حاملہ خاتون کو قتل کرکے پیٹ سے بچہ نکالنے والی خواتین گرفتار

اپ ڈیٹ 17 مئ 2019

ای میل

مقتولہ خاتون اور نومولود بچہ — فوٹو بشکریہ شکاگو ٹریبیون
مقتولہ خاتون اور نومولود بچہ — فوٹو بشکریہ شکاگو ٹریبیون

وہ اس خاتون کی زندگی کا پرمسرت ترین وقت سمجھا جارہا تھا مگر پھر وہ اچانک غائب ہوگئی۔

امریکی شہر شکاگو سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ مارلن اوچوہا لوپز 9 ماہ کی حاملہ تھیں اور بیٹے کو جنم دینے والی تھیں، مگر اپریل کے آخر میں وہ ہائی اسکول سے نکل کر اس خاتون سے ملنے گئیں جس سے اس کی ملاقات ایک فیس بک گروپ میں ہوئی تھی اور اس نے بچوں کے کپڑے اور اسٹرولر مفت دینے کی پیشکش کی تھی۔

مگر پھر کچھ غلط ہوا کیونکہ اس سہ پہر کو وہ خاتون اپنے 3 سالہ بیٹے کو ڈے کیئر سے لینے نہیں پہنچیں بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ وہ پھر کبھی گھر نہیں پہنچیں۔

خاتون کی ماں نے 2 مئی کو بتایا 'میری بیٹی بہت ذمہ دار تھی، وہ ایسی فرد نہیں تھی جو بس اچانک غائب ہوکر گھر چھوڑ جائے، میں یہ مان ہی نہیں سکتی کہ وہ ہمیں چھوڑ کر جاسکتی ہے، وہ 9 ماہ کے حمل کے دوران جبکہ اپنے بیٹے کو تنہا چھوڑ جائے، یقیناً کچھ غلط ہوا، بہت برا'۔

اور اس خاتون کی گمشدگی کے لگ بھگ ایک ماہ بعد اس کی ماں کے الفاظ درست ثابت ہوئے کہ بیٹی کے ساتھ کچھ بہت برا ہوا ہے۔

شکاگو ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں شکاگو کے حکام نے تصدیق کی کہ گمشدہ خاتون کی باقیات ایک کچرا دان سے ملی ہیں اور اسے گلا گھونٹ کر مارا گیا اور اس کے بعد اس کے نومولود بیٹے کو پیٹ کاٹ کر نکال لیا گیا۔

شکاگو پولیس نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس قتل کے الزام میں 46 سالہ کلاریسا فیگیورا اور اس کی 24 سالہ بیٹی ڈیزاری کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ ڈیزاری کے محبوب کو اس قتل میں معاونت پر گرفتار کیا گیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ قتل کا مقصد تاحال غیر واضح ہے مگر ہمارے خیال میں کلاریسا فیگورا اس بچے کی پرورش کرنا چاہتی تھی کیونکہ اس کا اکلوتا بیٹا 2017 میں ہلاک ہوگیا تھا۔

قتل کے الزام میں گرفتار خواتین — اے پی فوٹو
قتل کے الزام میں گرفتار خواتین — اے پی فوٹو

مقتولہ کے والد نے ایک بیان میں بتایا کہ ہم اس ملک میں اپنی بیٹی کی اچھی زندگی کے لیے آئے تھے، ہم اپنی بیٹی ساتھ ہونے والے جرم پر انصاف چاہتے ہیں۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ڈیزاری نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے حاملہ خاتون کا گلا گھونٹنے میں اپنی ماں کی مدد کی ہے، اب ان تینوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

پولیس نے مزید بتایا کہ قتل کے بعد بچے کو نکالنے کے بعد کلاریسا نے طبی امداد کے لیے فون کیا تھا جس کے بعد اسے نازک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا اور گزشتہ دنوں اسے دماغی طور پر مردہ قرار دیا گیا مگر اب بھی لائف سپورٹ پر ہے۔

مقتولہ کے شوہر کا کہنا تھا کہ آخر ان برے لوگوں نے ایسا کیوں کیا؟ میری بیوی نے تو کچھ بھی نہیں کیا تھا وہ تو ایک اچھی شخصیت کی مالک تھیں۔