والد سے ہفتے میں دو روز ملنے کی اجازت دی جائے، مریم نواز کا عدالت سے رجوع

اپ ڈیٹ 04 جولائ 2019

ای میل

والد سے ہفتے میں دو روز ملاقات کے لیے وقت مختص کرنے کا حکم دیا جائے، مریم نواز کی عدالت سے استدعا — فائل فوٹو / اے ایف پی
والد سے ہفتے میں دو روز ملاقات کے لیے وقت مختص کرنے کا حکم دیا جائے، مریم نواز کی عدالت سے استدعا — فائل فوٹو / اے ایف پی

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سابق وزیر اعظم اور والد نواز شریف سے ہفتے میں دو روز ملاقات کی اجازت کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا۔

مریم نواز کی لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں پنجاب حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔

مریم نواز نے وکیل اعظم نذیر تارڑ اور بیرسٹر اسد اللہ چٹھہ کے توسط سے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔

درخواست میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے نواز شریف سے ہفتے میں صرف ایک روز ملاقات کی اجازت دی گئی ہے، نواز شریف دل سمیت متعدد عارضوں میں مبتلا ہیں اور پنجاب حکومت کی جانب سے ملاقات کا ایک دن طے کیا جانا غیر قانونی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف سے والدہ اور مریم نواز کی کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے نواز شریف سے کارکنوں اور پارلیمنٹرینز کی ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ نواز شریف پر جیل حکام کی جانب سے پابندیاں خلاف قانون اور غیر آئینی ہیں۔

مریم نواز نے عدالت سے استدعا کی کہ والد سے ہفتے میں دو روز ملاقات کے لیے وقت مختص کرنے کا حکم دیا جائے۔

واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے سیاسی رہنماؤں کی نواز شریف سے جیل میں ملاقات کرنے پر پابندی عائد کردی تھی۔

قبل ازیں جمعرات کو ملاقات کے روز مریم نواز، شہباز شریف اور دیگر اہل خانہ نواز شریف سے ملاقات کے لیے کوٹ لکھپت جیل پہنچے تھے۔

سابق وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف اور احسن اقبال سمیت دیگر لیگی رہنما بھی کوٹ لکھپت جیل پہنچے، تاہم انہیں ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

نواز شریف سے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر کارکنوں کی جیل اہلکاروں کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے انہیں پیچھے دھکیل دیا تھا۔