شدت پسند بدھ مت مسلم مخالف حملوں کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں، سری لنکن حکام

اپ ڈیٹ 15 مئ 2019

ای میل

فسادات میں مساجد پر حملے کیے گئے اور قرآن پاک کے نسخے جلائے گئے تھے — فائل فوٹو/اے ایف پی
فسادات میں مساجد پر حملے کیے گئے اور قرآن پاک کے نسخے جلائے گئے تھے — فائل فوٹو/اے ایف پی

سری لنکن حکام نے کہا ہے کہ بدھ مت شدت پسند مسلمان مخالف حملوں میں ملوث ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ 21 اپریل کو سری لنکا کے گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں ہونے والے حملوں میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جس کی ذمہ داری 'داعش' نے قبول کی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق مقامی افراد کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے شروع ہونے والے مسلمان مخالف فسادات میں سری لنکا کے شمال مغربی علاقوں میں مساجد پر حملے کیے گئے جہاں قرآن پاک کے نسخے جلائے گئے اور دکانوں پر پیٹرول بم سے حملے کیے گئے۔

مزید پڑھیں: سری لنکا میں مسجد پر حملہ، دوبارہ کرفیو نافذ

حکام نے اب تک 78 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں 3 سنہالا بدھ شدت پسند بتائے گئے جن کے خلاف کانڈی ضلع میں گزشتہ سال اس ہی طرح کے اقدامات کرنے پر تحقیقات کی جارہی تھیں۔

سری لنکا کے وزیر پلانٹیشن انڈسٹریز نے سیکیورٹی کی صورتحال پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ’مسلمانوں کے کاروبار اور ان کے علاقوں میں منظم طریقے سے حملے کیے جارہے ہیں‘۔

ان حملوں میں ملوث افراد سے متعلق انہوں نے 3 گرفتار بدھ شدت پسند افراد امتھ ویراسنگھ، دان پریاساد اور نمل کمارا کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ‘مجھے لگتا ہے کہ یہ 3 افراد ان حملوں کی سربراہی کر رہے ہیں‘۔

مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پریاساد کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے جبکہ ویرا سنگھ کو 28 مئی تک ریمانڈ پر دیا گیا ہے اور کمارا کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکا: مساجد کو خطبے کی کاپیاں جمع کرانے کا حکم

پولیس ترجمان ان گرفتاریوں کے بارے میں اطلاع دینے کے لیے اس رپورٹ کے شائع ہونے تک دستیاب نہیں ہوسکے تھے۔

خیال رہے کہ سری لنکا کی 2 کروڑ 20 لاکھ آبادی میں سے مسلمانوں کی آبادی 10 فیصد ہے جبکہ ملک میں اکثریت بدھ مت کی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران وزیر پبلک ایڈمنسٹریشن رنجیتھ بندارا کا کہنا تھا کہ ’حملہ آور گروہ کے سیاسی مقاصد ہیں‘۔

انہوں نے کسی تنظیم کا نام لیے بغیر کہا کہ ‘شدت پسند گروہ حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور دکھانا چاہتے ہیں کہ حکومت صورتحال پر قابو نہیں پاسکتی‘۔