عمران خان اپنے ہتھکنڈوں سے باز آجاؤ ورنہ قوم حساب لے گی، شہباز شریف

04 جولائ 2019

ای میل

شہباز شریف پارٹی کارکنان سے یکجہتی کے لیے کوٹ لکھپت جیل پہنچے تھے—اسکرین شاٹ
شہباز شریف پارٹی کارکنان سے یکجہتی کے لیے کوٹ لکھپت جیل پہنچے تھے—اسکرین شاٹ

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے سیاسی کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل میں سزا کاٹنے والے نواز شریف سے روکنے پر وزیر اعظم پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ عمران خان اپنے فاشسٹ ہتھکنڈوں سے باز آجاؤ ورنہ وہ وقت دور نہیں جب قوم تم سے ایک ایک بات کا حساب لے گی۔

العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید کاٹنے والے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف سے ہفتہ وار ملاقات کے لیے درجنوں مسلم لیگی کارکنان اور حمایتی کوٹ لکھپت جیل کے باہر جمع ہوئے، جو جیل کے باہر کیمپ لگانے کے لیے کرسیاں اور ٹینٹ ساتھ لائے تھے۔

تاہم پولیس اہلکاروں نے کارکنان کو جیل کے بیرونی حصے سے آگے آنے سے روک دیا اور کرسیاں اور میزیں ہٹا دیں۔

مزید پڑھیں: ’رانا ثنااللہ کو کچھ ہوا تو عمران خان ذمہ دار ہوں گے‘

نواز شریف سے ملاقات کے لیے کارکنان کی آمد کے پیش نظر اضافی سیکیورٹی اقدامات کیے گئے تھے اور کوٹ لکھپت جیل کو آنے والے راستے پر اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔

اس موقع پر کارکنان کو اندر نہ جانے دینے پر شہباز شریف نے سخت تنقید کی اور کہا کہ ’میں فاشسٹ عمران خان کو خبردار کرتا ہوں کہ وہ اپنے فاشسٹ ہتھکنڈوں سے باز آؤ اور ان کارکنان کو نواز شریف سے ملنے دو ورنہ وہ وقت دور نہیں جب لوگ ہر چیز کا حساب لیں گے‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ منشیات کیس میں گرفتار مسلمم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ کو تمام ’بنیادی سہولیات‘ سے محروم رکھا جارہا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ وقت دور نہیں جب آپ کو عوام کی عدالت میں پیش ہونا پڑے گا‘۔

واضح رہے کہ نواز شریف سے ملاقات کے لیے ان کے بھائی شہباز شریف، بیٹی مریم نواز سمیت درجن کے قریب لیگی رہنما سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، خواجہ آصف اور دیگر اراکین موجود تھے۔

تاہم جیل انتظامیہ نے صرف نواز شریف کے اہل خانہ کے اراکین شہباز شریف اور مریم نواز کو ان سے ملنے کی اجازت دی۔

بعد ازاں جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج تیسرا ہفتہ ہے کہ نواز شریف سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، آج 40 سے زائد اراکین اسمبلی اور سینیٹرز ملنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 'اپنی ترقی کے سفر پر فخر ہے، دھمکیوں اور گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے'

انہوں نے کہا کہ فسطائی ہتھکنڈوں سے آزمایا جا رہا ہے، آج ’سلیکٹڈ‘ حکومت ہے، ہم نے ان کا مقابلہ کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جیل ہمارے دیکھے ہوئے ہیں، آج بھی سیاست کا محور نواز شریف ہیں، جنہوں نے ملک کی خدمت کی اور عوامی مسائل حل کیے۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نیب اور دیگر کیسز کی حقیقت کو سب جانتے ہیں لیکن ہم عوام کے حق کی جنگ لڑتے رہیں گے۔