انتخاب لڑے بغیر سنی لیونی اپنی جیت پر حیران

اپ ڈیٹ 23 مئ 2019

ای میل

صحافی نے سنی دیول کی جگہ سنی لیونی کو کامیاب قرار دیا—فوٹو‘: فیس بک
صحافی نے سنی دیول کی جگہ سنی لیونی کو کامیاب قرار دیا—فوٹو‘: فیس بک

بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات کے غیر حتمی نتائج کا اعلان 23 مئی کو کیا گیا جن کے مطابق بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کو واضح برتری حاصل ہے۔

بی جے پی ایک بار پھر سادہ اکثریت حاصل کرکے تنہا حکومت بنانے کے اہل ہوگئی ہے، تاہم انتخابات کا حتمی اعلان کچھ دن بعد ہوگا۔

انتخابات کے ابتدائی نتائج متعدد بھارتی ٹی وی چینلز نے براہ راست دکھائے اور اس دوران کئی ٹی وی چینلز پر کچھ غلطیاں بھی ہوئیں۔

بھارتی ٹی وی چینل ’ریپبلک‘ میں الیکشن ٹرانمشن کے دوران صحافی ارناب گوسوامی نے ریاست پنجاب کے حلقے گرداس پور کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے سنی لیونی کو جیتنے والا امیدوار بتایا۔

تاہم فوری طور پر ارناب گوسوامی نے اپنی غلطی کو درست کرتے ہوئے صحیح امیدوار یعنی اداکار سنی دیول کا نام لیا اور بتایا کہ وہ اپنے حلقے سے دیگر حریف امیدواروں سے آگے ہیں۔

دراصل سنی دیول ریاست پنجاب کے حلقے گرداس پور سے بی جے پی کی ٹکٹ پر میدان میں اترے تھے اور انہوں نے اس حلقے سے دیگر حریفوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

سنی دیول کی جگہ سنی لیونی کو گرداس پور میں فاتح امیدوار قرار دیے جانے کی انارب گوسوامی کی یہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور لوگوں نے ان کا خوب مذاق اڑایا۔

سنی دیول کی جگہ سنی لیونی کو کامیاب امیدوار قرار دیے جانے کی یہ ویڈیو خود اداکارہ نے بھی دیکھی جس کے بعد انہوں نے مختصر ٹوئیٹ میں مزاحیہ انداز میں سوال کیا کہ وہ دیگر حریف امیدواروں سے کتنے ووٹوں سے آگے ہیں؟

سنی لیونی کے ٹوئیٹ پر کئی مداحوں نے جواب دیے اور ایک مداح نے جواب میں لکھا کہ اداکارہ 135 کروڑ بھارتی افراد کے دلوں پر راج کرکے آگے جا رہی ہیں۔

اسی طرح ایک اور صارف نے سنی لیونی کو جواب دیا کہ وہ 69 ہزار ووٹوں سے آگے ہیں۔ ایک صارف نے تو سنی لیونی کو وزیر اعظم قرار دے دیا۔

خیال رہے کہ گرداس پور سے اداکار سنی دیول کامیاب ہوئے ہیں۔