فیصل واڈا 5 ہزار پاکستانیوں کو پھانسی پر لٹکانے کے خواہاں

13 جون 2019

ای میل

وفاقی وزیر کی خواہش پر سوشل میڈیا پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے—فائلف وٹو: فیس بک
وفاقی وزیر کی خواہش پر سوشل میڈیا پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے—فائلف وٹو: فیس بک

وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا کا کہنا ہے کہ ملک سے کرپشن کے خاتمے اور ملکی ترقی کے لیے لازمی ہے کہ 5 ہزار کرپٹ ترین پاکستانیوں کو پھانسی پر لٹکایا جائے۔

وفاقی وزیر نے جیو ٹی وی کے پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر صرف 5 ہزار پاکستانیوں کو پھانسی پر لٹکایا جائے تو 22 کروڑ پاکستانیوں کی قسمت بدل جائے گی۔

فیصل واڈا نے یہ دلیل پروگرام میں بجٹ، مہنگائی، کرپشن اور اور غربت کے دوران بحث کے وقت دی اور کہا کہ اگر ان کے (حکومت) کے ہاتھ میں ہو تو وہ 5 ہزار لوگوں کو لٹکادیں گے، کیوں کہ اس عمل سے 22 کروڑ پاکستانیوں کی قسمت بدل جائے گی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما انجنیئر خرم دستگیر نے وفاقی وزیر آبی وسائل کی دلیل سے اختلاف کرتے ہوئے اسے فاشزم قرار دیا۔

خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ وہ فیصل واڈا کی دلیل سے اتفاق نہیں، یہ 5 ہزار لوگوں کو لٹکانے کی خواہش فاشزم سیاست کا تسلسل ہے۔

ساتھ ہی پروگرام میں شریک پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما سعید غنی نے پاکستان تحریک انصاف کے وزیر کو یاد دلایا کہ جتنے لوگ پیپلز پارٹی کے ساتھ تھے، ان میں سے 80 فیصد لوگ ان کے (پاکستان تحریک انصاف) کے ساتھ ہیں۔

پانچ ہزار پاکستانیوں کو لٹکانے کی دلیل دیتے ہوئے فیصل واڈا نے اس بات پر زور دیا کہ لوگوں کو لٹکانا ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں، وہ بے بس ہیں اور اگر ان کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ ان لوگوں کو لٹکا دیتے۔

فیصل واڈا کی جانب سے 5 ہزار لوگوں لٹکانے کی خواہش ظاہر کرنے پر میزبان حامد میر نے ان سے سوال کیا کہ وہ کس طرح اتنے لوگوں کو لٹکائیں گے؟

جس پر فیصل واڈا کا کہنا تھا کہ اگر ان کا بس چلتا تو لٹکا دیتے!

وفاقی وزیر کی بے بسی پر حامد میر نے انہیں تجویز دی کہ وہ آئین اور قانون کے تحت 5 ہزار لوگوں کو لٹکادیں۔

میزبان کی تجویز پر پی ٹی آئی وزیر نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا کہ اگر انہوں نے آئین اور قانون پر عمل کیا تو ہماری 20 نسلیں گزر جائیں گی۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ 20 سال بعد حال ہی میں ایک شخص آزاد ہوا ہے اور ان کی موت جیل میں ہی ہوگئی۔

,

میزبان حامد میر نے ایک بار پھر فیصل واڈا کی جانب سے 5 ہزار لوگوں کو لٹکانے والی بات دہراتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر لوگوں کو لٹکانا چاہتے ہیں اور انہوں نے تجویز دی ہے کہ وہ آئین و قانون کے تحت لوگوں کو پھانسی پر لٹکائیں۔

حامد میر کی جانب سے دوبارہ بات کو دہرانے پر وفاقی وزیر نے ایک بار پھر صاف الفاظ میں کہا کہ آئین و قانون کے تحت 5 ہزار لوگوں کو پھانسی پر لٹکانا مشکل ہے۔

ساتھ ہی میزبان حامد میر نے فیصل واڈا سے گزارش کی کہ اگر انہوں نے 5 ہزار افراد کی فہرست تیار کرلی ہے تو اسے سامنے لایا جائے، تاکہ قوم کو پتا چل سکے کہ کس کس کو لٹکانا ہے۔

جس پر فیصل واڈا نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے فہرست جاری کردی تو سب لوگ بھاگ جائیں گے!

وفاقی وزیر کی جانب سے ٹی وی پر سرعام لوگوں کو آئین و قانون کے بغیر ہی پھانسی پر لٹکائے جانے کی بات کرنے پر سوشل میڈیا پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کہا جا رہے کہ حکومتی نمائندے کو آئین و قانون سے ہٹ کر بات نہیں کرنی چاہیے۔

کئی سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ جب حکومت میں شامل وزرا کو ہی آئین و قانون پر یقین نہیں تو باقی عوام کا کیا حال ہوگا؟