آسٹریا: اسکولوں میں اسکارف پر پابندی کا قانون چیلنج کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 17 مئ 2019

ای میل

پرائمری اسکولوں میں ہیڈ اسکارف پر پابندی مسلمان لڑکیوں کیلئے تفریق کا سبب بنی گی، ایگو — فائل فوٹو / اے پی
پرائمری اسکولوں میں ہیڈ اسکارف پر پابندی مسلمان لڑکیوں کیلئے تفریق کا سبب بنی گی، ایگو — فائل فوٹو / اے پی

آسٹریا میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم نے پرائمری اسکولوں میں اسکارف پہننے کی پابندی کا قانون عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹرین وزیراعظم نے حال ہی میں پرائمری اسکول میں اسکارف پہننے کی پابندی کا قانون منظور کیا تھا۔

آسٹریا کی حکومت کے مطابق قانون کی رو سے پابندی کا اطلاق صرف مسلمانوں پر ہوگا، جبکہ سکھ اور یہودی مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ پٹکا اور کیپا پہن سکیں گے۔

آسٹریا کے آفیشل مسلم کمیونٹی تنظیم (ایگو) نے حکومتی فیصلے کو ’شرمناک‘ اور مذہبی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دیا۔

مزید پڑھیں: مسلم اسکارف پر پابندی 'جائز' قرار

رپورٹ کے مطابق تنظیم نے مجوزہ قانون کو آئینی عدالت میں چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریا میں تقریباً 7 لاکھ نفوس پر مشتمل مسلمانوں کی آبادی ہے جو مجموعی آبادی کا تقریباً 8 فیصد بنتا ہے۔

مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم نے موقف اختیار کیا کہ ’پرائمری اسکولوں میں ہیڈ اسکارف پر پابندی مسلمان لڑکیوں کے لیے تفریق کا سبب بنی گی۔'

انہوں نے کہا کہ ’ہم مذکورہ امتیازی قانون کو آئینی عدالت کے سامنے پیش کریں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: فرانس:اسکارف پہننے پر ملازمت سے برطرفی غیرقانونی

واضح رہے کہ آسٹرین حکومت نے گزشتہ برس اپریل میں یہ پابندی لگانے کا عندیہ دیا تھا تاہم وہ نرسری کلاس سے ہیڈ اسکارف پر پابندی کی خواہش مند تھی لیکن ملک بھر میں نرسری کی کلاسز صوبائی حکومتوں کے ماتحت ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے آئین میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

آسٹریا کے علاوہ دیگر کئی یورپی ممالک میں بھی اسکارف کے خلاف اقدامات اٹھائے جاچکے ہیں۔

اس نوعیت کا واقعہ فرانس میں پیش آیا تھا جس میں فرانسیسی خاتون کو اسکارف پہننے پر ملازمت سے نکال دیا تھا۔

بعد ازاں یورپی یونین کی عدالت کے مشیر نے مسلم فرانسیسی خاتون کو سر پر اسکارف پہننے پر ملازمت سے نکالنے کو غیر قانونی تجویز کیا تھا۔

مزید پڑھیں: فرانس میں برقینی پر عائد پابندی ختم

یورپی یونین کی عدالت کے قانونی مشیر ایڈوکیٹ جنرل الینار شارپسٹن نے ایک تحریری تجویز میں کہا تھا کہ مسلم خاتون کو اسکارف اتارنے سے انکار پر ملازمت سے برطرف کرنا غیر قانونی ہے، کسی کے ساتھ بھی ملازمت میں اسکارف پہننے پر امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جاسکتا۔

مسلم خاتون عاصمہ بوگنوئی فرانس کی ایک انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کمپنی میں ڈیزائنر انجینئر کے عہدے پر فائز تھیں، ان کو دوران ملازمت اسکارف اتارنے سے انکار کرنے پر برطرف کیا گیا جس کے بعد مسلم خاتون اپنا مقدمہ لے کر فرانسیسی عدالت پہنچ گئیں اور فرانسیسی عدالت نے یہ کیس یورپین کورٹ آف جسٹس (ای سی جے) کے حوالے کردیا تھا۔