اپوزیشن جماعتوں کا آئینی طریقے سے چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کا فیصلہ

ای میل

طویل اجلاس میں متفقہ طور پر متعدد قراردادیں منظور کی گئیں، مولانا فضل الرحمٰن — فوٹو: ڈان نیوز
طویل اجلاس میں متفقہ طور پر متعدد قراردادیں منظور کی گئیں، مولانا فضل الرحمٰن — فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں کی کُل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) میں رہنماؤں نے چیئرمین سینیٹ کو آئینی طریقے سے ہٹانے اور 'دھاندلی زدہ' عام انتخابات کے خلاف 25 جولائی کو 'یوم سیاہ' منانے کا فیصلہ کر لیا۔

اے پی سی کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کی پریس کانفرنس کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'اجلاس 8 سے 9 گھنٹے تک جاری رہا اور ملک کو درپیش صورتحال پر تفصیلی گفتگو اور مباحثہ ہوا اور ہر جماعت نے غیر مبہم انداز کے ساتھ اپنا نقطہ نظر بیان کیا اور متعدد امور پر اتفاق کیا۔

انہوں نے کہا کہ طویل اجلاس میں متفقہ طور پر متعدد قراردادیں منظور کی گئیں۔

وفاقی بجٹ مسترد

مشترکہ پریس کانفرنس میں شہباز شریف،بلاول بھٹو بھی شریک تھے — فوٹو: ڈان نیوز
مشترکہ پریس کانفرنس میں شہباز شریف،بلاول بھٹو بھی شریک تھے — فوٹو: ڈان نیوز

اجلاس نے بجٹ 2019 کو عوام دشمن، تاجر دشمن، صنعت دشمن اور تعلیم و صحت دشمن قرار دے کر مسترد کردیا اور اتفاق کیا کہ اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتیں اس کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کریں گی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ عوام کو جعلی مینڈیٹ، دھاندلی زدہ اور نااہل حکومت کی پیدا کردہ اذیت ناک مہنگائی اور معاشی مشکلات کے کرب سے نجات دلانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی اور اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں تمام سیاسی جماعتیں عوامی رابطہ مہم شروع کریں گی، تاکہ رائے عامہ کو عوام دشمن ایجنڈے کے خلاف منظم کیا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیرستان سے تعلق رکھنے 2 اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کیے جائیں تاکہ وہ پارلیمنٹ میں اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پارلیمانی، آئینی اور سول حکمرانی کی بالادستی پر زور دیا ججز کے خلاف سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ریفرنسز کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ ان ریفرنسز کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔

سربراہ جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ اجلاس نے عدلیہ میں اصلاحات، ججز کی تقرری کے طریقہ کار پر نظر ثانی اور سوموٹو اختیارات کے استعمال سے متعلق قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔

'دھاندلی زدہ' انتخابات کے خلاف یوم سیاہ منانے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں اپوزیشن کے تمام اراکین نے عام انتخابات 2018 میں ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات سے متعلق بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی سے فی الفور مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس کمیٹی کو جان بوجھ کر غیر فعال بنایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ 25 جولائی 2019 کو 'دھاندلی زدہ' انتخابات کے خلاف متفقہ طور پر 'یوم سیاہ' بنایا جائے گا۔

رہبر کمیٹی کے قیام اور چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کا فیصلہ

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اجلاس نے فیصلہ کیا کہ ایک کُل جماعتی 'رہبر کمیٹی' تشکیل دی جائے گی جو آئندہ کی مشترکہ حکمت عملی اور اس اعلامیہ کے نکات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس نے فیصلہ کیا کہ سینیٹ کے موجودہ چیئرمین کو آئینی اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے ہٹایا جائے گا اور ان کی جگہ نیا چیئرمین لایا جائے گا، جبکہ رہبر کمیٹی سینیٹ کے نئے چیئرمین کے لیے متفقہ امیدوار کا نام بھی تجویز کرے گی۔

لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قانون سازی کا مطالبہ

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا کہ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قانون سازی کی جائے، وہ لوگ جو سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں اور کسی عدالت میں پیش نہیں کیے گئے ان کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے، جبکہ تشدد کے استعمال کے خلاف قانون سازی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں رہنماؤں نے سابقہ قبائلی علاقہ جات میں 20 جولائی کو صوبائی اسمبلی کے ہونے والے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کے حالیہ نوٹی فکیشن، جس کے تحت فوج کو پولنگ اسٹیشنز کے اندر تعینات کرنے اور سمری ٹرائل کا اختیار دیا گیا ہے، کی مخالفت کی اور مطالبہ کیا کہ یہ نوٹی فکیشن فی الفور واپس لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس نے میڈیا پر اعلانیہ و غیر اعلانیہ پابندیوں اور سنسرشپ کی مذمت کی اور ان پابندیوں کو فوری ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

قرضوں سے متعلق انکوائری کمیشن مسترد

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ اداروں کو ملکی سیاست میں ہرگز مداخلت نہیں کرنی چاہیے، اجلاس نے مجوزہ قرض انکوائری کمیشن کو مسترد کیا، اسے پارلیمان پر حملہ، غیر آئینی و غیر قانونی قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام حقائق کو عوام کے سامنے لانے کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جس میں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کی تعداد برابر ہو اور 2000 سے لے کر اب تک تمام گرانٹس اور قرضہ جات کے حصول اور اس کے استعمال کی تحقیقات کرے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس نے قرار دیا کہ مجوزہ قومی ڈیولپمنٹ کونسل (این ڈی سی) ایک غیر ضروری ادارہ ہے جس کی قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کی موجودگی میں کوئی ضرورت نہیں، یہ اقدام اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش ہے جسے اجلاس نے مسترد کیا۔

اپوزیشن کی 'اے پی سی'

کثیرالجماعتی کانفرنس میں بلاول بھٹو بھی شریک ہوئے —فوٹو: جاوید حسین
کثیرالجماعتی کانفرنس میں بلاول بھٹو بھی شریک ہوئے —فوٹو: جاوید حسین

قبل ازیں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی میزبانی میں اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس وفاقی دارالحکومت میں منعقد ہوئی، جس میں بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے وفود نے شرکت کی۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ممکنہ طور پر حکومت مخالف احتجاجی تحریک کو ایک پلیٹ فارم سے شروع کرنے، بجٹ کی منظوری رکوانے اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے کثیرالجماعتی کانفرنس منعقد ہوئی۔

بجٹ پر ووٹنگ کے عمل کے دوران اپنے اراکین قومی اسمبلی کی موجودگی یقینی بنانے کے نقطہ نظر کے ساتھ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) جے یو آئی ف کی میزبانی میں مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت کی۔

کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے وفد کی قیادت شہباز شریف جبکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شرکت کی۔

فضل الرحمٰن نے شہباز شریف کا استقبال کیا—فوٹو: مسلم لیگ (ن)
فضل الرحمٰن نے شہباز شریف کا استقبال کیا—فوٹو: مسلم لیگ (ن)

خیال رہے کہ کانفرنس سے قبل قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس ہوا تھا، جس کی صدارت قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کی، اس اجلاس میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، مولانا اسعد محمود اور دیگر شریک ہوئے تھے، ان اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری کا کثیر الجماعتی کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس میں عوامی نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی، نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما بھی شریک ہیں، تاہم اپوزیشن بینچز پر بیٹھنے والی جماعت اسلامی نے پہلے ہی خود کو اس کثیر الجماعتی کانفرنس سے دور کرلیا تھا جبکہ اسی طرح حکومتی بینچوں پر بیٹھنے کے باوجود اپوزیشن اجلاسوں میں شریک رہنے والی بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کانفرنس میں شرکت سے متعلق تذبذب کا شکار تھی، تاہم بعد ازاں انہوں نے اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: جے یو آئی (ف) کا 'آل پارٹیز کانفرنس' 26 جون کو بلانے کا اعلان

کانفرنس میں جو اہم رہنما شریک ہوئے ان میں مسلم لیگ (ن) سے شہباز شریف، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق اور راجا ظفر اللہ ہیں، پیپلزپارٹی کے اہم رہنماؤں میں یوسف رضا گیلانی، شیری رحمٰن، رضا ربانی، قمر زمان کائرہ، فرحت اللہ بابر ہیں، اس کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی سے اسفند یار ولی خان، میاں افتخار اور امیر حیدر خان ہوتی ہیں جبکہ نیشنل پارٹی سے ان کے صدر میر حاصل خان بزنجو، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی اور قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب شیرپاؤ و دیگر شامل تھے۔

شہباز شریف کی رہبر کمیٹی کے قیام کی تجویز

شہباز شریف نے مختلف تجاویز پیش کیں—فوٹو: مسلم لیگ (ن)
شہباز شریف نے مختلف تجاویز پیش کیں—فوٹو: مسلم لیگ (ن)

کانفرنس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے ’رہبر کمیٹی‘ کے قیام کی تجویز دی، جو میثاق معیشت اور قومی چارٹر تیار کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ میں موجودہ بجٹ سے زیادہ بدترین بجٹ نہیں دیکھا، حکومت کے ہاتھ روکنے کے لیے اسمبلی کے اندر اور باہر کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

مولانا فضل الرحمٰن کی اجتماعی استعفوں کی تجویز

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا قومی احتساب بیورو (نیب) کی کارروائیاں جانبدارانہ ہے، وقت آگیا ہے کہ ہم یک زبان ہو کر فیصلے کریں۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے کانفرنس میں اجتماعی استعفوں کی تجویز دی گئی اور کہا گیا کہ اس پر بھی بحث ہونی چاہیے۔

ذرائع کے مطابق کثیرالجماعتی کانفرنس میں شریک بڑی جماعتوں نے اسمبلیوں سے استعفوں کی تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا۔

اے این پی کا چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کا مطالبہ

ذرائع نے مزید بتایا کہ کانفرنس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کا معاملہ بھی زیر غور آیا، جس پر اے این پی نے انہیں ہٹانے کی تجویز دی۔

ذرائع کے مطابق اسفندیار ولی نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کو تبدیل کیا جانا چاہیے، اپوزیشن نے یہ اقدام نہ اٹھایا تو عوام اعتماد نہیں کرے گی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین نے اس حوالے سے کہا کہ اجتماعی استعفوں، چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی، حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک سمیت دیگر امور پر سفارشات مرتب کرنے کے لیے کمیٹی کے قیام کی تجویز سامنے آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی میں اے پی سی میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں گے، جو آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کرےگی۔

اسمبلیوں سے استعفوں پر عدم اتفاق

آل پارٹیز کانفرنس میں ایک مرتبہ پھر اسمبلیوں سے استعفوں پر اتفاق نہ ہوسکا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور پختونخوا میپ نے استعفوں کی حمایت کی۔

اس حوالے سے تجویز کنندگان نے کہا کہ استعفیٰ دینے سے حکومت شدید ترین دباؤ میں آجائے گی۔

ذرائع نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) استعفوں کی فی الوقت حامی نہیں، دونوں جماعتوں کا موقف ہے کہ ہمیں اتنی جلدی حکومت کو مظلوم نہیں بننے دینا چاہیے۔

دونوں جماعتوں نے کہا کہ استعفے ایک آپشن ضرور ہے لیکن یہ آخری آپشن ہونا چاہیے، ہمیں پہلے مرحلے پر ایوان کے اندر اور باہر احتجاج کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ احتجاج اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے جو حکمت عملی مرتب کی جائے گی، اسے قبول کریں گے۔

ذرائع نے کہا کہ حتمی فیصلہ تمام تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے متفقہ اعلامیہ میں شامل کیا جائے گا،

ہماری لڑائی عمران خان سے نہیں انہیں سلیکٹ کرنے والوں سے ہے، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ایسا اقدام اٹھائیں کہ عمران خان تو جائے لیکن ایسا کوئی شخص پھر نہ آسکے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت بدحالی کا شکار ہے اور عوام ہماری جانب دیکھ رہے ہیں، آج اگر صحیح فیصلے نہیں کیے تو قوم ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

مریم نواز نے کہا کہ ہماری لڑائی عمران خان سے نہیں انہیں سلیکٹ کرنے والوں سے ہے۔

مضبوط فورم تشکیل دے کر فیصلہ کرنا ہوگا، حاصل بزنجو

نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو نے کہا کہ جب تک اس ملک کو سیکیورٹی اسٹیٹ سے ویلفیئر اسٹیٹ نہیں بنایا جائے گا ملک ترقی نہیں کرسکتا، نیب انہی اداروں کے ماتحت کام کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مضبوط فورم تشکیل دے کر فیصلہ کرنا ہوگا ورنہ قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔

قبل ازیں ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی قیادت میں ان کی جماعت کا وفد کثیرالجماعتی کانفرنس میں شریک ہوگا جبکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کانفرنس کے لیے 5 رکنی وفد کو نامزد کیا تھا۔

وفد کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ کانفرنس میں شہباز شریف کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کا وفد مریم نواز شریف، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، پارٹی چیئرمین راجا ظفر الحق، سیکریٹری جنرل احسن اقبال اور تمام صوبائی صدور پر مشتمل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کو بجٹ منظور نہیں کرانے دیں گے، اپوزیشن رہنماؤں کا اتفاق

اسی طرح پیپلزپارٹی کے وفد کی نمائندگی سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی اور نیئر بخاری، شیری رحمٰن اور فرحت اللہ بابر کو دی تھی۔

تاہم پی پی رہنما شیریٰ رحمٰن نے ڈان کو بتایا تھا کہ کانفرنس کے آغاز سے قبل وفد میں تبدیلی ہوسکتی ہے کیونکہ بلاول بھٹو زرداری نے پیپلزپارٹی کا ایک اجلاس طلب کیا، جس میں پارٹی کی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائے گی کہ کس طرح قومی اسمبلی میں بجٹ کو مسترد کیا جائے۔

علاوہ ازیں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جارہا تھا کہ اگر اپوزیشن حکومت مخالف تحریک شروع کرنےمیں سنجیدہ ہے تو اسے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانی چاہیے۔

تاہم پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن)، اس مطالبے کو ماننے سے گریزاں نظر آئی تھیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ حتمی فیصلہ کثیر الجماعتی کانفرنس میں کیا جائے گا۔