سعودی عرب میں اسلحہ ڈپو پر حوثیوں کا ڈرون حملہ

اپ ڈیٹ 21 مئ 2019

ای میل

یمن سرحد پر سعودی فوجی پہرا دے رہے ہیں — فائل فوٹو/اے پی
یمن سرحد پر سعودی فوجی پہرا دے رہے ہیں — فائل فوٹو/اے پی

یمن کے حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے فوجی بیس والے ایئرپورٹ پر بم سے لیس ڈرون سے حملہ کیا۔

حملے کے نتیجے میں جانی یا مالی نقصان کے حوالے سے تاحال کوئی اطلاعات سامنے نہیں آسکیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'الجزیرہ' کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں کا سیٹلائٹ نیوز چینل المسیرۃ کا کہنا تھا کہ حملہ نجران میں ایئرپورٹ پر 'قاصف 2' ڈرون سے کیا گیا جس کے ذریعے اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

سعودی یمن سرحد پر واقع نجران کا علاقہ ریاض سے 840 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں حوثیوں کی جانب سے ماضی میں بھی متعدد حملے کیے جاتے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’معاشی دہشت گردی اور قتل و غارت کی دھمکیوں سے ایران کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا‘

قبل ازیں سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں سعودی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ حوثیوں نے نجران میں ایک شہری علاقے پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات کی مزید وضاحت نہیں کی تھی۔

انہوں نے حوثیوں کو ایران کی دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اس طرح کے حملوں کی سخت مزاحمت سامنے آئے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ماضی میں بھی اس ہی طرح کے حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں سعودی قیادت میں یمن میں فضائی حملے سامنے آئے تھے جس میں کئی شہری بھی ہلاک ہوئے تھے اور اس پر عالمی سطح پر تنقید بھی سامنے آئی تھی۔

خیال رہے کہ مشرق وسطیٰ میں شہری ایئرپورٹس پر زیادہ تر فوجی بیسز بھی قائم ہیں۔

نجران میں امریکی؟

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے گزشتہ سال رپورٹ کیا تھا کہ نجران میں امریکی خفیہ اداروں کے ماہرین سعودی اور سرحد پر تعینات امریکی فوج کے گرین بیریٹس کی رہنمائی کر رہی ہے۔

پینٹاگون اور امریکی فوجی سینٹرل کمانڈ نے واقعے پر فوری طور رائے دینے سے انکار کیا۔

مکہ پر بیلسٹک میزائل حملہ

قبل ازیں عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب نے مکہ اور جدہ پر یمنی حوثیوں کے مبینہ میزائل حملے ناکام بنادیے تھے۔

سعودی ایئر ڈیفنس فورس نے گزشتہ روز صبح سویرے داغے گئے دونوں میزائل ہدف تک پہنچنے سے پہلے فضا ہی میں تباہ کردیے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک میزائل طائف جب کہ دوسرا میزائل جدہ کی فضائی حدود میں مار گرایا گیا۔

پاکستان نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناکام بنانے پر چاق و چوبند بہادر سعودی افواج کو سراہا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران باز آجائے یا پھر 'خاتمے' کیلئے تیار رہے، امریکی صدر کی دھمکی

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے اپنے اس عزم کو دہرایا ہے کہ سلطنت کی سلامتی کو لاحق ہونے والے کسی بھی خطرے کے خلاف پاکستان سعودی عرب کی حمایت کرے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سعودی عرب کی تیل کمپنی پر ڈرون حملے اور متحدہ عرب امارات کے ساحل پر تیل بردار جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ان حملوں کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کی کڑی قرار دیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ ریاض نے تہران کو مذکورہ حملوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا، جس کی ذمہ داری یمن کے حوثی قبائل نے قبول کی تھی۔

علاوہ ازیں سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان نے خلیجی اور عرب رہنماؤں کو 30 مئی کو مکہ مکرمہ میں طلب کیے گئے ہنگامی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی جس میں حملے کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔