العزیزیہ ریفرنس: نوازشریف کو ضمانت کیلئے اضافی دستاویزات جمع کرانے کی اجازت

اپ ڈیٹ 19 جون 2019

ای میل

العزیزیہ ریفرنس پر مرکزی اپیل 27 جون تک ملتوی کردی گئی—فائل/فوٹو:اے پی پی
العزیزیہ ریفرنس پر مرکزی اپیل 27 جون تک ملتوی کردی گئی—فائل/فوٹو:اے پی پی

اسلام آبادہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں ضمانت کے لیے دائر اپیل میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے اضافی دستاویزات جمع کرانے کے لیے کی گئی درخواست منظور کرلی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامرفاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت اور مرکزی اپیل کی سماعت کی۔

قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان منگی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے اور یقین دہانی کرائی کہ آئندہ نیب ضمانت کی درخواستوں پر جواب جمع کرانے میں تاخیر نہیں کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:نواز شریف کی طبی حالت درست ہے، جیل سپرنٹنڈنٹ اور میڈیکل افسر کا جواب جمع

سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اختیار کیا کہ غیر ملکی ڈاکٹروں اور سرجنز کی میڈیکل رپورٹ بھی جمع کرانے کی اجازت دی جائے کیونکہ طبی بنیادوں پر ضمانت کا کیس میرٹ پر ضمانت کی مرکزی اپیل سے مختلف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتی نظیر موجود ہے کہ طبی بنیادوں پرمیرٹ پردوبارہ ضمانت کی درخواست دائر ہو سکتی ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ ڈاکٹروں کے مطابق نواز شریف کو جس علاج کی ضرورت ہے وہ پاکستان میں ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی شوگر اور بلڈ پریشر قابو نہیں ہو رہا جس کا علاج صرف بیرون ملک ممکن ہے۔

مزید پڑھیں:نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کیلئے درخواست پر سماعت آج ہوگی

عدالت نے خواجہ حارث سے سوال کیا کہ نواز شریف کو ملنے والی چھ ہفتوں کی ضمانت کے دوران ان کا کیا علاج ہوا جس پر خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ 25 مارچ کے بعد نواز شریف کی بیماری میں اضافہ ہوا، شدید ذہنی دباؤ سے نکلنے کے لیے جیل سے باہر آنا اور اس کا بیرون ملک علاج ضروری ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اضافی دستاویزات جمع کرانے کے لیے سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست منظور کرلی۔

دو رکنی بینچ نے العزیزیہ ریفرنس کی مرکزی اپیل پرسماعت 27 جون تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ 17 جون کو کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ اور میڈیکل افسر نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنا جواب جمع کروا دیا تھا۔

جیل سپرنٹنڈنٹ اور میڈیکل افسر نے عدالت میں اپنے جواب میں نواز شریف کی روزانہ کی بنیاد پر بلڈ پریشر اور شوگر رپورٹ سمیت انہیں دی جانے والی ادویات کی فہرست بھی جمع کرا دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:العزیزیہ ریفرنس: نواز شریف کی سزا معطل کرنے کی درخواست، نیب نے مخالفت کردی

میڈیکل افسر نے رائے دی کہ موجودہ علاج کے دوران نواز شریف کی طبی حالت درست ہے جبکہ سابق وزیر اعظم نے ای سی جی کروانے سے انکار کر دیا۔

میڈیکل افسر کے جواب میں کہا گیا تھا کہ نواز شریف کو ذیابیطس اور دل سے متعلق ٹیسٹ بھی تجویز کیے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو شوگر، بلڈ پریشر اور دل کی بیماری ہے، 2011 اور 2016 کے درمیان ان کا بائی پاس ہوا، 2001 اور 2017 میں شریانوں میں اسٹنٹ ڈالے گئے۔

خیال رہے کہ 15 جون کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے بھی سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سزا معطل کرنے سے متعلق دائر درخواست پر اپنا جواب جمع کر وا دیا تھا۔

عدالت میں نیب کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں اس درخواست کو فوری مسترد کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ ’نہ ہی برقرار رکھنے کے قابل ہے نہ یہ اس کا جواز ہے‘۔