حکومت کی ایمنسٹی اسکیم سے ایک لاکھ 10 ہزار افراد مستفید ہوئے

04 جولائ 2019

ای میل

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی اعلان کردہ اسکیم کے تحت 83 ہزار افراد نے فائدہ اٹھایا تھا —فائل فوٹو: اے ایف پی
مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی اعلان کردہ اسکیم کے تحت 83 ہزار افراد نے فائدہ اٹھایا تھا —فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: ایمنسٹی اسکیم میں واضح کمی کے باوجود تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار افراد نے اپنے اثاثے ظاہر کرتے ہوئے ٹیکس ریٹرنز فائل کرتے ہوئے 3 جولائی تک 55 ارب روپے جمع کروادیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مختلف ذرائع نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ایمنسٹی اسکیم میں زیادہ تر انکم ٹیکس کے نان فائلرز کی جانب سے دلچسپی میں اضافہ دیکھا گیا۔

تاہم اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کے تحت جمع ہونے والے آمدنی توقع سے کم رہی۔

یہ بھی پڑھیں: ایمنسٹی اسکیم کے بعد کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، وزیراعظم

قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی اعلان کردہ اسکیم کے تحت 83 ہزار افراد نے فائدہ اٹھایا تھا اور تقریباً ایک ارب 24 کروڑ روپے جمع ہوئے تھے۔

اثاثے ظاہر کرنے کی حالیہ اسکیم 14 مئی 2019 کو متعارف کروائی گئی تھی اور 30 جون کو اختتام پذیر ہونی تھی تاہم حکومت نے اس میں 3 جولائی تک توسیع کردی تھی تا کہ جنہوں نے اس اسکیم سے استفادہ نہیں کیا وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھا لیں۔

اس اسکیم کے تحت 3 نمایاں فوائد حاصل ہوئے جس میں سے ایک یہ کہ بڑی تعداد میں چھوٹے شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس سے فائدہ اٹھایا۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف، ایمنسٹی اسکیم میں توسیع کا مخالف

گزشتہ 10 دن کے دوران مجموعی تعداد میں تقریباً ایک لاکھ ٹیکس ریٹرنز کا اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں ٹیکس ریٹرنز کی تعداد ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 20 لاکھ تک پہنچ گئی۔

گزشتہ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے 60 فیصد افراد کا تعلق کراچی جبکہ 30 فیصد کا لاہور سے تھا جس کے بعد اسلام آباد تیسرے نمبر پر تھا جہاں کے شہریوں نے اسکیم سے استفادہ کیا، ان میں زیادہ افراد امیر تھے جنہوں نے اپنے بھاری اثاثوں کو سفید دھن بنایا۔

اسکیم کا تیسرا فائدہ یہ ہوا کہ زیادہ تر افراد نے مقامی کرنسی بینکوں میں جمع کروائی اس کے ساتھ غیر ملکی کرنسی رکھنے والوں نے بھی اسے بینک میں جمع کروادیا۔

بے نامی قانون کا نفاذ

اسلام کے آباد کے ٹیکس حکام نے بےنامی قانون کے برائے سال 2017 کے تحت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چوہدری تنویرکو 6 ہزار کنال کی بے نامی جائیدادوں کی ملکیت کے حوالے سے 90 روز میں 6 احکامات جاری کیے اور اب اس معاملے کا مقدمہ چلایا جائے گا۔

اسی طرح کراچی میں اومنی گروپ کے کیسز میں جائیدادوں کی ملکیت کے حوالے سے 8 احکامات جاری کیے گئے جس میں زیادہ تر سابق صدر آصف علی زرداری کی ملکیت میں ہیں۔

مذکورہ جائیداد 90 روز تک منسلک رہے گی جس کے بعد متعلقہ حکام 90 روز میں اس کی ملکیت کا فیصلہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: 'ایمنسٹی اسکیم میں 2 فیصد سیلز ٹیکس ادا کرکے واجبات کلیئر کروائے جاسکتے ہیں'

ان جائیدادوں کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے درج کردہ مقدمات کی روشنی میں منسلک کیا گیا۔

یکم جولائی کو حکومت نے انسداد بے نامی ٹرانزیکشن قانون برائے سال 2017 کے تحت بے نامی جائیدادوں کے حوالے سے لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں 3 مرکزی زونز اور 11 ذیلی زونز قائم کیے تھے۔

خیال رہے کہ ایف بی آر ایسے شہریوں کی جائیداد ضبط کرلے گا جنہوں نے حکومتی ایمنسٹی اسکیم کے تحت اپنے اثاثے ظاہر نہیں کیے۔