چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ کے استعفے کے بعد سیکریٹری خزانہ کی تبدیلی کا امکان

اپ ڈیٹ 23 مئ 2019

ای میل

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مذاکرات کے معاملے پر  ڈاکٹر حفیظ شیخ اور یونس ڈھاگا کے درمیان اختلافات موجود ہیں — فوٹو: بشکریہ وزارت خزانہ
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مذاکرات کے معاملے پر ڈاکٹر حفیظ شیخ اور یونس ڈھاگا کے درمیان اختلافات موجود ہیں — فوٹو: بشکریہ وزارت خزانہ

اسلام آباد: سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) کے چیئرمین ہارون شریف نے عہدے کا استعفیٰ وزیر اعظم کو بھجوا دیا جس کے بعد سیکریٹری خزانہ یونس ڈھاگا کی بھی جلد تبدیلی کی رپورٹس منظر عام پر آئی ہیں۔

اعلیٰ سطح کے ذرائع نے بتایا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مذاکرات کے معاملے پر وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور سیکریٹری خزانہ یونس ڈھاگا کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے۔

ذرائع نے بتایا کہ یونس ڈھاگا کا ماننا ہے کہ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے پاکستان کے لیے نامناسب معاہدے پر مذاکرات کیے۔

مزید پڑھیں: چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف مستعفی

مشیر خزانہ اور سیکریٹری خزانہ کے درمیان اختلافات آئی ایم ایف سے مذاکرات کے آخری مرحلے میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 'سابق وزیر خزانہ اسد عمر کی زیرِ صدارت ٹیم، جس میں یونس ڈھاگا بھی شامل تھے، اس میں آئی ایم ایف پروگرام کو آسان بنایا گیا تھا'۔

دوسری جانب حفیظ شیخ پروگرام کو ' فرنٹ لوڈڈ ' چاہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے مشکل اصلاحات کو طویل عرصے کے بجائے پہلے مکمل کرنا چاہتے ہیں۔

اسی وجہ سے مشیر خزانہ اور سیکریٹری خزانہ میں اختلافات پیدا ہوئے اور آئی ایم پروگرام طے ہونے سے قبل آخری چند مراحل میں یونس ڈھاگا نے کوئی کردار بھی ادا نہیں کیا۔

اس کے ساتھ ہی سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین ہارون شریف نے ڈان کو بتایا کہ ان کے استعفے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے ایک نئی اقتصادی ٹیم تشکیل دی، جس کی تمام تر توجہ آئی ایم ایف پر مرکوز تھی اور گزشتہ مہینوں میں ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ میں کیے جانے والے اقدامات پر اس ٹیم کی توجہ مرکوز نہیں تھی۔

ہارون شریف نے ڈان کو بتایا کہ 'کئی مہینوں کی جدوجہد کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق مذاکرات فیصلے سے قبل حتمی مراحل میں داخل ہوگئے ہیں لیکن نئی اقتصادی ٹیم کی تعیناتی اور آئی ایم ایف سے مذاکرات کی وجہ سے میرے کام پر توجہ نہیں دی جارہی'۔

یہ بھی پڑھیں: ’کاروبار میں آسانی کیلئے اصلاحات کی منصوبہ بندی مکمل‘

انہوں نے کہا کہ 'سرمایہ کار انتظار نہیں کرتے، اگر پاکستان نہیں تو وہ کسی دوسری جگہ چلے جائیں گے'۔

ہارون شریف نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ برے نتائج کے لیے ذمہ دار ٹھہرائے جانے سے قبل استعفیٰ دینے کا یہ صحیح وقت ہے۔

سرمایہ کاری بورڈ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کی معاونت کرنے والے اداروں میں سے ایک ہے۔

ہارون شریف نے 'کاروباری میں آسانی' سے متعلق پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کو ترجیح دی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، فود پروسیسنگ، ٹیکسٹائل اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کی۔


یہ خبر 23 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی