فیس بک کا وہ 'راز' جو پہلی بار صارفین کے سامنے آگیا

04 جولائ 2019

ای میل

فیس بک کی اس ٹیکنالوجی کا علم بہت کم افراد کو تھا — اے ایف پی فوٹو
فیس بک کی اس ٹیکنالوجی کا علم بہت کم افراد کو تھا — اے ایف پی فوٹو

فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی سروسز گزشتہ روز متاثر ہوئی تھیں جس کے دوران صارفن کو تصاویر پوسٹ کرنے میں مسائل کا سامنا ہوا۔

لگ بھگ 9 سے 10 گھنٹے طویل اس خرابی کو جمعرات کو علی الصبح ٹھیک کیا گیا تھا۔

سروس میں خرابی کے دوران فیس بک اور انسٹاگرام نیوزفیڈ پر تصاویر لوڈ نہیں ہورہی تھیں جبکہ پہلے سے پوسٹ تصاویر نظر نہیں آرہی تھیں، مگر اس کے نتیجے میں کروڑوں افراد کو پہلی بار معلوم ہوا کہ فیس بک کے اے آئی نظام ان کی تصاویر کو کیسے دیکھتا ہے۔

یعنی تصویر تو نظر نہیں آرہی تھی مگر وہ کیپشن ضرور نظر آرہا تھا جو فیس بک کے اے آئی نظام آپ کی تصویر کو دیتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ وہ بتاتا ہے کہ اس کے خیال میں تصویر میں کسے دکھایا گیا ہے۔

یہ کیپشن یا ٹیگ ٹوئٹر پر متعدد صارفین نے شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی تصاویر کو فیس بک کے آرٹی فیشل انٹیلی جنس نظام کو کس طرح ٹیگ کیا۔

جیسے ایک ٹوئٹر صارف اور معروف ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹیک کرنچ کے ایک ایڈیٹر زیک وائٹیکر نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی تصویر پر جو وضاحت لکھی تھی، اس کے بعد اس میں ایک داڑھی والا شخص نظر آرہا ہے۔

درحقیقت فیس بک صارفین کی جانب سے پوسٹ کی گئی تمام تصاویر کو چہرے اور امیج شناخت کرنے والے سافٹ وئیر کی مدد سے اسکین کرتا ہے اور اندازہ لگاتا ہے کہ اس تصویر میں کون ہے یا اس میں کیا دکھایا گیا ہے۔

اس کے بعد ان تصاویر پر وہ وضاحت درج ہوتی ہے جس کا مقصد نابینا یا خراب بینائی کے حامل افراد تصویر میں لوگوں یا چیزوں کو شناخت کرسکیں۔

آسان الفاظ میں فیس بک مشین لرننگ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے تصاویر کو شناخت کرتی ہے اور اس کی وضاحت نابینا افراد کو بلند آواز میں سناتی ہے، گزشتہ روز فیس بک کے سسٹ میں مسائل کے نتیجے میں دیگر کروڑوں افراد کو بھی پہلی بار یہ وضاحت خود دیکھنے کا موقع ملا۔

اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ فیس بک اپنے صارفین کے بارے میں کتنا زیادہ ڈیٹا جمع کرتی ہے اور کروڑوں افراد کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

اے آئی ٹیکنالوجی کی بدولت اب فیس بک عام سی تصاویر سے بھی بہت زیادہ معلومات اکٹھا کرسکتی ہے۔