شبر زیدی کی بطور ایف بی آر چیئرمین تعیناتی چیلنج

18 مئ 2019

ای میل

درخواست گزار علی محمد ایف بی آر میں ان لینڈ ریونیو سروس میں گریڈ 19 کے افسر ہیں — فائل فوٹو/ ڈان نیوز ٹی وی
درخواست گزار علی محمد ایف بی آر میں ان لینڈ ریونیو سروس میں گریڈ 19 کے افسر ہیں — فائل فوٹو/ ڈان نیوز ٹی وی

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ایک سینئر افسر نے ادارے کے نئے سربراہ شبر زیدی کی بطور ایف بی آر چیئرمین تعیناتی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔

درخواست گزار علی محمد ایف بی آر میں ان لینڈ ریونیو سروس میں گریڈ 19 کے افسر ہیں، جنہوں نے پٹیشن میں شبر زیدی، ایف بی آر اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو فریق بنایا۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ ان لینڈ ریونیو سروس میں سینئر افسر ہیں اور ان کو ممکنہ بطور پر ایف بی آر کے چیئرمین کے عہدے پر ترقی دی جانی تھی، جو ان کے ادارے میں سب سے بڑا عہدہ ہے۔

درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ شبر زیدی کو ایف بی آر کا چیئرمین بنانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کیا جانے والا نوٹیفکیشن 'عوامی مفاد اور اعزاز کی بنیاد پر جاری کیا گیا' جبکہ ان کا تقرر لازمی مسابقتی عمل کے بالکل برعکس کیا گیا۔

مزید پڑھیں: شبر زیدی اعزازی چیئرمین ایف بی آر تعینات، نوٹی فکیشن جاری

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ شبر زیدی نجی شعبے میں ایک فرم، جو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس پر مشتمل ہے، کے ساتھ شراکت دار ہیں اور اپنے شعبے کے لحاظ سے وہ ایف بی آر میں اور اس کے ذیلی ٹیکس حکام کے سامنے محصولات کے معاملات میں ٹیکس دہندگان کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھاکہ حکومت کے ٹیکس پالیسی بنانے، ٹیکس انتظامات اور ٹیکس جمع کرنے کے معاملات کے حوالے سے ایف بی آر ایک اہم ادارہ ہے جبکہ ریاست قومی اہمیت اور حساس نوعیت کے حامل اس ادارے کے ریونیو پر انحصار کرتی ہے۔

درخواست گزار نے اپنی پٹیشن میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے علی ارشد حکیم کے حوالے سے دیئے گئے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی نجی شعبے سے ایف بی آر کا چیئرمین تعینات کیا گیا تھا لیکن عدالت عالیہ نے ان کی تعیناتی کے خلاف فیصلہ جاری کیا۔

درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ 'اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ایک مرتبہ پھر تقریبا اسی طرز عمل کو برقرار رکھتے ہوئے شبر زیدی کو غیر قانونی طور پر تعینات کیا ہے، جو اس کی جانب سے قانونی اختیارات سے تجاوز، آئین اور قانون کے خلاف جبکہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بھی خلاف ہے'۔

اس میں مزید کہا گیا کہ 'مذکورہ تعیناتی غیر شفاف طریقے سے پسند اور نا پسند کی بنیاد پر بغیر کسی اشتیار اور تعیناتی کے حوالے سے مقرر کردہ دیگر رائج طریقوں کے خلاف کی گئی اور یہ میرٹ کے بھی خلاف ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکس افسران کی شبر زیدی کو ایف بی آر چیئرمین تعینات کرنے پر قانونی کارروائی کی دھمکی

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ شبر زیدی کو چیئرمین ایف بی آر تعینات کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے۔

اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک علیحدہ پٹیشن میں ایک درخواست گزار نے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کی نااہلی کے لیے استدعا کی ہے۔

مذکورہ پٹیشن خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے حضرت حسین اور شاہ نواز خان نے دائر کی ہے، جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان، ٹرائبل الیکٹرک سپلائی کمپنی، ٹیسکو کے سب ڈویژن افسر اور نور الحق قادری کو فریق بنایا گیا ہے۔


یہ رپورٹ 18 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی