نئے چیننلز کیلئے لائسنس کا اجرا، پیمرا اپنے موقف پر ڈٹ گیا

23 مئ 2019

ای میل

پی بی اے کی جانب سے لائسنس کے اجرا کے خلاف دائر کردہ درخواست افسوسناک ہے—فائل فوٹو: فیس بک
پی بی اے کی جانب سے لائسنس کے اجرا کے خلاف دائر کردہ درخواست افسوسناک ہے—فائل فوٹو: فیس بک

اسلام آباد: پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نئے سیٹیلائٹ ٹیلی ویژن چیننلز کے لائسنس کے جاری کرنے کا دفاع کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن (پی بی اے) کی درخواست خارج کرنے کی استدعا کردی۔

پیمرا نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ پی بی اے کی جانب سے لائسنس کے اجرا کے خلاف دائر کردہ درخواست افسوسناک ہے۔

پی بی اے کے وکیل فیصل صدیقی نے موقف اختیار کیا کہ سسٹم میں صرف 80 چیننلز کی گنجائش ہے جبکہ پیمرا پہلے ہی 119 ٹی وی چیننلز کو لائسنس جاری کرچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ نے نئے ٹی وی چینلز کے لائسنس کا اجرا روک دیا

ان کا کہنا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ نے پیمرا کو پی بی اے کی دائر کردہ درخواست پر مارچ تک فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن پیمرا نے اس کے بجائے نئے چیننلز کے لائسنس جاری کردیے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں پیمرا نے موقف اختیار کیا کہ پی بی اے نے اس بات کا ادراک کیے بغیر درخواست دائر کردی کہ لائسنس دینے کا عمل مکمل طور پر مارکیٹ فورسز کے پاس ہوتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پیمرا کے مشاورین نے ڈائریکٹ ٹو ہوم (ڈی ٹی ایچ) ٹیکنالوجی آپریشنز کے لیے 250 چیننلز کے قیام کی سفارش کی ہے۔

مزید پڑھیں: ’میڈیا بحران‘ کے باوجود 58 نئے ٹی وی چینلز کے لائسنس بھاری قیمت میں نیلام

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس وقت ملک میں صرف 123 لائسنس یافتہ (ملکی و غیر ملکی) چیننلز ہیں جبکہ 127 چیننلز کی گنجائش موجود ہے اسلیے ریگولکیٹر کو ڈیجیٹل تقسیم کار سروس کامیاب بنانے کے لیے ان حقائق کو دیکھنا پڑا۔

پیمرا کے مطابق عدالت کی جانب سے لائسنس کا اجرا روکنے کے احکامات کے بعد کامیاب بولی دہندگان ادارے کو 15فیصد رقم دینے سے بھی گریزاں ہیں۔

جس پر پاکستان براد کاسٹر ایسوسی ایشن کے وکیل نے پیمرا کے جواب کا جائزہ لینے کے لیے وقت مانگ لیا جس کے بعد عدالت نے مذکورہ درخواست کی سماعت 30 مئی تک کے لیے ملتوی کردی۔


یہ خبر 23 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔