خون ٹیسٹ کروالیں، سگریٹ کا بھی پتہ چلا تو بغیر ٹرائل سزا دیں، رانا ثنااللہ

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2019

ای میل

انسداد منشیات فورس نے رانا ثنااللہ کو منشیات کیس میں گرفتار کیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
انسداد منشیات فورس نے رانا ثنااللہ کو منشیات کیس میں گرفتار کیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز

لاہور کی مقامی عدالت نے منشیات کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنااللہ کی جے جوڈیشل ریمانڈ میں 29 جولائی تک توسیع کر دی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا ہے کہ ان کے خون کا ٹیسٹ کروالیں اور اگر سگریٹ کا بھی پتہ چلے تو بغیر ٹرائل کے انہیں سزا سنا دیں۔

ضلع کچہری میں منشیات کیس کی سماعت کے دوران جیل حکام نے رانا ثنا اللہ کو پیش کیا۔

مزید پڑھیں: رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کے پیچھے جعلی اعظم ہیں، مریم نواز

سماعت کے دوران رانا ثنااللہ کے وکیل نے کہا کہ اس کیس کو کل کے لیے فکس کردیں، جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کی معمول کی تاریخ ڈالیں گے اور انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کو وقت دیں گے کہ وہ چالان جمع کروائیں، اگر مقررہ وقت تک چالان پیش نہیں کیا تو ملزم کے وکیل عدالت کو آگاہ کریں۔

اس موقع پر رانا ثنااللہ نے جج سے مکالمہ کیا کہ انہیں ابھی ریکارڈ نہیں ملا کل ایک ٹیم نے تفتیش کی ہے، تاہم تمام تفصیلات مجھے ابھی تک نہیں دی گئیں جبکہ میرا موقف بھی سرکاری طور پر نہیں لکھا گیا۔

بعد ازاں عدالت نے اے این ایف حکام کو قانون کے مطابق کیس کا چالان جلد جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے جوڈیشل ریمانڈ میں 29 جولائی تک توسیع کردی۔

اس سے قبل عدالت میں پیشی کے موقع پر مسلم لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ سیاسی انتقام کے لیے اے این ایف جیسے اداروں کو استمعال کیا گیا، اے ایف ایف میں فوج کے حاضر سروس افسر کام کرتے ہیں لہٰذا آرمی چیف سے اپیل ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میرا خون کا ٹیسٹ کروا لیں اگر سگریٹ کا بھی پتہ چلے تو مجھے بغیر ٹرائل سزا سنا دیں لیکن نالائق اعظم کا بھی خون ٹیسٹ کروالیں، اگر افیون اور چرس نہ نکلے تو بھی مجھے بغیر ٹرائل سزا دے دیں‘۔

رانا ثنااللہ سے مریم نواز کی فون پر بات

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے رانا ثنا اللہ سے ان کی پیشی کے موقع پر فون پر گفتگو کی اور کہا کہ آپ کو نواز شریف کا ساتھ دینے پر سزا دی جارہی ہے۔

رانا ثنااللہ نے مریم نواز کو کہا کہ میں نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہوں، گھبرایا نہیں اور ان کے ہتھکنڈوں کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا۔

مریم نواز نے احتجاجی مظاہروں کو اعلان بھی کیا ہے جس کے تحت وہ 21 جولائی کو فیصل آباد میں ریلی سے خطاب کریں گی اور رانا ثنا اللہ کے گھر بھی جائیں گی۔

رانا ثنااللہ سے ان کی اہلیہ نبیلہ ثنا اللہ، داماد شہریار، بیٹی اور نواسے نے کیمپ جیل میں ملاقات کی جو دو گھنٹوں سے زیادہ وقت تک جاری رہے۔

کیمپ جیل میں ملاقات کے بعد رانا ثنااللہ خان کی اہلیہ نبیلاثنااللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں رانا ثنااللہ کے لیے حکومت کی کسی سہولت کی ضرورت نہیں، میرے شوہر عام قیدیوں کی طرح کیمپ جیل میں ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور شہباز شریف نے رانا ثنااللہ خان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے اور انہیں حوصلہ بھی دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ رانا ثنااللہ کے حوصلے بلند ہیں اور وہ ڑرنے والے نہیں، پارٹی ہمارے ساتھ ہے اور ہمیں ڈرا دھمکا کر وفاداری تبدیل نہیں کی جا سکتی۔

نبیلہ رانا ثنااللہ نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں پر بہیمانہ تشدد سے بھی کچھ نہیں ہوگا، جو کرنا ہے کر لو کسی کا ڈر نہیں ہے۔

نبیلہ ثنااللہ نے آرمی چیف کے نام ایک شعر بھی پڑھا اور کہا کہ حسین نہیں رہے، حسین کا گھر نہیں رہا، ان کے جانے کے بعد مجھے کسی کا ڈر نہیں رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کو اللہ کے سپرد کیا ہے، ان کے حوصلے بلند ہیں اور آج کے بعد کوئی کھانے کی بات نہیں کرے گا کیونکہ ہمیں سہولتیں نہیں چاہیں اور انہیں جیل میں کسی قسم کی سہولت نہیں دی جا رہی ہے۔

پارٹی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پارٹی میرے ساتھ ہے اور میرا کسی سے کوئی گلہ نہیں۔

یاد رہے کہ یکم جولائی کو مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ کو اے این ایف نے پنجاب کے علاقے سیکھکی کے نزدیک اسلام آباد - لاہور موٹر وے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کو اے این ایف نے گرفتار کرلیا

اس گرفتاری کے بعد ترجمان اے این ایف ریاض سومرو نے بتایا تھا کہ رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے منشیات برآمد ہوئی، جس پر انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔

تاہم اس گرفتاری پر مسلم لیگ (ن) کا سخت ردعمل سامنے آیا تھا اور اس کے پیچھے وزیر اعظم عمران خان کے ہونے کا الزام لگایا تھا۔

بعد ازاں گرفتاری کے بعد رانا ثنا اللہ کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں انہیں 14 روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا تھا۔