غزہ میں جنگ بندی، 3 روز میں 23 فلسطینی جاں بحق

06 مئ 2019

ای میل

غزہ میں موجود حکام کے مطابق جنگ بندی کا معاہدہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں سے متعلق ہے — فائل فوٹو/ اے ایف پی
غزہ میں موجود حکام کے مطابق جنگ بندی کا معاہدہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں سے متعلق ہے — فائل فوٹو/ اے ایف پی

غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 23 فلسطینیوں کی شہادت کے بعد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کردیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق 3 دن تک جاری رہنے والی کشیدگی میں 4 اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے 3 روز تک غزہ میں فضائی حملے کیے، اسرائیلی حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے حماس کی جانب سے فائر کیے جانے والے میزائلوں کے بعد غزہ پر فضائی حملے کیے۔

غزہ کے حکام نے تصدیق کی کہ فریقین کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ایک بجکر 30 منٹ پر ہوا جس کے بعد فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فضائیہ کے حملے روک دیئے گئے۔

فلسطینی حکام کا کہنا تھا کہ مصر اور قطر نے ثالث کا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں 3 روز سے جاری کارروائیاں ختم ہوئیں۔

مزید پڑھیں: غزہ: 2 روز سے جاری اسرائیلی حملوں میں 6 فلسطینی جاں بحق

اسرائیلی حکام نے بھی جنگ بندی کی تصدیق کردی، اسرائیلی آرمی نے گذشتہ ایک ہفتے سے غزہ کے قریبی علاقوں سے حفاظتی پابندیاں بھی اٹھا لیں۔

اسرائیل کے ٹرانسپورٹ کے وزیر نے اعلان کیا کہ شمالی علاقے کی جانب جانے والی بسز کا آپریشن معمول کے مطابق جاری رہے گا۔

اس کے علاوہ دونوں شہروں، ایشکلون اور بیئرہبا کے درمیان ٹرین سروس کو بھی بحال کردیا گیا۔

حماس کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ جنگ بندی کا معاہدہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں سے متعلق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دیگر اقدامات میں غزہ کی ساحلی پٹی پر 12 نوٹیکل میل تک شکار کی اجازت، غزہ میں رہنے والوں کے لیے بجلی اور تیل کی فراہمی بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 2 فلسطینی جاں بحق، لاکھوں کا احتجاج

دوسری جانب مصر کے حکام نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر معاہدے کی تصدیق کردی۔

اسرائیلی حکام کا دعویٰ کیا کہ فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل کے جنوبی حصے میں میزائل حملے کیے گئے تھے جس کے بعد فضائیہ نے غزہ میں حملے کیے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا مزید حملے کرنے کا حکم

گذشتہ روز اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ غزہ کی جانب سے اسرائیل پر مبینہ طور پر 450 راکٹ داغے گئے جس کے بعد ان کی جانب سے جوابی کارروائی بھی جاری ہے۔

اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ انہوں نے فوج کو غزہ کی پٹی پر مزید حملے کرنے کا حکم دے دیا۔

نیتن یاہو نے کابینہ اجلاس کے آغاز میں کہا کہ ’میں نے آج صبح (5 مئی کو) فوج کو غزہ کے علاقے میں مزید حملے جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے اور انہیں غزہ پٹی کے گرد ٹینکوں جنگی ساز و سامان اور نفری بھیجنے کا حکم دیا ہے‘۔

نیتن یاہو 9 اپریل کو ہونے والے قبل از انتخابات میں کامیابی کے بعد نئی حکومت کی تشکیل سے متعلق مذاکرات میں مصروف ہیں۔

اقوام متحدہ اور مصری حکام کی جانب سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کروائی گئی تھی جس کے بعد اسرائیل میں پرامن انتخابات کا انعقاد ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: غزہ: اسرائیلی فوج کے حملے میں 3 فلسطینی جاں بحق

خیال رہے کہ فلسطین سرحد کے ساتھ ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں گزشتہ ایک برس سے شرکت کررہے ہیں جو کبھی کبھی پرتشدد صورت اختیار کرجاتے ہیں۔

مظاہروں میں شریک افراد کا مطالبہ ہے کہ غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کیا جائے اور انہیں اس سرزمین پر جانے کی اجازت دی جائے جہاں سے ان کے آباؤ اجداد کو اسرائیل کے قیام کے بعد بے دخل کردیاگیا تھا۔

مارچ 2018 میں شروع ہونے والے ان مظاہروں کے نتیجے میں اب تک 268 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں جس میں زیادہ تر ہلاکتیں سرحد کے نزدیک ہوئیں جبکہ اس دوران 2 اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔