معروف کار ساز کمپنیوں کی 16 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری خطرے کا شکار

ای میل

الفطیم  کے رینالٹ کمپنی کے منصوبے سے دستبرداری یا تاخیر سے متعلق کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا — فائل فوٹو/ اے ای پی
الفطیم کے رینالٹ کمپنی کے منصوبے سے دستبرداری یا تاخیر سے متعلق کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا — فائل فوٹو/ اے ای پی

کراچی: پاکستان میں معروف کار ساز کمپنی الفطیم کی جانب سے رینالٹ کے منصوبے سے دستبرداری پر غور کرنے سے متعلق رپورٹس پر سرکاری محکموں کا کہنا ہے کہ 'خلیجی اور فرانس کی کمپنیوں کی جانب سے اب تک کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا'۔

اس سے قبل مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ 'کار ساز کمپنی رینالٹ نے پاکستان میں مینوفیکچرنگ پلانٹ کی سرمایہ کاری کے لیے الفطیم کا لائسنس منسوخ کردیا ہے'، جس کے بعد الفطیم نے منصوبے میں اپنی سرمایہ کاری روکنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم ڈان سے بات کرتے ہوئے بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) کے چیئرمین ہارون شریف نے کہا کہ انہیں کمپنی سے رابطہ کرنے کے باوجود منصوبے سے دستبرداری یا اس میں تاخیر سے متعلق کسی رپورٹ کی تصدیق موصول نہیں ہوئی۔

ال غازی ٹریکٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہد حسین نے اس منصوبے کے معاملات سنبھالے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا کہ 'وہ اس وقت یہ تصدیق نہیں کرسکتے کہ الفطیم-رینالٹ کا منصوبہ ختم ہوگیا ہے'۔

مزید پڑھیں: رینالٹ نے پاکستان میں پلانٹ لگانے کے لیے زمین حاصل کرلی

انہوں نے مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر کہا کہ 'ہم اب تک اس منصوبے کا حصہ ہیں اور اس کا جائزہ لینے کے مرحلے میں ہیں'۔

فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ اینڈ مینیجنٹ کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر عامر سلیمی نے تصدیق کہ الفطیم-رینالٹ منصوبے سے وابستہ کئی افراد یا تو اپنی ملازمت چھوڑ چکے ہیں یا اس وقت نئی نوکری کی تلاش میں ہیں۔

دوسری جانب انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے الفطیم گروپ نے گزشتہ برس مئی میں ایم-3 انڈسٹریل سٹی میں 67 ایکڑ اراضی خریدی تھی جہاں پاکستان میں رینالٹ سمیت دیگر گاڑیوں کی تیاری اور اسمبلنگ کے لیے مینوفیکچرنگ پلانٹ تعمیر کیا جانا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ منصوبے پر 16 کروڑ 50 لاکھ ڈالر لاگت آنا تھی جس کے نتیجے میں 5 سو ملازمتوں کی آسامیاں نکلنی تھیں لیکن 'کمپنی نے اب تک پلانٹ کی تعمیر کا آغاز ہی نہیں کیا'۔

عامر سلیمی نے کہا کہ انہیں الفطیم کی جانب سے منصوبے سے دستبرداری یا تاخیر کیے جانے کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ملی۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کار 2021 میں ختم ہونے والے آٹو پالیسی کی مدت میں 2023 تک توسیع کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی سرمایہ کار اسپیشل اکنامک زون انسینٹو کے تحت 10 سالہ ٹیکس چھوٹ میں بھی توسیع چاہتے ہیں۔

رواں ہفتے کے آغاز میں وزیراعظم عمران خان کو الفطیم–رینالٹ منصوبے میں درپیش مشکلات سے آگاہ کیا گیا تھا جس پر وزیراعظم نے متعلقہ محکموں کو آٹو سیکٹر میں بھاری سرمایہ کاری کو بچانے کے لیے حکومت کی جانب سے موجود رکاوٹوں کو ختم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: رینالٹ کا پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے کا معاہدہ

مزید برآں انجینئرنگ ڈیولمپنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ انہیں بھی منصوبے میں تاخیر یا خاتمے سے متعلق الفطیم یا رینالٹ کی جانب سے کوئی باقاعدہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

2018 میں الفطیم نے اعلان کیا تھا کہ منصوبے کے ڈیزائن اور پری انجینئرنگ سے متعلق کام جاری ہے اور فیصل آباد میں آن سائٹ سرگرمیوں کا آغاز بھی جلد کیا جائے گا۔

کمپنی نے اپنے اعلان میں یہ بھی کہا تھا کہ منصوبے کو 2018 کی آخری سہ ماہی میں مکمل کیا جائے گا اور 2020 تک پروڈکشن کا آغاز کردیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی آئی ہے اور جنوری 2018 سے لے کر اب تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے منصوبے کی لاگت بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کے اقتصادی استحکام میں بھی کمی آئی ہے۔

حیران کن طور پر سابق فرانسیسی سینیٹر پاسکل ایلیزرڈ نے 3 رکنی فرانسیسی پارلیمانی گروپ کی قیادت کرتے ہوئے کہا تھا کہ رینالٹ پاکستان میں اپنا مینوفکچرنگ پلانٹ قائم رکھنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔


یہ خبر 18 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی