پشاور: احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کا 2 روز کے لیے او پی ڈی کھولنے کا اعلان

20 مئ 2019

ای میل

ڈاکٹرز خیبر پختونخوا کے وزیر صحت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے — فائل فوٹو/ڈان
ڈاکٹرز خیبر پختونخوا کے وزیر صحت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے — فائل فوٹو/ڈان

خیبر پختونخوا ڈاکٹرز کونسل نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں او پی ڈی کل تک کے لیے کھولنے کا اعلان کردیا تاکہ مریضوں کی دیکھ بھال کی جاسکے تاہم انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ سے مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ صوبائی وزیر صحت کے خلاف دوبارہ ہڑتال کا آغاز کردیں گے۔

پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور دیگر سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈی مکمل طور پر بند رہی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے خیبر ٹیچنگ ہسپتال (کے ٹی ایچ) کے ڈاکٹروں نے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے پر ہڑتال کردی تھی۔

بعد ازاں سراپا احتجاج ڈاکٹروں نے ٹاؤن پولیس اسٹیشن سے متصل یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک بلاک کردی تھی۔

مزید پڑھیں: وزیرصحت کےخلاف مقدمہ درج ہونے تک خیبرپختونخوا کے ڈاکٹرز کا ہڑتال کا اعلان

اسی دوران ڈاکٹروں پر مشتمل پانچ رکنی ٹیم صوبائی وزیر کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے گئی تو انہیں بھی مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

کے پی ڈی ایس کے رکن ڈاکٹر سراج نے بتایا تھا کہ ’وزیر صحت ڈاکٹر حشام انعام اللہ خان اور ان کے سیکیورٹی گارڈز کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہونے تک تمام طبی مراکز میں ہڑتال جاری رہے گی‘۔

پولیس نے ہسپتال حکام کا بیانات ریکارڈ کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے تاہم ایف آئی آر درج کیا جانا اب بھی باقی ہے۔

پولیس کو وزیر صحت کی پولیس سروسز ہسپتال کی جانب سے میڈیکو لیگل رپورٹ موصول ہوگئی جس میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر حشام کے پیر میں فریکچر آیا تھا۔

ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن نے قومی صحت ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹر نوشیر وان برکی کی برطرفی کا مطالبہ کیا جنہوں نے صوبے میں صحت کے شعبے میں متعدد اصلاحات لانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

ڈاکٹروں نے ان پر الزام لگایا کہ وہ ہسپتالوں کی نجکاری کرنا چاہتے ہیں اور اس سے ان کی نوکری خطرے میں آجائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں اور نجی کلینکس میں دوسرے روز بھی ہڑتال

ڈاکٹر ضیااللہ آفریدی نے بھی پولیس کو میڈیکل رپورٹ جمع کرائی تاہم اسے فورنزک کے لیے بھجوادیا گیا۔

پولیس حکام جنہوں نے نام نہ ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا تھا، کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر آفریدی کی رپورٹ خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں تیار کی گئی اور جنہوں نے اسے تیار کیا ان میں سے چند احتجاج کا حصہ ہیں جس کی وجہ سے پولیس اس بات کی یقین دہانی کرانا چاہتی ہے کہ رپورٹ کو ان کے حق میں تبدیل نہ کردیا گیا ہو۔

ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (آپریشنز) ظہور بابر آفریدی کا کہنا تھا کہ پولیس اس وقت تک ایف آئی آر درج نہیں کرسکتی جب تک انہیں ڈاکٹر ضیااللہ آفریدی کی میڈیکو لیگل رپورٹ نہ مل جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ حتمی رپورٹ موصول ہونے کے بعد پولیس فیصلہ کرے گی کہ ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے یا نہیں۔

دریں اثنا خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے سیکیورٹی مینیجر کرنل ریٹائرڈ عثمان سے ہسپتال انتظامیہ نے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔

ہسپتال میں تعینات ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس سے بھی انتظامیہ کی تجویز پر اضافی چارج واپس لے لیا گیا۔