حاصل بزنجو چیئرمین سینیٹ کیلئے اپوزیشن کے متفقہ امیدوار نامزد

اپ ڈیٹ 11 جولائ 2019

ای میل

رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد اکرم درانی نے فیصلے سے آگاہ کیا—اسکرین شاٹ
رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد اکرم درانی نے فیصلے سے آگاہ کیا—اسکرین شاٹ

اپوزیشن کی حکومت مخالف ’رہبر کمیٹی‘ نے چیئرمین سینیٹ کے لیے متفقہ طور پر نیشل پارٹی (این پی) کے سربراہ سینیٹر میر حاصل خان بزنجو کو نامزد کردیا۔

اس بات کا فیصلہ اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اکرم درانی کی سربراہی میں ہونے والے رہبر کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنما شاہد خاقان عباسی، فرحت اللہ بابر، نیر بخاری، عثمان کاکڑ، احسن اقبال اور دیگر شریک ہوئے۔

بعد ازاں اکرم درانی نے صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب نے اتفاق رائے سے چیئرمین سینیٹ کے لیے میر حاصل بزنجو کا نام تجویز کیا ہے اور تمام اپوزیشن جماعتیں انہیں ووٹ دیں گی۔

مزید پڑھیں: تحریک عدم اعتماد: کسی صورت استعفیٰ نہیں دوں گا، چیئرمین سینیٹ

انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ ہم میر حاصل بزنجو کو بڑی کامیابی سے چیئرمین سینیٹ بنائیں گے۔

نواز شریف نے بلوچستان کے عوام کو یاد رکھا، حاصل بزنجو

علاوہ ازیں میر حاصل بزنجو نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور اور چیئرمین سینیٹ نامزد کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

بعد ازاں حاصل بزنجو نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے مجھ پر اعتماد کیا جو قابل ستائش ہے، نواز شریف نے اکثریتی جماعت ہوکر بلوچستان کے عوام کو یاد رکھا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے میرے اوپر اعتماد کیا ہے یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے، میں اپوزیشن کے اس اعتماد پر پورا اتروں گا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن میں ہار جیت ہوتی ہے، جو اعتماد مجھ پر ہوا ہے میں جیت گیا ہوں، میری نامزدگی کے بعد مجھے بلوچستان سے بہت سے ووٹ ملیں گے۔

دوران گفتگو ان سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ حکومتی جماعتوں سے بھی ووٹ مانگیں گے؟ جس پر انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن لڑنے والے لوگ ہیں، جو گھر ووٹ نہ دے وہاں بھی دستک دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ 5 جولائی کو ’رہبر کمیٹی‘ مشترکہ امیدوار کے نام پر اتفاق نہیں کرسکی تھی اور اکرم درانی نے کہا تھا کہ مزید مشاورت کے بعد حتمی نام کا اعلان 11 جولائی کو کیا جائے گا۔

اس سے قبل اپوزیشن جماعتوں نے 26 جون کو ہونے والی کثیرالجماعتی کانفرنس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا، اس اقدام کو پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے پہلے قدم کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔

کثیر الجماعتی کانفرنس میں اپوزیشن کی جانب سے حکومت مخالف ایک رہبر کمیٹی بنانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد سینیٹ کے اپوزیشن اراکین نے 9 جولائی کو ایوان بالا میں چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد جمع کروائی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ سینیٹ میں کام کے طریقہ کار کے رولز میں (چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین کو ہٹانے) کے لیے شامل رول 12 کے تحت صادق سنجرانی کو ہٹایا جائے۔

تاہم اس قرارداد کے بعد چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا تھا کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنے عہدے سے نہیں جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف قرارداد جمع کروادی

صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ ’تحریک عدم اعتماد جمہوری حق ہے، مجھے اس جمع کروائی گئی قرارداد پر کوئی تحفظات نہیں ہیں لیکن میں ادھر موجود رہ کر اپنے فرائض انجام دیتا رہوں گا‘۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ یہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے ایک قرارداد پیش کی گئی ہے۔

سینیٹ نمبر گیم

خیال رہے کہ موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی نے گزشتہ برس 12 مارچ کو پی پی پی اور پاکستان تحریک انصاف کی حمایت سے 57 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے راجا ظفر الحق کو 46 ووٹ ملے تھے۔

صادق سنجرانی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے چیئرمین سینیٹ ہیں جبکہ اپوزیشن کی جانب سے نامزد کیے گئے حاصل بزنجو کا تعلق بھی اسی صوبے سے ہے۔

سینیٹ کی بات کی جائے تو وہاں مسلم لیگ (ن) کے پاس اب بھی اکثریت ہے، حیران کن طور پر مارچ 2018 میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے (ن) لیگ نے سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کو دوبارہ منتخب کرنے کے لیے پی پی پی کو مدد کی پیشکش کی تھی تاہم بعد ازاں انہوں نے پی ٹی آئی سے ہاتھ ملا لیا تھا۔

مزید پڑھیں: میر حاصل خان بزنجو کون ہیں؟

ایوان میں چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے 53 ووٹوں کی اکثریت درکار ہوگی، جس کے لیے اس وقت پی پی پی، مسلم لیگ (ن)، نیشنل پارٹی اور جمعیت علما اسلام (جے یو آئی ف) کے 46 ارکان ہیں جبکہ 29 آزاد امیدوار ہیں۔

اس کے علاوہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے 2 اراکین ہیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور پی ایم ایل فنکشنل کا ایک، ایک رکن ہے۔

تاہم حکمران جماعت پی ٹی آئی کے 14 اراکین، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے 5 اور جماعت اسلامی (جے آئی) کے 2 سینیٹرز ہیں۔

میرحاصل بزنجو کا سیاسی سفر

بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل نال میں 3 فروری 1958 کو پیدا ہونے والے میر حاصل بزنجو، بلوچستان کے پہلے سیاسی گورنر اور بلوچ نظریات کے حامل میر غوث بخش بزنجو کے بیٹے ہیں۔

انہوں نے 87-1986 میں کراچی یونیورسٹی سے فلسفے میں بی اے آنرز کی ڈگری حاصل کی۔

11 اگست 1989 کو اپنے والد کی وفات کے بعد میر حاصل بزنجو نے پاکستان نیشنل پارٹی (پی این پی) میں شمولیت اختیار کی۔

وہ 1990 کے ضمنی انتخابات میں خضدار اور آواران سے پہلی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

تاہم 1993 کے عام انتخابات میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

1997 میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے۔

اسی سال وہ بلوچستان نیشنل پارٹی کو چھوڑ کر منحرف اراکین کے گروپ بلوچستان ڈیموکریٹک پارٹی میں شامل ہوگئے۔

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور اقتدار میں میر حاصل بزنجو نے ملک میں پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کی۔

آئین و قانون کی بالادستی کی اس جدوجہد کے دوران انہیں کئی روز جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی گزارنے پڑے۔

2003 میں نئی سیاسی جماعت نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔

2008 میں عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور 2009 میں سینیٹر منتخب ہوئے۔

2013 میں بلوچستان میں نیشنل پارٹی، مسلم لیگ (ن) کی مدد سے اقتدار میں آئی اور یوں اس کی قیادت نے قومی توجہ حاصل کی، میر حاصل بزنجو 2014 میں اس کے صدر بنے۔

میر حاصل بزنجو2015 میں دوبارہ سینیٹر منتخب ہوئے جبکہ وفاقی وزیر برائے بندرگاہ و جہاز رانی بھی تھے۔

میر حاصل بزنجو نے 2018 میں عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔