ورلڈ کپ: آسٹریلیا کی سیمی فائنل میں رسائی، انگلینڈ کو 64 رنز سے شکست

ای میل

جیسن بہرینڈوف نے تباہ کن باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں — فوٹو: اے ایف پی
جیسن بہرینڈوف نے تباہ کن باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں — فوٹو: اے ایف پی
بین اسٹوکس 89 رنز بنا کر نمایاں رہے جنہیں مچل اسٹارک نے بولڈ کیا — فوٹو: رائٹرز
بین اسٹوکس 89 رنز بنا کر نمایاں رہے جنہیں مچل اسٹارک نے بولڈ کیا — فوٹو: رائٹرز
ایرون فنچ سنچری مکمل ہونے پر شائقین کی داد کا بلا اٹھا کر جواب دے رہے ہیں — فوٹو: اے پی
ایرون فنچ سنچری مکمل ہونے پر شائقین کی داد کا بلا اٹھا کر جواب دے رہے ہیں — فوٹو: اے پی
یہ میچ دونوں ٹیموں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے — فوٹو: اے ایف پی
یہ میچ دونوں ٹیموں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے — فوٹو: اے ایف پی

ورلڈکپ کے اہم میچ میں دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا نے میزبان انگلینڈ کو 64 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ پکی کر لی۔

لارڈز کے تاریخی میدان میں کھیلے گئے میچ میں انگلینڈ کی پوری ٹیم 44.4 اوورز میں 221 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

انگلش ٹیم 286 رنز کے ہدف کے تعاقب میں شروعات سے ہی مشکلات کا شکار رہی اور بین اسٹوکس کے علاوہ اس کا کوئی کھلاڑی زیادہ دیر تک کریز پر نہ ٹک سکا۔

اوپنر جیمز وِنس پہلے ہی اوور میں بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے جبکہ چوتھے اوور میں مچل اسٹارک نے ٹورنامنٹ میں اب تک عمدہ کارکردگی دکھانے والے جوئے روٹ کو 15 کے مجموعے پر اپنا شکار بنایا۔

انگلینڈ کے تیسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی کپتان آئن مورگن تھے جو 26 کے مجموعے پر صرف 4 رنز بنانے کے بعد کیچ آؤٹ ہوئے۔

جونی بیرسٹو بھی 53 کے مجموعی اسکور پر ہمت ہار گئے اور 27 بنا کر جیسن بہرینڈورف کو وکٹ دے بیٹھے۔

جوز بٹلر 25 رنز بنا کر اسٹوئنِس کا شکار بنے، یوں انگلینڈ کی آدھی ٹیم 124 کے مجموعے پر پویلین لوٹ چکی تھی۔

تاہم ایک طرف جہاں ایک کے بعد ایک انگلش بلے باز آؤٹ ہو رہے تھے تو دوسری طرف بین اسٹوکس نے آسٹریلوی باؤلرز کے آگے مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور 89 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔

بین اسٹوکس کے 177 کے مجموعے پر آؤٹ ہونے کے بعد میچ، انگلینڈ کے ہاتھ سے پوری طرح نکل گیا اور آسٹریلیا نے پوری ٹیم کی بساط 221 رنز پر لپیٹ کر 64 رنز سے فتح اپنے نام کی۔

انگلینڈ کے دیگر کھلاڑیوں میں کرس ووکس 26، معین علی 6، عادل رشید 17 اور جوفرا آرچر ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔

آسٹریلیا کے جیسن بہرینڈوف نے تباہ کن باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں، مچل اسٹارک نے 4 وکٹیں لے کر دوسرے نمایاں باؤلر رہے جبکہ مارکس اسٹوئنس کے حصے میں ایک وکٹ آئی۔

شاندار سنچری اسکور کرنے پر ایرون فنچ میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

قبل ازیں انگلینڈ کے کپتان آئن مورگن نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو بیٹنگ کی دعوت دی۔

آسٹریلوی اوپنرز ڈیوڈ وارنر اور کپتان ایرون فنچ نے ایک بار پھر ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کیا اور 123 رنز کی شراکت قائم کی۔

تاہم پھر ڈیوڈ وارنر 53 رنز کی عمدہ اننگز کھیل کر معین علی کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

عثمان خواجہ نے ایرون فنچ کے ساتھ مل کر ٹیم کے اسکور کو آگے بڑھایا تاہم 173 کے مجموعے پر ان کی ہمت جواب دے گئی اور وہ 23 کے افرادی اسکور پر بولڈ ہوگئے۔

آسٹریلیا کی تیسری وکٹ صرف 12 رنز کے وقفے سے گری جب ایرون فنچ 100 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر کیچ آؤٹ ہوئے۔

گلین میکس ویل کچھ خاص کارکردگی نہ سکھا سکے اور 12 رنز بنا کر ووڈ کی وکٹ بن گئے۔

مارکس اسٹوئنِس بھی اچھی اننگز کھلنے میں ناکام رہے اور 8 رنز پر رن آؤٹ ہوئے۔

آسٹریلیا کے چھٹے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی اسٹیون اِسمتھ تھے جنہوں نے 38 رنز بنائے اور 250 کے مجموعی اسکور پر کیچ آؤٹ ہوئے، جبکہ پیٹ کمِنز صرف ایک رن بنا کر پویلین لوٹے۔

ایلکس کارے 38 اور مچل اسٹارک 4 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

انگلینڈ کی طرف سے کرس ووکس نے 2 جبکہ جوفرا آرچر، مارک ووڈ، بین اسٹوکس اور معین علی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

دونوں ٹیموں کی سیمی فائنل تک رسائی کے لیے یہ میچ اہمیت کا حامل تھا۔

اس کے علاوہ انگلینڈ کی شکست سے پاکستان کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔