پے پال کے پاکستان آنے سے انکار پر فری لانسرز پریشان

ای میل

اگست 2018 میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ارب ڈالر کا سنگِ میل عبور کیا — فوٹو: اسٹیٹ بینک
اگست 2018 میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ارب ڈالر کا سنگِ میل عبور کیا — فوٹو: اسٹیٹ بینک

کراچی: پاکستان کی فری لانسر کمیونٹی، جو دنیا کی تیسری بڑی کمیونٹی ہے، نے پے پال کی جانب سے پاکستان میں اپنی سروسز متعارف کروانے سے انکار پر مایوسی کا اظہار کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پے پال دنیا بھر میں آن لائن ادائیگیوں کا نظام چلاتی ہے جس سے رقم آن لائن طریقے سے منتقل کی جاتی ہے اور یہ دنیا بھر کی 190 مارکیٹس میں آپریٹ کرتی ہے۔

خیال رہے کہ فری لانسر اور ای کامرس سے وابستہ افراد کا طویل عرصے سے مطالبہ تھا کہ پے پال کو پاکستان لایا جائے اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے بھی پے پال کو پاکستان لانے کی کوششوں کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا تھا تاہم ان کی کوششیں رائیگاں گئیں۔

دو روز قبل کو سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں سیکریٹری انفارمیشن نے بتایا کہ ’پے پال نے ملک آپریشن کرنے سے انکار اس لیے نہیں کیا کہ اسے پاکستان میں کام کرنے سے مسئلہ ہے بلکہ ان کا داخلی نظام ایسا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنی سروسز متعارف کروانے کے لیے تیار نہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: آن لائن ادائیگی کی معروف کمپنی ’پے پال‘ کا پاکستان آنے سے انکار

خیال رہے کہ اگر پے پال پاکستان آگئی تو اس سے 2 لاکھ فری لانسرز اور 7 ہزار رجسٹرڈ چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد کو سہولت ملے گی اس کے علاوہ ہزاروں ایسے آن لائن کام کرنے والے افراد بھی ہیں، جو رجسٹرڈ نہیں۔

اس بارے میں سیکریٹری جنرل پاشا نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’بیرونِ ملک پے پال ادائیگیوں کا ایک حقیقی طریقہ کار ہے، ادائیگی کے کسی بین الاقوامی طریقہ کار کی عدم موجودگی میں فری لانسر اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کو دیگر طریقے ڈھونڈ کر بیرونِ ملک سے رقم حاصل کرنی پڑتی ہے‘۔

ایسے طریقوں کی وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ چھوٹے کاروبار کرنے والے کسی رشتہ دار کی مدد سے بیرونِ ملک اکاؤنٹ کھلواتے ہیں اور اس میں ادائیگیاں وصول کرتے ہیں، حکومتی نقطہ نظر سے یہ نظام میں ایک بڑی خلیج ہے جس میں لوگوں کو اپنی رقم بیرونِ ملک رکھنی پڑتی ہے۔

پاکستان میں اپنی سروسز متعارف کروانے میں پے پال کے تحفظات کے بارے میں ان کا کہنا تھا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ پوائنٹ آف سیل سسٹم (پی او ایس) نہیں لیا گیا، بین الاقوامی کمپنیاں مثلاً پے پال کسی مارکیٹ میں شامل ہونے سے قبل رقوم کی منتقلی کی تعداد اور بینک اکاؤنٹس دیکھتی ہیں اور پاکستان میں پی او ایس اور کریڈٹ کارڈز کی رسائی بہتر نہیں۔

مزید پڑھیں: پے پال، علی بابا کو پاکستان میں کام کی دعوت

اسٹیٹ بینک کے مطابق اس وقت ملک میں کریڈٹ کارڈز کی مجموعی تعداد 36 لاکھ ہے اور کمرشل بینک سے جاری کردہ ڈیبٹ کارڈ کا حصہ 52 فیصد یعنی 2 کروڑ 10 لاکھ ہے جبکہ 2017 کے اختتام تک بینک اکاؤنٹس کی تعداد 4 کروڑ 90 لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔

اسٹیٹ بینک کی اگست 2018 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ارب ڈالر کا سنگِ میل عبور کیا۔

اس کے علاوہ پی ٹی آئی حکومت نے آئی ٹی برآمدات کو سال 2020 تک 6 ارب ڈالر اور 2025 تک 10 ارب ڈالر تک وسعت دینے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں معیشت اور آئی ٹی سیکٹر کی ڈیجیٹائزیشن پر زور دیا گیا ہے۔

اس مقصد کی غرض سے آئی ٹی صنعت کے لیے خصوصی ٹاسک فورس بھی قائم کی گئی ہے جس میں اس صنعت کے بڑے نام شامل ہیں تاکہ نوکریاں پیدا کی جائیں اور برآمدات کو فروغ دیا جائے۔

دوسری جانب ای کامرس سے وابستہ افراد کا کہنا تھا کہ حکومت آئی ٹی انڈسٹری کی معاونت کے لیے تسلی بخش اقدامات نہیں کررہی۔

یہ بھی پڑھیں: تاریخ کی بڑی ٹیکنالوجی ڈیلز

اس حوالے سے نیشنل انکیوبیشن سینٹر کراچی کے ڈائریکٹر شاہجہاں چوہدری کا کہنا تھا کہ ’پہلی بات تو یہ کہ پے پال نے کبھی بھی پاکستان آنے کے لیے رضامندی کا اظہار نہیں کیا تھا، پاکستانی مارکیٹ کا حجم امریکی کمپنی کے لیے کافی نہیں جبکہ کریڈٹ کارڈ تک رسائی 30 لاکھ سے کم ہے۔