دور حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی، وزیر خارجہ

اپ ڈیٹ 22 مئ 2019

ای میل

خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے ایس سی او ایک نہایت اہم پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتی ہے—تصویر بشکریہ ریڈیو پاکستان
خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے ایس سی او ایک نہایت اہم پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتی ہے—تصویر بشکریہ ریڈیو پاکستان

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دور حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے حصول کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے درمیان اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وہ کرغیزستان کے شہر بشکیک میں ایس سی او کے کونسل برائے وزرائے خارجہ کے 2 روزہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔

وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے ایس سی او ایک نہایت اہم پلیٹ فارم کی حیثییت رکھتی ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان ایس سی او کے منشور پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستان کی جیو اسٹریٹجک لوکیشن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) خطے میں روابط کے فروغ کے لیے معاون ثابت ہوگی۔

ٰہی بھی پڑھیں: امریکا،ایران تنازع: شاہ محمود قریشی کی اپنے چینی، روسی ہم منصب سے ملاقات متوقع

شاہ محمود قریشی نے ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے اس عفریت کے خاتمے کے لیے اس کی جڑوں تک پہنچنے کی ضرورت پر زور دیا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے کامیابی سے دہشت گردی کو شکست دی۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاکستان اپنی مہارتوں اور تجربات سے ایس سی او اراکین کو آگاہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

افغانستان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ قابلِ اطمینان بات ہے کہ افغان مفاہمتی عمل کا آغاز ہوچکا ہے اور پاکستان افغان فریقین پر مشتمل امن عمل میں سہولت کاری فراہم کرتا رہے گا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کے خطے کے لیے تنازعات کا حل نہایت ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سکھ برادری کے لیے کرتارپور راہداری کھول کر امن کا پیغام دیا ہے۔

شاہ محمود کی چینی ہم منصب سے ملاقات

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کی۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، سیکیورٹی کی صورتحال اور باہمی مفاد کے مشترکہ معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

مزید پڑھیں: ‘امریکا، طالبان مذاکرات کے بعد عمران خان، ٹرمپ کی ملاقات ہوسکتی ہے‘

وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ملاقات میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چین پاکستان کا قریبی دوست اور مضبوط اتحادی ہے، چین ملک کی علاقائی خارجہ پالیسی میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے چاہے یہ معاملہ پاکستان کی قوی سلامتی کا ہو یا علاقائی امن سالمیت کا، چین نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔

وزیر خارجہ سے دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے کامیاب انعقاد پر اپنے چینی ہم منصب کو مبارکباد دی، جس پر چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس فورم کی کامیابی بین الاقوامی برادری کا چین کی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے۔

خلا میں ہتھیاروں میں پہل نہ کرنے کا سمجھوتہ

دوسری جانب اسی موقع پر پاکستان اور روس کے مابین زمین کے بیرونی مدار میں ہتھیاروں کی تنصیب میں پہل نہ کرنے کا مشترکہ سمجھوتہ بھی طے پایا۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق بیرونی مدار کو کئی ممالک استعمال کررہے ہیں اور پاکستان مسلسل خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کے خطرے کی نشاندہی کرتا رہا ہے جو خلا کی پرامن سرگرمیوں کے لیے خطرہ ہیں۔

بیان کے مطابق خلا میں موجود اشیا کے خلاف طاقت کا استعمال، اینٹی بیلسٹک میزائل کی جدیدیت اور تنصیب، اور ان کے خلائی اثاثوں میں ان کی شمولیت خلا کے حوالے سے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شاہ محمود قریشی کا 3 ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ

دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کے مطابق پاکستان اور روس خلا کو ہتھیاروں سے محفوظ رکھنے کے لیے یکساں موقف رکھتے ہیں اور اس مقصد کے لیے متعدد بین الاقوامی فورمز پر اکٹھے کام کرتے ہیں۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق آج ہونے والا یہ معاہدہ دونوں ممالک کے نظریات میں ہم آہنگی کا مظہر ہے، پاکستان اور روس نے خلا میں طاقت کے استعمال کو روکنے اور خطروں سے بچنے کے اپنے عزم کو دہرایا۔