سپریم کورٹ:نواز شریف کی ضمانت میں توسیع،بیرون ملک علاج کی درخواست مسترد

اپ ڈیٹ 03 مئ 2019

ای میل

سابق وزیر اعظم نے ضمانت میں توسیع کے لیے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا تھا—فائل فوٹو: اے پی
سابق وزیر اعظم نے ضمانت میں توسیع کے لیے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا تھا—فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا کا سامنا کرنے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ضمانت میں توسیع اور بیرون ملک علاج کی درخواست کو مسترد کردیا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع اور بیرون ملک علاج سے متعلق نظرثانی درخواست پر سماعت کی، اس دوران سابق وزیر اعظم کی جانب سے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے۔

سماعت کے دوران خواجہ حارث نے کہا کہ فیصلہ خود کہتا ہے کہ گرفتاری دیے بغیر ضمانت میں توسیع کی درخواست نہیں دی جاسکتی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہی فیصلہ تھا، اس پر وکیل نے جواب دیا کہ عدالت نے جو فیصلہ زبانی سنایا اس میں تبدیلی فریقین کو سنے بغیر نہیں ہو سکتی۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نہیں قانون اس کے برعکس ہے، دستخط سے قبل عدالت تحریری فیصلے کو بھی بدل سکتی ہے لیکن آج آپ کے لیے تمام راستے کھلے ہیں، جس پرخواجہ حارث نے کہا کہ میں بھی جانتا ہو کہ دستخط کے بغیر زبانی حکم کی کوئی حیثیت نہیں۔

مزید پڑھیں: العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو 7 سال قید، فلیگ شپ ریفرنس میں بری

ساتھ ہی جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے فیصلے سے قبل جو کچھ کہا گیا وہ فیصلہ نہیں عدالتی آبزرویشن تھی۔

دوران سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ 6 ہفتوں کے بعد آپ کے لیے تمام آپشن موجود ہیں، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ آپ کے فیصلے کے مطابق نواز شریف کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے سے پہلے گرفتاری دینا لازمی ہے، یہ فیصلہ درست نہیں کہ 6 ہفتوں کے بعد جو بھی طبی صورتحال ہو گرفتاری دینا ضروری ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ وہ پورا پیکج ہے جو آپ کو ملا ہے۔

اس پر خواجہ حارث نے دلائل دیے کہ میں نے کہا تھا کہ میرے موکل 8 ہفتے بعد سرنڈر کریں گے، میں نے نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ بھی دی تھی، آپ نے کہا تھا کہ کیس کو التوا میں نہیں رکھنا چاہیے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم مستقبل کے حوالے سے کوئی بات نہیں کریں گے، بیماری کے بارے میں ڈاکٹرز بہتر بتاسکتے ہیں۔

سماعت کے دوران خواجہ حارث نے چیف جسٹس سے کہا کہ اخبار میں آپ کے ریمارکس چھپے ہیں کہ ہائی کورٹ سے رجوع کریں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے موکل کے پاس حل موجود ہے، وہ فائدہ لے سکتے ہیں، تاہم آپ نے بیرون ملک جانے کے لیے اجازت مانگی ہے۔

اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ توسیع کی درخواست اس لیے دی ہے کہ ضمانت کی مدت ختم ہورہی ہے، اجازت دی جائے کہ گرفتاری کے بغیر ہائی کورٹ سے رجوع کرسکیں۔

اس موقع پر نواز شریف کے وکیل نے عدالت سے نواز شریف کی مزید 8 ہفتوں کے لیے ضمانت میں توسیع کی استدعا کی اور کہا کہ 8 ہفتوں بعد نواز شریف کی طبی صورتحال دیکھ کرعدالت فیصلہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ 7 مئی کو سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو دی گئی ضمانت کی مدت ختم ہورہی ہے، میرے موکل کی طبیعت خراب ہے ضمانت میں توسیع دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی درخواست ضمانت منظور،کوٹ لکھپت جیل سے رہا

خواجہ حارث نے کہا کہ میرے موکل کی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے، میڈیکل رپورٹس کے مطابق انجیو گرافی کی ضرورت ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ انجیوگرافی کےلیے ایک گھنٹہ درکار ہوتا ہے ہم نے 6 ہفتے دیے۔

عدالتی ریمارکس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق نواز شریف متعدد بیماریوں میں مبتلا ہیں، اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا انہوں نے کوئی علاج کروایا ہے اور کیا علاج کرایا ہے؟ جس پر انہیں بتایا گیا کہ نواز شریف نے علاج کروایا ہے اور رپورٹس کے مطابق ان کی صحت مزید بگڑ رہی ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یعنی ضمانت ملنے سے نواز شریف کا نقصان ہوگیا، جس پرعدالت میں قہقہے بلند ہوئے۔

عدالت میں سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل نے ایک عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ جو دلیل دے رہے ہیں وہ آپ کے خلاف جارہی ہے، ہم آپ کو کسی فورم سے رجوع کرنے کا نہیں کہیں گے، اس بات کے پابند نہیں کہ آپ کو بتائیں کس فورم سے رجوع کریں، ہم مستقبل کے امکان پر بات نہیں کرسکتے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ نواز شریف کو طبی بنیادوں پر 6 ہفتے کیلئے ضمانت دی گئی، میڈیکل رپورٹس میں انجیوگرافی کرانے کی بات کی گئی اس لیے ضمانت دی، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ یہ معاملہ انجیوگرافی کا نہیں ہے، درخواست گزار کو اور بھی بیماریاں لاحق ہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف کی صحت سے متعلق ہمیں 31 طبی ماہرین کی رائے اور 5 میڈیکل بورڈز کا حوالہ دیا گیا۔

اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدالتی فیصلے نے درخواست گزار کو ملک سے باہر جانے سے روکا، درخواست گزار کو رضا کارانہ طور پر 6 ہفتوں کے بعد گرفتاری دینے کا عدالت نے کہا، آپ نے ہائیکورٹ کو بھی ہمیں 6 ہفتوں سے قبل سننے پر پابندی عائد کردی۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا

وکیل کے جواب پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا نواز شریف نے ضمانت سے رہائی کے بعد اپنا علاج کروایا؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ جی انہوں نے ہائپر ٹیشن اور شوگر کا علاج کرایا ہے لیکن ان کا مرض قلب مزید پیچیدہ ہو گیا ہے اس مرض کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ مرض قلب کے علاج کے لیے انہیں انستھیسیا (anesthesia) دینا ہوگا، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا انہوں نے ماہرین قلب سے رہائی کے بعد کوئی رائے لی ہے، اس پر وکیل نے بتایا کہ جی ان کی رہائی کے بعد کی میڈیکل رپورٹس عدالت میں جمع کرادی ہے۔

اس دوران خواجہ حارث نے رپورٹ پڑھ کر سنائی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ضمانت پر جانے سے تو آپ کے موکل کی حالت مزید خراب ہوگئی ہے۔

عدالتی ریمارکس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے والد بھی دل کے عارضے کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے۔

خواجہ حارث کی جانب سے دیے جانے والے دلائل پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں وہ طبی مشورے بتائیں جو ڈاکٹرز نے رہائی کے بعد دیے، ہمارے پاس اچھے ڈاکٹرز اور مشینیں موجود ہیں، ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ یہاں ان کا علاج ممکن نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ نے درخواست ضمانت میں میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پیش کی تھی، میڈیکل بورڈ نے انجیوگرافی کو لازمی قرار دیا تھا، اسی وجہ سے ہم نے آپ کو ضمانت دی، اب آپ کہتے ہے کہ ملک میں علاج ممکن نہیں آپ اپنی ہی پہلی درخواست سے باہر چلے گئے ہیں۔

اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کی کیروٹڈ آرٹری 50 فیصد بڑھ چکی ہے یہ بہت ہی خطرناک ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جن ڈاکٹرز کی رائے پر آپ بتا رہے ہیں انہوں نے حتمی بات نہیں کی۔

سماعت کے دوران اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے خواجہ حارث نے کہا کہ دنیا میں انجیوگرافی کے متبادل کارڈیک ایم آر آئی کی جاتی ہے، پاکستان میں کارڈیک کی ایم آر آئی ممکن نہیں، کارڈیک ایم آر آئی سے متعلق ہمیں سوائے آغا خان ہسپتال کے کسی ہسپتال نے جواب نہیں دیا، آغا خان ہسپتال نے بھی یہی کہا کہ کارڈیک ایم آر آئی پاکستان میں دستیاب نہیں۔

وکیل کے دلائل پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے تو ضمانت نواز شریف کے علاج کے لیے دی تھی لیکن 6 ہفتے صرف ٹیسٹ پر صرف کیے ہیں۔

ساتھ ہی عدالت نے بیرون ملک ڈاکٹر عدنان کی نواز شریف سے خط و کتابت پر سوال اٹھایا اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا سزا کی معطلی اور ضمانت پر رہائی کوئی انہونی بات ہے، سیاسی نظیریں موجود ہیں، جہاں سزائیں موت والے قیدیوں کی بھی عدالت نے طبی بنیادوں پر سزا معطل کی، پتہ نہیں ہر چیز کو سیاسی رنگ کیوں دیا جاتا ہے اور ہر بات پر عدالت کی تضحیک کی کوشش کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'نواز شریف کی ضمانت کے ساتھ عمران خان کا جھوٹ بے نقاب ہوگیا'

بعد ازاں عدالت میں طویل دلائل جاری رہنے کے بعد سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ضمانت میں توسیع اور بیرون ملک علاج کی درخواست کو مسترد کردیا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا، جس میں ریمارکس دیے گئے کہ نواز شریف کو 6 ہفتے کا وقت علاج کے لیے دیا تھا، وہ ان 6 ہفتوں میں علاج کے بجائے ٹیسٹ ہی کرتے رہے۔

خیال رہے کہ 26 مارچ کو سپریم کورٹ نے نواز شریف کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں 6 ہفتوں کی عبوری ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ سنایا تھا تاہم فیصلے میں شرائط رکھی گئی تھیں کہ وہ اس دوران پاکستان سے باہر نہیں جاسکتے۔

عدالتی فیصلے پر سابق وزیر اعظم کے وکیل نے 30 اپریل کو سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ نواز شریف جنہیں مختلف بیماریوں کا سامنا ہے، کے لیے انصاف کا تقاضا ہے کہ درخواست گزار کی ضمانت پر رہائی میں لگائی گئی شرائط پر نظر ثانی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے لیے بہتر ہے کہ ان کا اسی ڈاکٹر سے علاج کرایا جائے جو برطانیہ میں اس سے قبل ان کا علاج کرتے رہے ہیں۔

نواز شریف کی جانب سے دائر نظر ثانی اپیل میں کہا گیا کہ ’اگر عبوری ضمانت میں توسیع نہ کی گئی تو ناقابل تلافی نقصان ہوگا‘۔

العزیزیہ ریفرنس

یاد رہے کہ 24 دسمبر 2018 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نیب کی جانب سے دائر العزیزیہ اسٹیل ملز اور فیلگ شپ ریفرنسز پر فیصلہ سنایا تھا۔

عدالت نے نواز شریف کو فلیگ شپ ریفرنس میں شک کی بنیاد پر بری کردیا تھا جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا کے ساتھ ساتھ ایک ارب روپے اور ڈھائی کروڑ ڈالر علیحدہ علیحدہ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

علاوہ ازیں نواز شریف کو عدالت نے 10 سال کے لیے کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے سے بھی نااہل قرار دے دیا تھا۔ مذکورہ فیصلے کے بعد نواز شریف کو گرفتار کرکے پہلے اڈیالہ جیل اور پھر ان ہی کی درخواست پر انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔

جس کے بعد اس فیصلے کے خلاف اور ضمانت منسوخی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا، جہاں 25 فروری کو عدالت نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا تھا کہ نواز شریف کی کسی میڈیکل رپورٹ سے یہ بات ظاہر نہیں ہوتی کہ ان کی خراب صحت ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔