مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کو اے این ایف نے گرفتار کرلیا

اپ ڈیٹ 01 جولائ 2019

ای میل

رانا ثنا اللہ کو لاہور سے گرفتار کیا گیا—فائل/فوٹو:ڈان
رانا ثنا اللہ کو لاہور سے گرفتار کیا گیا—فائل/فوٹو:ڈان

پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کو انسداد منشیات فورس (اے این ایف) نے لاہور سے گرفتار کر لیا۔

ترجمان اے این ایف ریاض سومرو نے رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے منشیات برآمد ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ قبضے میں لی گئی منشیات کا وزن کیا جارہا ہے اور اس کی نوعیت اور مقدار کی جانچ پڑتال بھی کی جا رہی ہے۔

ریاض سومرو نے کہا کہ ریجنل ڈائریکٹوریٹ اے این ایف لاہور سے تفصیلات حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے، لیکن اے این ایف کسی کو بلاوجہ گرفتار نہیں کرتی۔

اے این ایف حکام کا کہنا تھا کہ فورس کمانڈر بریگیڈیئر خالد محمود تحقیقاتی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کو اے این ایف کے پولیس اسٹیشن ون میں منتقل کیا گیا ہے اور اس معاملے پر اے این ایف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی، ریجنل ڈائریکٹوریٹ لاہور سے رابطے میں ہے۔

ذرائع کے مطابق رانا ثنااللہ کو پنجاب کے علاقے سیکھکی کے نزدیک اسلام آباد - لاہور موٹر وے سے گرفتار کیا گیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطااللہ تارڑ نے صحافیوں کو بتایا کہ رانا ثنااللہ سے ان کا رابطہ ہوا تھا اور وہ سکھیکی کے علاقے سے لاہور روانہ ہورہے تھے جہاں انہیں ایک اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔

ذرائع کے مطابق رانا ثنا اللہ سے چند روز قبل سرکاری سیکیورٹی بھی واپس لے لی گئی تھی جس کے حوالے سے انہوں نے قومی اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کو بھی تحریری طور پر آگاہ کردیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ رانا ثنااللہ چند روز سے اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا شکار تھے اور سرکاری سیکیورٹی واپس لیے جانے پر نجی گارڈز میں اضافہ کردیا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے رانا ثنااللہ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اس کو انتقامی کارروائی قرار دیا۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ رانا ثنا اللہ کوان کے واضح اور دلیرانہ موقف کی وجہ سے گرفتار کیا گیا جس کے پیچھے جعلی اعظم ہیں۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے سینئر رہنما رانا ثنااللہ کو رواں سال مئی میں پنجاب کا صدر مقرر کیا تھا جبکہ وہ شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کے دوران پنجاب کے وزیر قانون تھے۔