ہم کرکٹ میں پیچھے کیوں رہ گئے؟

اپ ڈیٹ 23 جون 2019

ای میل

میں آج کل کیلیفورنیا میں اپنے بیٹے کے ہاں آیا ہوا ہوں۔ برطانیہ میں کھیلے جا رہے ورلڈ کپ میچ وقت کے فرق کے مطابق رات 2 بج کر 30 شروع ہوتا ہے۔

شاکر نے کرکٹ نشر کرنے والے چینل کو دیکھنے کے لیے پیسے دیے ہوئے ہیں۔ ہم میچ کی دوسری اننگ دیکھتے ہیں کیونکہ یہی ہمارے لیے میچ دیکھنے کے لیے یہی معقول وقت مل پاتا۔ جہاں تک شاکر کا تعلق تھا تو انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد وہ چاہتا تھا کہ ہماری ٹیم بھارت کو زیر کرے اور پھر پرواز پکڑ گھر لوٹ آئے۔

گزشتہ اتوار میں 4 بجے سے پہلے اٹھ گیا اور بستر میں ہی لیٹے کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو پر اسکور چیک کیا۔ جب میں نے دیکھا کہ بھارت بغیر کسی نقصان کے 80 سے زائد اسکور کے ساتھ بلے بازی کر رہا ہے تو میں نے کمرے کی لائٹ بند اور سو گیا کیونکہ اس اسکور کو دیکھنے کے بعد اندازہ ہوچلا تھا کہ ہمارے پرکچھے اڑنے والے ہیں۔

قریب 8 بجے ٹی وی کھولا تو پاکستان کی کارکردگی کسی حد تک اچھی دکھائی دی، لیکن جیسا اکثر و بیشتر ماضی میں ہوتا ہے ٹھیک ویسے ہی ہمارے کھلاڑیوں کی دیوار ڈھیر ہونے کو تھی۔ ایک بعد ایک وکٹوں کے گرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

جس بُرے طریقے سے ہم ہارے ہیں اس پر ویسے ہی بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے لہٰذا میں قارئین کو میچ پر اپنا تجزیہ معاف کرتا ہوں۔ مگر یہ سچ ہے کہ بھارت نے اعلیٰ ٹیم کی طرح اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مکمل طور پر اپنی اس بڑی فتح کی مستحق تھی۔ اس رسوا کن یکطرفہ میچ کی صورتحال ایسی تھی جیسے کسی کلب ٹیم سے تعلق رکھنے والے کرکٹ کے شوقین لڑکوں کو ایک ٹیسٹ ٹیم کے خلاف کھیلنے کو کہا گیا ہو۔

یہ کھیل اور کسی ایک ٹیم کو ہارنا ہی پڑتا ہے۔

مگر

ہندوستان کے خلاف 7 ورلڈ کپ میچوں میں شکست فقط ک ایک برا باب نہیں بلکہ یہ ایک رجحان کا ظاہر کرتی ہے۔ پھرتیلی اور چست بھارتی ٹیم کے مقابلے میں ہمارے لڑکے ان فٹ اور فوکس اور جوش کی کمی کا شکار نظر آئے۔ ہمارے کپتان میں تُندی تو نہیں البتہ توند ضرور نظر آئی۔

اگرچہ سوشل میڈیا میں پاکستانی ٹیم پر شدید تنقید اور برا بھلا تو کہا گیا ہے مگر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان اس قدر فرق آخر کیوں پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ ماضی قریب میں ہماری ٹیم اپنے روایتی حریف ایک بعد ایک میچ میں چت کیا کرتی تھی۔ آخر ہندوستان آگے بڑھ گیا اور ہم پیچھے رہ گئے؟

وجوہات باؤنڈری لائن کے باہر ملتی ہیں۔ گزشتہ تقریباً 40 برسوں کے دوران اسکول اور کالج سطح پر کھیلوں کی سرگرمیاں مسلسل زوال کا شکار ہوئی ہیں۔ گلی محلہ کرکٹ نے کھیلوں کی سرگرمیوں کے ایک منظم طریقہ کار کی جگہ لے لی ہے، ہمارے ہاں کچھ ٹیلنٹ تو نکل کر سامنے تو آیا ہے مگر مجموعی طور پر دیکھیں ہم نے عالمی سطح کے بلے باز اور باؤلرز پیدا کرنا ہی چھوڑ دیے ہیں جو کہ کسی وقت میں ہم کرتے تھے۔

عمران خان دہائیوں سے ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے کو از سر نو کھڑا کرنے کی بات کرتے رہے ہیں، اور یہ ٹھیک بھی ہے کیونکہ جہاں تک میں جانتا ہوں تو ایسا کوئی ملک نہیں کہ جہاں کارپوریشنز اور سرکاری محکموں ٹیمیں رکھتے ہوں۔ تاہم، اگر موجودہ سیٹ اپ کو بدل کر ضلعی اور صوبائی ٹیمیں بنا دی جائیں تو ایسے میں فنڈنگ ایک اہم مسئلہ بن جائے گا۔

موجودہ وقت میں منتخب شدہ کرکٹ کے کھلاڑیوں کو محکموں کی جانب سے معاوضہ دیا جاتا ہے جبکہ پی سی ایل کی ابتدا کے بعد کی ڈومیسٹک کرکٹ میں پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ پیسہ شامل ہوچکا ہے۔

ہمارے ارد گرد جہاں اتنا کچھ ٹوٹ پھوٹ کا شکا ہو ایسے میں کرکٹ میں کمال کارکردگی کی توقع کرنا کی تُک نہیں بنتی۔ ہاکی اور اسکوائش جیسے کھیلوں میں کبھی ہم عالمی چیمپئن تھے مگر اب تو ان کھیلوں کی رینکنگ میں کہیں نظر ہی نہیں آتے۔ کھیلوں کی وہ تنظیمیں جنہیں کھیلوں کے معیار بُلند کرنا تھے وہ اندرونی لڑائیوں اور دشمنیوں کا شکار بن چکی ہیں۔

پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی ہی مثال لیجیے، جس پر درجنوں کی تعداد میں شاہ خرچ غیر ملکی دوروں کروانے کا ایک ذریعہ بن جانے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ اس کھیل کے لیے زیادہ کچھ نہیں کیا گا ہے جبکہ کھیل کے معیار کو بڑھانے کے لیے جو فیفا فنڈ دیا گیا اس کے مقابلے میں کام تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ کرکٹ ورلڈ کپ سے کچھ وقت پہلے وزیراعظم کو کرکٹ بورڈ میں کئی تبدیلیاں کرنا کیا لازمی تھیں؟ کیا وہ کامیاب سابق چیئرمین نجم سیٹھی کے ساتھ حساب کتاب برابر کرنے کے لیے تھوڑا انتظار نہیں کرسکتے تھے؟

ایک طرح سے دیکھا جائے تو ملک کو لاحق جتنا مسئلے مسائل ہیں کرکٹ ان کا ایک استعارہ بن چکی ہے۔ اداروں کی آپسی لڑائیاں، مرکزیت پسند طاقت کا رجحان اور تمام لوگوں کے مفاد کو داؤ پر لگا کر ذاتی مفادات کی کوششیں کرنا اب تو جیسے ایک عام ریت بن چکی ہے۔

ایسے ماحول میں ٹیلنٹ کو ابھر کر سامنے آنے کا زیادہ موقع ہی فراہم نہیں ہوپاتا ہے۔ مناسب سہولیات اور کوچنگ کے باعث ہم اوسط درجے کی ٹیم سے آگے بڑھ ہی نہیں پاتے۔ مگر میں ایک بار کہوں گا کہ کرکٹ کی اس موجودہ صورتحال میں ہمیں وہی حالات جھلکتے نظر آتے ہیں جو پی آئی اے سے لے کر ریلوے جیسے دیگر اداروں کو لاحق ہیں۔

ان تمام نکات کو جوڑنے پر ایک تصویر مکمل ہوتی ہے جس میں ان بحرانوں کے بیچ منجھدار میں ایک غرق شدہ بیڑا نظر آتا ہے جو ہمارے نظام تعلیم کا ہے۔ 1970 کی دہائی کی ابتدا میں پیپلزپارٹی کی حکومت کی جانب سے نجی اسکولوں کو قومیائے جانے کے بعد سے اب تک پاکستانیوں کی دو نسلیں ناکام ہوتے ریاستی اداروں سے گریجویشن کرچکی ہے۔ جنرل ضیا کی 'اسلامائزیشن' نے اس بگاڑ کو مزید حوصلہ افزائی بخشی۔

کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ بہتر تعلیم کی کمی نوجوانوں کو کھیلوں سے دور کردیتی ہے۔ دراصل زبردست تعلیمی سرگرمی سے حاصل ہونے والا ذہنی نظم و ضبط ہی اعلیٰ پایہ کے کاموں اور کھیلوں کے لیے لوگ تیار کرتا ہے۔ بس ویرات کوہلی کی خوداعتمادانہ لہجگی کا موازنہ سرفراز احمد کی جھجک سے بھرپور جھجھکتی پریس کانفرنس سے کرلیجیے، آپ کو میری بات سمجھ آجائے گی۔

ہمارا خراب تعلیمی نظام قومی زندگی کے دیگر حصوں پر بھی اسی طرح کے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ مدارس نوجوانوں کو ذاتی اور عوامی سطح پر خوشحالی لانے کے لیے تیاری نہیں کرواتے جبکہ سرکاری نظام کی تعلیم کا تو زیادہ ذکر ہی نہ جائے تو ہی بہتر ہے۔

اس تحریر کو سمیٹتے ہوئے یہ بتانا چاہوں گا کہ میں نے پاکستان کی جیت پر 10 پاؤنڈ کی شرط لگائی تھی۔

یہ مضمون 22 جون 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔