ہواوے کا استعمال، امریکا کا جرمنی کو حساس معلومات سے محرومی انتباہ

اپ ڈیٹ 01 جون 2019

ای میل

سیکریٹری اسٹیٹ نے یہ انتباہ جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس سے ملاقات کے بعد جاری کیا — فائل فوٹو/اے ایف پی
سیکریٹری اسٹیٹ نے یہ انتباہ جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس سے ملاقات کے بعد جاری کیا — فائل فوٹو/اے ایف پی

برلن: امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے مغربی اتحادیوں پر نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے دباؤ بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ممالک جو چین کی ہواوے کو اپنا ٹیکنالوجی ڈھانچہ تعمیر کرنے کی اجازت دیں گے وہ انتہائی اہم حساس معلومات سے محروم ہوسکتے ہیں۔

سیکریٹری اسٹیٹ نے یہ انتباہ جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس سے ملاقات کے بعد جاری کیا۔

واضح رہے کہ جرمنی اب تک برطانیہ اور فرانس کے ساتھ ایک ملک کے مینوفیکچرر کے 5 جی ٹیکنالوجی بنانے پر پابندی کے مطالبوں کو مسترد کرتا آیا ہے۔

خیال رہے کہ بحرِ اوقیانوس میں تجارتی اور سیکیورٹی معاملات پر ہونے والی تازہ کشیدگی پر یورپ کا 5 روزہ دورہ کرنے والے مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ جب ممالک اس بارے میں ’خودمختار فیصلے‘ کریں گے کہ کون سے آلات استعمال کرنے چاہیے تو اس کے نتائج بھی برآمد ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ہواوے کا امریکی پابندی پر قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ

نیوز کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے یہاں اس بات کا خطرہ ہے کہ ہمیں اپنے رویے میں تبدیلی لانی پڑے گی کہ ہم شہریوں اور نیشنل سیکیورٹی سے متعق ڈیٹا ایسے نیٹ ورکس کو نہ دیں جن پر ہمیں اعتماد نہیں‘۔

بعدازاں مائیک پومیو نے سوئٹزر لینڈ جانے سے قبل جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے ملاقات کی اور جرمنی کو امریکا کا اہم اتحادی اور شراکت دار قرار دیا۔

ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول اور اس کے جارحانہ اقدامات کو روکنے کے تناظر میں جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ ’یورپ سے باہر امریکا ہمارا اہم ترین شراکت دار ہے اور رہے گا، دنیا میں معاملات پرسکون نہیں جس کے لیے ہمیں کئی معاملات پر بات چیت کرنی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا میں ’ہواوے‘ پر پابندی، چین کا شدید احتجاج

خیال رہے کہ اس سے قبل پومپیو نے قریبی اتحادی برطانیہ پر زور دیا تھا کہ چینی مصنوعات جاسوسی کے لیے استعمال ہوسکتی ہیں اس لیے 5 جی ٹیکنالوجی کی تعمیر کے لیے ہواوے ٹیکنالوجی استعمال نہیں کی جائے۔

امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ کے دورہ کینیڈا کے دوران ہواوے کے بارے میں اسی قسم کے تبصروں پر ردِ عمل دیتے ہوئے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ امریکا نے ابھی تک یہ ثابت نہیں کیا کہ ہواوے کی مصنوعات کسی طرح کا سیکیورٹی رسک ہیں۔

جینگ شوانگ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ امریکا ایسی غلطیوں کو روکے گا جو بحیثیت ایک بڑے ملک کے اسے زیب نہیں دیتیں۔

واضح رہے کہ امریکا کو جرمنی کے ساتھ تجارت سے لے کر جوہری عدم پھیلاؤ پر اخراجات تک متعدد مسائل کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔


یہ خبر یکم جون 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔