بلٹ پروف گاڑیوں کے استعمال پر نیب کو نوازشریف سے تفتیش کی اجازت

اپ ڈیٹ 21 مئ 2019

ای میل

نواز شریف پر سرکاری گاڑیوں کو ذاتی استعمال میں رکھنے کا الزام ہے — فائل فوٹو/ اے ایف پی
نواز شریف پر سرکاری گاڑیوں کو ذاتی استعمال میں رکھنے کا الزام ہے — فائل فوٹو/ اے ایف پی

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تا حیات قائد نواز شریف سے 20 بلٹ پروف سرکاری گاڑیوں کو ذاتی استعمال میں رکھنے سے متعلق تفتیش کی اجازت دے دی۔

نیب نے احتساب عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ ان کے تفتیشی افسر کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے تفتیش کی اجازت دی جائے، جیسے منظور کرلیا گیا۔

خیال رہے کہ حکومت نے 2016 میں جنوبی ایشیائی تنظیم برائے علاقائی تعاون (سارک) کے اجلاس کے لیے 34 بلٹ پروف گاڑیاں درآمد کیں تھیں، مذکورہ اجلاس میں نریندر مودی نے شرکت سے انکار کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کیلئے درخواست پر سماعت آج ہوگی

نیب کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے مطابق سرکاری کاروں کا غیر قانونی استعمال کیا گیا اور 34 میں سے 20 کاریں نواز شریف کے ذاتی استعمال میں رہیں جو قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔

اس حوالے سے نیب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد اور سابق سیکریٹری خارجہ سے تفتیش کرچکا ہے۔

نیب کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے اہل خانہ نے سرکاری بلٹ پروف گاڑیوں کا غیر قانونی طور پر استعمال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مذکورہ گاڑیاں سارک اجلاس میں شرکت کرنے والے غیر ملکی مہمانوں کے لیے جرمنی سے درآمد کی تھیں۔

گزشتہ برس 6 جولائی کو جب احتساب عدالت نے نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں 10 سال قید کی سزا سنائی تھی، بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم کی سزا معطل کرکے انہیں ضمانت دے دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ:نواز شریف کی ضمانت میں توسیع،بیرون ملک علاج کی درخواست مسترد

جس کے بعد اسی سال 24 دسمبر کو احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا کے ساتھ ساتھ ایک ارب روپے اور ڈھائی کروڑ ڈالر علیحدہ علیحدہ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

تاہم احتساب عدالت نے نواز شریف کو فلیگ شپ ریفرنس میں شک کی بنیاد پر بری کردیا تھا۔