’لارڈز کا معجزہ‘، انگلینڈ بن گیا ورلڈ چیمپیئن

اپ ڈیٹ 15 جولائ 2019

ای میل

فٹ بال کے بعد کرکٹ دنیا کا دوسرا مقبول ترین کھیل ہے جس کے پرستاروں کی تعداد بلاشبہ اربوں میں ہے۔ دوسرے کئی کھیلوں کی طرح کرکٹ کی ایجاد کا سہرا بھی انگلینڈ ہی کے سر جاتا ہے، اور آج فٹ بال کی تمام تر مقبولیت کے باوجود بھی انگلینڈ کا قومی کھیل کرکٹ ہی ہے۔

لیکن ’بابائے کرکٹ‘ کی بدقسمتی تو دیکھیں کہ وہ اس کھیل کا سب سے بڑا اعزاز 'ورلڈ کپ' کبھی نہیں جیت پایا۔ فٹ بال میں تو یہ کسی نہ کسی طرح 1966ء میں ایک بار چیمپیئن بن ہی گیا تھا لیکن کرکٹ میں تو نجانے کس ’فقیر‘ کی بددعا تھی کہ 3 بار فائنل میں پہنچ کر بھی ٹرافی نصیب نہ ہوئی۔

ورلڈ کپ 1979ء میں اسی لارڈز کے میدان پر ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست کھائی۔ 1987ء میں میدان اور حریف بدل گئے لیکن قسمت نہ بدلی اور کلکتہ میں آسٹریلیا ٹرافی لے اُڑا۔ پھر 1992ء میں پاکستان آڑے آگیا کہ جس کا غم آج تک انگلینڈ کے کھلاڑیوں کو کھائے جاتا ہے اور این بوتھم آج بھی دیوانہ وار کہتے پھرتے ہیں کہ ’ہم ہارے نہیں تھے، ہم سے تو ورلڈ کپ چھینا گیا تھا۔‘ پاکستان کے ہاتھوں یہ شکست تو انگلینڈ کے اعصاب پر ایسی طاری ہوئی کہ اگلے 27 سال تک وہ فائنل تک کُجا سیمی فائنل تک میں بھی نہیں پہنچ سکا۔

مزید پڑھیے: ’پوری زندگی ولیمسن سے معافی مانگتا رہوں گا‘

پھر 2019ء انگلینڈ کے لیے رحمت کا سال بن کر آیا۔ ون ڈے کرکٹ میں سالہا سال کی عمدہ کارکردگی اور عالمی رینکنگ میں نمبر وَن بننے کے بعد کئی ماہرین کی نظر میں انگلینڈ ورلڈ کپ کے لیے فیورٹ تھا۔

آدھے مرحلے تک تو سب کچھ توقعات کے مطابق چل رہا تھا، اور انگلینڈ کو سوائے پاکستان کے کوئی زیر نہ کر پایا تھا، لیکن سری لنکا کے ہاتھوں ایک اہم مقابلے میں شکست اور دوسری جانب پاکستان کا اچانک پے در پے کامیابیاں حاصل کرنا اس کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا چکا تھا۔ حالات اس نہج پر آگئے کہ انگلینڈ کے لیے پہلے مرحلے کے آخری دونوں میچ جیتنا اب ناگزیر ہوچکے تھے، ایسا نہ ہونے کی صورت میں پچھلی بار کی طرح اس مرتبہ بھی سیمی فائنل سے پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہوجاتے۔ پھر یہ مقابلے تھے بھی بھارت اور نیوزی لینڈ جیسے مضبوط حریفوں کے خلاف کہ جن سے انگلینڈ کئی سالوں سے ورلڈ کپ کا کوئی میچ نہیں جیت پایا تھا۔

لیکن اس بار انگلینڈ تاریخ کا دھارا پلٹنے کے لیے آیا تھا۔ پہلے ناقابلِ شکست بھارت کو زیر کیا اور پھر نیوزی لینڈ کو روندتا ہوا سیمی فائنل تک پہنچ گیا جہاں روایتی حریف آسٹریلیا ذلت آمیز شکست کھا کر اعزاز کے دفاع میں ناکام ہوگیا۔ انگلینڈ صحیح وقت پر ’ٹاپ گیئر‘ میں آگیا اور 27 سال بعد پہلی بار ورلڈ کپ فائنل تک پہنچ گیا اور اب ضروری تھا ’فائنل کے بھوت‘ کو بوتل میں بند کرنا۔

یاد رکھیں تاریخ کا بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے، یقین نہیں آتا تو پاکستان سے پوچھ لیں کہ جو ورلڈ کپ میں کبھی بھارت کو شکست نہیں دے پایا۔ اس کے لیے بہت ہی غیر معمولی کارکردگی کی ضرورت ہوتی ہے، اجتماعی طور پر بھی اور انفرادی سطح پر بھی۔ انگلینڈ نے تمام مراحل تو بخوبی عبور کرلیے تھے لیکن فائنل میں آکر پھنس گیا۔

242 رنز کے تعاقب میں صرف 86 رنز پر 4 اہم ترین بیٹسمین آؤٹ ہوجانے کے بعد انہیں قسمت ہی شکست سے بچا سکتی تھی، جو اس اہم ترین معرکے میں انگلینڈ کے ساتھ ہی تھی۔ بلکہ میچ کے بعد پریس کانفرنس میں خود انگلش کپتان ایون مورگن نے کہا کہ ’جب میں نے عادل رشید سے بات کی تو اس نے کہا آج اللہ ہمارے ساتھ تھا، تو بالکل آج اللہ بھی ہمارے ساتھ تھا۔‘

بین اسٹوکس اور جوز بٹلر نے 110 رنز کی شراکت قائم کی اور انگلینڈ کو میچ میں واپس لے کر آئے— فوٹو: رائٹرز
بین اسٹوکس اور جوز بٹلر نے 110 رنز کی شراکت قائم کی اور انگلینڈ کو میچ میں واپس لے کر آئے— فوٹو: رائٹرز

بین اسٹوکس نے ناقابل شکست 84 رنز کی اننگز کھیلی اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے— فوٹو: اے ایف پی
بین اسٹوکس نے ناقابل شکست 84 رنز کی اننگز کھیلی اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے— فوٹو: اے ایف پی

تو ایک طرف خدائی مدد اور دوسری جانب بین اسٹوکس کی غیر معمولی اننگز تھی جو کئی سالوں سے اپنے کاندھوں پر تاریخ کا بہت بوجھ اٹھائے ہوئے تھے۔ صرف 3 برس پہلے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء کے فائنل میں بین اسٹوکس 19 رنز کا دفاع کرنے میں ناکام رہے تھے اور حریف بیٹسمین کارلوس بریتھویٹ کے مسلسل 4 چھکوں نے ان کے حوصلے اور کیریئر کا تقریباً خاتمہ کردیا تھا۔

مزید پڑھیے: ورلڈ کپ: انگلینڈ تاریخ کا دھارا بدل کر پہلی بار عالمی چیمپیئن بن گیا

ایسے بھیانک مراحل کے اثرات سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ بھارت کے چیتن شرما کو آج بھی لوگ صرف اس باؤلر کی حیثیت سے جانتے ہیں جس نے شارجہ میں جاوید میانداد سے آخری گیند پر چھکا کھایا تھا۔ تو اسے ہم بین اسٹوکس کی خوش قسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ انہیں نہ صرف انگلینڈ کا بلکہ اپنے کاندھوں کا بوجھ اتارنے کا بھی موقع ملا اور انہوں سے اتار کر دکھایا۔

جوز بٹلر کے ساتھ سنچری پارٹنرشپ اور پھر آخری اوور میں درکار 15 رنز کے لیے ٹرینٹ بولٹ کو لگایا گیا چھکا اور آخری گیند پر مقابلہ ٹائی کرنے میں کامیابی بین اسٹوکس کے فولادی اعصاب کو ظاہر کرنے کے لیے کافی تھی۔

پھر سپر اوور میں بھی وہ خود دوبارہ بیٹنگ کرنے آئے اور نیوزی لینڈ کو 16 رنز کا ہدف دینے میں کامیاب رہے۔ نیوزی لینڈ نے بھی بہت جان لڑائی لیکن آخری گیند پر درکار 2 رنز بنانے میں ناکام رہا اور سپر اوور میں بھی مقابلہ ٹائی ہوگیا۔

میچ کا فیصلہ کن لمحہ جب نیوزی لینڈ کے گپٹل رن آؤٹ ہوئے اور میچ پھر ٹائی ہوگیا— فوٹو: اے پی
میچ کا فیصلہ کن لمحہ جب نیوزی لینڈ کے گپٹل رن آؤٹ ہوئے اور میچ پھر ٹائی ہوگیا— فوٹو: اے پی

میچ میں کامیابی کے بعد انگلش ٹیم کے کھلاڑی اپنی فتح کا جشن منا رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
میچ میں کامیابی کے بعد انگلش ٹیم کے کھلاڑی اپنی فتح کا جشن منا رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

قانون کے مطابق فتح کا فیصلہ باؤنڈریز کاؤنٹ پر ہوا یعنی جس کی اننگز میں باؤنڈریز زیادہ تھیں وہ چیمپیئن قرار پایا یعنی انگلینڈ! یوں انگلینڈ نے ہی نہیں بلکہ اسٹوکس نے بھی ماضی کی زنجیریں توڑ دیں اور تاریخ میں اپنا نام امر کرلیا۔

ویسے انگلینڈ کرکٹ کے ان 4 سالوں پر تو فلم بننی چاہیے۔ کہاں پچھلے ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کے میدانوں پر بدترین شکست اور کہاں لارڈز میں کامیابی؟ کہاں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، سری لنکا حتیٰ کہ بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست کھاکر ورلڈ کپ کے پہلے ہی مرحلے میں باہر ہوجانا اور کہاں اسی ایون مورگن کی قیادت میں پے در پے 4 کامیابیاں سمیٹ کر ورلڈ کپ ٹرافی اٹھانا؟ اور اس فلم کا نام ہونا چاہیے ’لارڈز کا معجزہ‘!