورپی یونین، خلیجی ممالک، چین اور روس جیسی دیگر دنیا کی بڑی معیشتوں سے بھوک کے خاتمے کے لیے آئندہ ماہ کے درمیان تک 6 کروڑ ڈالر امداد دینے کا کہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ: 2 روز سے جاری اسرائیلی حملوں میں 6 فلسطینی جاں بحق

یون این آر ڈبلیو اے کے ڈائریکٹر میتھیوز شمال کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنے کھانا فراہم کرنے کے کام میں سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ہمارے پاس تقریباً 10 لاکھ افراد ہیں جنہیں کھانا فراہم کیا جاتا ہے اور اس کے بغیر وہ گزارا نہیں کر سکیں گے‘۔

برسلز میں یورپی حکام سے ملاقات سے قبل ان کا کہنا تھا کہ ’فنڈز کے خلا کو پورا کرنے کے لیے سب اہم ذریعہ امریکی امداد تھا تاہم اسے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے روک دیا ہے‘۔

واضح رہے کہ امریکا نے 2018 میں اعلان کیا تھا کہ وہ 'یو این آر ڈبلیو اے' کی فنڈنگ کو روک رہا ہے۔

میتھیوز شمال کا کہنا تھا کہ ’اگر امریکا نے آہستہ آہستہ فنڈ کو کم کیا ہوتا تو کہانی الگ ہوتی تاہم یہ بدقسمتی اور افسوسناک ہے، فنڈز کی اچانک خاتمے کی وجہ سے ادارے کو غزہ پٹی میں صحت اور دیگر پروگرامز میں بڑی تعداد میں کمی کرنی پڑی ہے‘۔

مزید پڑھیں: غزہ میں جنگ بندی، 3 روز میں 23 فلسطینی جاں بحق

ادارے نے اپنے ذہنی صحت کے بجٹ میں 50 فیصد کمی کی جس سے جنگ زدہ خطے میں بچوں کی کونسلنگ میں فرق پڑا، ادارے نے غزہ میں، جہاں بے روزگاری کی شرح 53 فیصد ہے، عوام کے لیے کم مدتی روزگار کے پروگرام کے بجٹ میں بھی 48 فیصد کمی کی ہے۔

یورپی یونین، اقوام متحدہ کے ادارے کو سب سے زیادہ امداد دے رہا ہے جبکہ مزید امداد رکن ممالک جرمنی، برطانیہ اور سویڈن وغیرہ سے آتی ہے تاہم میتھیوز شمال نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ امداد خطے میں امن بحال کرنے کے لیے ناکافی ہے۔