'ایمنسٹی اسکیم میں 2 فیصد سیلز ٹیکس ادا کرکے واجبات کلیئر کروائے جاسکتے ہیں'

اپ ڈیٹ 22 مئ 2019

ای میل

سیلز ٹیکس ادا کرنے والے صارفین کی تعداد صرف 38 ہزار ہے جو بہت بڑا فرق ہے، چیئرمین ایف بی آر — فوٹو: ڈان نیوز
سیلز ٹیکس ادا کرنے والے صارفین کی تعداد صرف 38 ہزار ہے جو بہت بڑا فرق ہے، چیئرمین ایف بی آر — فوٹو: ڈان نیوز

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نئے چیئرمین شبر زیدی نے کہا ہے کہ صنعتی صارفین ایمنسٹی اسکیم کے تحت سیلز ٹیکس کا 2 فیصد ادا کرکے واجبات کلیئر کرواسکتے ہیں اور ٹیکس نیٹ میں شامل بھی ہوسکتے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ اکاؤنٹس منجمد کرنے کے حوالے سے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، تاہم ہمارا مقصد کاروبار کے لیے ماحول پیدا کرنا ہے۔

اکاؤنٹ کو منجمد کرنے سے متعلق سوال کے جواب انہوں نے بتایا کہ اکاؤنٹ منجمد کرنے سے قبل صارف کو 24 گھنٹے پہلے آگاہ کیا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایمنسٹی اسکیم کی ایک شق میں تبدیلی کی گئی ہے جس کے مطابق ٹیکس نادہندہ 30 جون تک سیلز ٹیکس کے 2 فیصد واجبات ادا کرکے اپنی تمام واجبات ڈکلیئر کرتے ہوئے ہمارے پاس آسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: شبر زیدی کی بطور ایف بی آر چیئرمین تعیناتی چیلنج

شبر زیدی نے بتایا کہ اس وقت ڈسکوز (بجلی کی ترسیلی کمپنیاں) کے پاس بجلی کے رجسٹرڈ صنعتی صارفین کی تعداد 3 لاکھ 41 ہزار ہے جبکہ رواں برس 7 ہزار صنعتی گیس کنکشنز فراہم کیے گئے ہیں۔

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ملک بھر میں سیلز ٹیکس ادا کرنے والے صارفین کی تعداد صرف 38 ہزار ہے جو بہت بڑا فرق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رواں برس یکم جولائی کے بعد ایف بی آر صنعتی صارفین کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے قانون سازی بھی کروائے گی جبکہ ان افراد کے خلاف کارروائی کا آغاز بھی کردیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ صنعتی صارف کو پہلے ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے گی جبکہ اس کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ یہ صارف کس طرح ٹیکس کی ادائیگی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: شبر زیدی اعزازی چیئرمین ایف بی آر تعینات، نوٹی فکیشن جاری

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایسا بھی ممکن ہوسکتا ہے کہ ایسے بھی صارف سامنے آئیں جن پر ٹیکس لاگو ہی نہیں ہوتا ہو۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ہم مینوفیکچررز سے مصالحت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم میری ان تمام حضرات سے درخواست ہے کہ اس سے فائدہ اٹھائیں کیونکہ جولائی کے بعد اس کی وہ شکل نہ رہے جو آج موجود ہے۔

شبر زیدی نے بتایا کہ ملک میں ایک لاکھ کمپنیاں سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہیں جن میں سے 50 ہزار کمپنیاں ٹیکس فائلر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ایس ای سی پی چیئرمین کو خط لکھا ہے کہ ان 50 ہزار کمپنیوں سے متعلق پتہ لگائیں اور انہیں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں ایف بی آر کی جانب سے غلطیاں ہوئی ہیں اور عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے کے لیے تیار ہیں۔'