رتوڈیرو: ایڈز متاثرین میں 5 سال سے کم عمر بچوں کی تعداد زیادہ

محکمہ صحت اور ہیلتھ کیئر کمیشن سندھ نے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے غیر منظور شدہ لیبارٹریز اور بلڈ بینکس بھی بند کروادیے ہیں— فائل فوٹو/رائٹرز
محکمہ صحت اور ہیلتھ کیئر کمیشن سندھ نے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے غیر منظور شدہ لیبارٹریز اور بلڈ بینکس بھی بند کروادیے ہیں— فائل فوٹو/رائٹرز

صوبہ سندھ کے علاقوں رتو ڈیرو اور لاڑکانہ میں اب تک سامنے آنے والے 534 ایچ آئی وی کیسز میں سب سے زیادہ 2 سے 5 سال اور 6 سے 15 سال کی عمر کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور ان میں بھی سب سے زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اب تک ایچ آئی ایڈز سے متاثر ہونے والے کم عمر ترین بچے کی عمر ایک ماہ جبکہ سب سے بڑی عمر کے شخص کی عمر 70 سال ہے۔

یہ بات اس رپورٹ میں سامنے آئی جو میں فیلڈ ایپی ڈیمالوجی اور لیبارٹری ٹیم نے ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز سندھ حیدر آباد نے جمع کروائی۔

رپورٹ میں اتائی ڈاکٹروں، غیر منظور شدہ لیبارٹریز اور بلڈ بینکس کے خلاف فوری کارروائی کرنے کی تجویز دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 23 ہزار سے بڑھ گئی

رپورٹ کے مطابق 25 اپریل سے 16 مئی تک کُل 14 ہزار 810 افراد کا ٹیسٹ کیا گیا جس میں ایچ آئی وی کے 534 کیسز پائے گئے جس میں 49.4 فیصد مرد جبکہ 50.6 فیصد خواتین شامل ہیں۔

عمر کے لحاظ سے ایچ آئی وی انفیکشن سے متاثر ہونے والوں کی درجہ بندی میں 2 سے 5 سال کی عمر کے بچے (55.05 فیصد)، 6 سے 15 سال کی عمر کے (18.7 فیصد)، 15 سے 45 سال کی عمر کے (16.4 فیصد) اور 46 سے زائد عمر کے 2.4 فیصد افراد متاثر ہوئے۔

اب تک کیے گئے حکومتی اقدامات کے بارے میں رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایس اے سی پی نے رتو ڈیرو تعلقہ ہسپتال میں ایک اسکریننگ کیمپ لگایا جبکہ شیخ زید چلڈرن ہسپتال لاڑکانہ میں ایچ آئی وی/ایڈز کا علاج کا سینٹر قائم کیا گیا۔

یہ بھی دیکھیں: اندرونِ سندھ میں ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 500 سے تجاوز

علاوہ ازیں محکمہ صحت اور ہیلتھ کیئر کمیشن سندھ نے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے غیر منظور شدہ لیبارٹریز اور بلڈ بینکس بھی بند کروادیے۔

اس کے ساتھ رپورٹ میں مزید چھپے ہوئے کیسز دریافت کرنے کے لیے تعلقہ ہیڈکوارٹر ہسپتال رتو ڈیرو میں مزید اسکریننگ کیمپ کے قیام کی بھی تجویز دی گئی، اس کے ساتھ ایڈز کے پھیلاؤ کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے اور متاثرہ افراد کے قرینی رشتہ داروں کے ٹیسٹ کرنے کی بھی تجویز دی گئی۔

اس کے ساتھ شناخت کیے گئے کیسز کی ایس اے سی پی کے ذریعے کیس مینجمنٹ، فالو اپ اور ضلعی صحت کے حکام اور ایچ آئی وی پروگرام کے درمیان روابط اور تعاون تشکیل دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

تبصرے (1) بند ہیں

Khizar May 18, 2019 02:43pm
Na jane hokumat sindh larkana k hi aasar qadima mae dafan ho choki h or log enko qq vote dyte hn