امریکا کی پالیسی دباؤ سے تعاون کی طرف بڑھ رہی ہے،وزیر خارجہ

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2019

ای میل

وزیر خارجہ نے وزیراعظم عمران کے دورے کو ایک نیا موقع قرار دیا—فوٹو:آئی پی آئی
وزیر خارجہ نے وزیراعظم عمران کے دورے کو ایک نیا موقع قرار دیا—فوٹو:آئی پی آئی

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم عمران خان کے متوقع پہلے دورہ امریکا کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کا موقع قرار دیتےہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے دوران امریکا کی پاکستان کے حوالے سے پالیسی دباؤ سے تعاون کی جانب گامزن ہے۔

اسلام آباد آباد پالیسی انسٹیٹیوٹ (آئی پی آئی) کے زیراہتمام ‘پاک-یو ایس ریلشنز: دی وے فارورڈ’ کے عنوان سے کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘پی ٹی آئی کی حکومت کے تحت امریکا کی پاکستان کے حوالے سے دباؤ کی پالیسی بتدریج تعاون کی جانب بڑھ رہی ہے’

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے باہمی فائدہ مند، تعمیری اور تعاون پر مبنی سوچ کے ساتھ بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘وزیراعظم عمران خان کے امریکا کے پہلے دورے میں دونوں ممالک کی قیادت کو دوطرفہ تعلقات کو ازسر نو ترتیب دینے کا موقع ملے گا’۔

وزیر اعظم کے دورہ امریکا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘اس سے پاکستان کو اپنا بیانیہ پیش کرنے اور بھارت کے پراپیگنڈے کے مقابلے کا موقع ملے گا’۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ امریکا نے انٹرا افغان اور خطے میں امن عمل کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔

سیمینار میں شریک سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری، سابق سیکریٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل (ر) آصف یاسین اور جے ایس گلوبل کیپٹل لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹیو محمد کامران ناصر نے سفارتی، سیکیورٹی کے حوالے سے تعلقات اور امریکا سے تعلقات میں معاشی پہلووں پر خطاب کیا۔

سابق سفیر محمد صادق نے سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کا تعاون افغانستان میں امن اور استحکام کے معاہدے لیے اہم ہے۔

محمد صادق نے کہا کہ افغانستان میں امن کے حوالے اگر تمام فریقین متفق ہوبھی جاتے ہیں تو اس پر عمل درآمد کے حوالے سے بڑا امتحان ہوگا۔

اعزاز چوہدری نے کہا کہ امریکی قیادت کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ پاکستان کے چین سے تعلقات کسی ریاست کے خلاف نہیں ہیں اور دونوں ممالک کو اپنے تعلقات کی بحالی اور بہترین بنانے کے لیے کوششیں کرنا ہوں گی۔

اس موقع پر کامران ناصر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی معیشت کو برآمدات کی بنیاد پر لانا ہوگا لیکن اس کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔

پاک-چین اقتصادی راہداری(سی پیک) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مواصلات اور توانائی کے شعبے میں چین کی سرمایہ کاری ہے لیکن مخصوص ٹیکینکل تعاون امریکا سے آرہا ہے۔